بھارتی ٹیم کے موجودہ کپتان ویرات کوہلی اس وقت نہ صرف اپنی ٹیم کے لیے کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں بلکہ وہ انفرادی طور پر بھی دنیا کے بہترین بیٹسمین ہیں۔
مایہ باز بیٹسمین 2011 کے عالمی کپ کے بعد ٹیم سے مکمل آؤٹ ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تاہم انھیں اس وقت کے کپتان کی سپورٹ نے بچالیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سنجے منجریکر نے ویرات کی ٹیم میں بحالی سے متعلق نیا انکشاف کردیا ہے۔
منجریکر نے ایک اسپورٹس نیٹ ورک کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کیریئر کے ابتدائی 6 ٹیسٹ میچز کے بعد ویرات کوہلی بھارتی ٹیم سے ڈراپ ہونے والے تھے، تاہم انھیں اس وقت کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے باہر ہونے سے بچایا۔
واضح رہے کہ 12-2011 کے دورہ آسٹریلیا کے دوران ویرات کوہلی ناکام ہوئے تو ٹیم انتطامیہ کی جانب سے انھیں نکالا جارہا تھا، تاہم اس وقت مہندرا سنگھ دھونی نے ان کی بھرپور حمایت کی اور انھیں ایک اور میچ کھلایا۔
اس کے بعد ویرات کوہلی نے پہلے پرتھ کے میدان پر پہلے 44 اور پھر دوسری اننگز میں 75 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ اگلے ہی میچ میں ایڈیلیڈ کے مقام پر انھوں نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری بنائی تھی۔
ویرات کی بیٹنگ صلاحیتوں کی بات کرتے ہوئے منجریکر کا کہنا تھا کہ ’ویرات کوہلی تو پھر ویرات کوہلی ہے، وہ رنز بنانے کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں، دورہ آسٹریلیا پر انھوں نے سنچری اسکور کی جہاں بھارت سیریز 0-4 سے وائٹ واش ہوا تھا، لیکن ویرات کی یہ سنچری کسی بھی بھارتی بیٹسمین کی واحد سنچری تھی۔
واضح رہے کہ ابتدا میں ویرات کوہلی اتنے کامیاب بیٹسمین ثابت نہیں ہوئے تھے جبکہ ان کی پہلی سنچری بھی ساتویں ٹیسٹ میچ میں سامنے آئی تھی۔