آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خدا نے تمام جانداروں کی طرح انسان کو بھی نر اور مادہ کی دو اصناف میں پیدا کیا ہے ۔ یہ دونوں مل کر ہی اولاد پیدا کرسکتے ہیں ۔حیرت انگیز طور پر حالیہ عشرے میں دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں ہم جنس پرستی کو ایک قانون کی شکل دے دی گئی ہے ۔ اب یہ لوگ چھپ کر نہیں ملتے بلکہ ہر سال اپنے پرچم اٹھائے فاتحانہ مارچ کرتے ہیں ۔ پاگل پن کی انتہا ہے کہ مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے شادیاں کر رہی ہیں اور جو شخص اس پہ اعتراض کرتاہے ، اسے انتہا پسند قرار دے دیا جاتاہے ۔ مغرب یہ کہتاہے کہ ہم خدا کے وجود کو صرف ایک شرط پر تسلیم کریں گے اور وہ یہ کہ خدا ہماری ذاتی زندگیوں ، بشمول ہم جنس پرستی میں مداخلت نہ کرے۔یہ الگ بات کہ خدا ، جو ایسی ان گنت تہذیبوں کو فنا کے گھاٹ اتار چکا ، اسے اس دیوانگی سے کیا فرق پڑ سکتاہے ۔ آج کا یہ افسانہ وجودِ خدا (Existence of God) پر لکھا گیا ہے۔ ایسے نیم پاگل انسانوں کے بارے میں ، جو خدا کے وجود کا فیصلہ کرنے اکٹھے ہوئے تھے ۔

’’دنیا کے سب سے بڑے شہر کی سب سے بڑی عدالت میں آج تاریخی نوعیت کے اس مقدمے کا فیصلہ ہونا تھا۔ماضی میں یہ عدالت ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے چکی تھی ۔ آج یہاں خدا کے وجود (Existence of God)کا فیصلہ ہونا تھا۔

گزشتہ سماعت پر ملحدکمیونٹی کے سینئر وکیل رابرٹ کنگ نے دلائل پیش کیے تھے ۔اس نے کہا تھا’’ می لارڈ، یہ بات درست ہے کہ خدا کا تصور شروع ہی سے انسانی ذہن میں موجود رہا ہے لیکن کوئی ایک ٹھوس ثبوت ؟ جہاں تک مخالف وکیل کے اس استفسار کا تعلق ہے کہ خدا کے تصور سے ہم ملحدوں کو کیا تکلیف درپیش ہے تو صاف سی بات یہ ہے کہ خدا ہمیں آزاد نہیں دیکھ سکتا۔وہ اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، شادی بیاہ اور کاروبار ، غرض یہ کہ ہر انسانی سرگرمی میں مداخلت کرتاہے ۔ماضی میں یہ عدالت بنیادی انسانی حقوق، جیسا کہ ہم جنس پرستی اور بغیر شادی کے ساتھ رہنے کو سندِ قبولیت بخش چکی ہے ۔ یہ مگر وہ چھوٹے چھوٹے قدم تھے، جو ہمیں اپنی منزل کے قریب تر لے جا رہے تھے ۔انسانی آزادی مکمل نہیں ہو سکتی ، جب تک کہ یہ عدالت خدا او رمذہب کے وجود کو مکمل طور پر کالعدم قرار نہ دے ۔ ‘‘

جیوری کے ایک ممبر نے کہا ’’ قوانین کے بغیر انسانی آبادیاں تباہ ہو جاتی ہیں ۔ آپ خدائی قوانین کو ختم کر بھی دیں تو ایسے قوانین کا کیا کریں گے ، جو خود انسان نے خود اپنے لیے مرتب کیے ۔ سرخ اشارے پر رکنا لازم ہوتاہے ورنہ انسانی آبادیاں جنگل سے بدتر ہو جائیں ۔‘‘رابرٹ کنگ نے کہا’’ می لارڈ، انسانوں کی طرف سے بنائے گئے قوانین اپنی فلاح کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجموعی انسانی دانش نے ترتیب دئیے ہیں ۔ ہم ان کے خلاف ہرگز نہیں ۔ ہمیں اعتراض ہے تو صرف اس ذات پر ، جس نے گناہ و ثواب کے چکر میں ، انسانی آزادی سلب کر رکھی ہے ۔ ‘‘

خدا پرست وکیل ایڈم البرن نے کہا ’’می لارڈ، جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہوئے اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزارنا چاہیں ،ا نہیں بھی اس کا حق ہونا چاہئے ‘‘ جیوری نے رابرٹ کنگ کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا’’ خدا کا تصور، اس کے احکامات سے روگردانی پر گناہ کا احساس ایک ایسی مستقل اذیت ہے ، جو انسانی صحت کے لیے مضر ہے ۔ترقی کے لیے ہمیں اس تصور کو سرسے ختم کرنا ہوگا۔ ‘‘

اب فیصلے کا وقت تھا ۔تھکے ہارے ایڈم البرن نے کہا’’مقدمے کی سماعت اور جیوری کے تبصروں سے یہ بات واضح ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا۔ دنیا کی سب سے بڑی عدالت ، دنیا کے سب سے بڑے شہر میں جب یہ فیصلہ سنا ئے گی تو ظاہر ہے کہ اس کے عالمی اثرات برپا ہوں گے ۔ آج چونکہ یہ فیصلہ صادر ہونا ہے کہ خدا کوئی وجود نہیں رکھتا اور یہ کہ ہمارا یہ سیارہ اور اس پر رہنے والے جاندار از خود وجود میں آئے ہیں ؛لہٰذا اس فیصلے میں انسان کے علاوہ دیگر جانداروں کی رائے بھی شامل ہونی چاہئے ۔‘‘ اس نے پنجرے میں بند کچھ جانور منگوائے ۔ بندر، کتے ، لومڑی وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے کہا کہ عالمی سطح پر خدا کے نہ ہونے کا فیصلہ محض انسان صادر نہیں کر سکتا۔ اس میں دیگر جانداروں کی رائے بھی شامل ہونی چاہئے کہ وہ بھی اسی کرّہ ء ارض پر بستے ہیں ، جس پہ انسان آزادی چاہتے ہیں ۔

جج سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے کہا :بھلا جانور بھی تصورِ خدا پر بحث کرتے ہیں ؟ ایڈم البرن نے اس پر کچھ مچھلیاں منگوائیں اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ خدا پر ایمان رکھتی ہیں یا نہیں ۔ جج سر پیٹنے لگے ۔ اس پر ایڈم نے کچھ حشرات منگوائے ۔ ایک معزز جج نے دانت پیستے ہوئے کہا ’’ انسان کے سوا کوئی اور مخلوق تصورِ خدا پر بحث نہیں کر سکتی ۔‘‘ ایڈم نے کہا ’’می لارڈ! پانچ ارب قسم کی مخلوقات اس زمین پہ زندگی گزارتی رہی ہیں ۔ ان میں سے ستاسی لاکھ قسم کی مخلوقات (Species) آج بھی زندہ ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان میں سے صرف انسان ہی کیوں تصورِ ِخدا پہ بحث کر رہا ہے ۔ اس لیے کہ انسان کو اسی لیے تخلیق کیا گیا ہے ۔ اسی کے لیے شریعت نازل ہوئی ہے ۔ اسی پہ لباس نازل ہوا ۔اسی کی آزمائش ہوگی ۔ اس زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے ، اگروہ سب اتفاق ہوتا تو پھر انسان ٹریفک سگنل بناتا ، نہ انجن ایجاد کرتااور نہ ہی وجودِ خدا پہ کوئی بحث جنم لیتی ۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

تازہ ترین