آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’زبان کی حفاظت‘ گناہوں سے دور رہنے کا اہم ذریعہ

مفتی احمد میاں برکاتی

فرمان الٰہی ہے : ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے۔‘‘(سورۃالبلد) اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے۔ جیسی انسان کی سوچ ہوگی ،ویسا ہی زبان بولے گی ۔زبان کا صحیح استعمال، ذریعہ حصول ِثواب ہے ،اور غلط استعمال وعیدِعذاب ہے۔یہ انسانی جسم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، لیکن اس کے کرشمے بہت بڑے بڑے ہیں،اس کی خوبیاں بھی بہت ہیں اور خامیاں بھی بہت، اس کے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت کے لئے نیکیاں بھی جمع کر سکتا ہے،اور چاہے تو اپنی آخرت برباد کرسکتا ہے ۔اسی وجہ سے کثرتِ کلام سے بھی منع کیا گیاہے۔

زبان ہی سے آدمی کےعقل وشعور اور اس کی صلاحیتوں کاپتا چلتا ہے، لیکن اس نعمت کا استعمال اگر غلط طریقے سے ہو تو یہ نعمت اللہ کی ناراضی کا باعث بن جاتی ہے اور لوگوں کے دل بھی اس سے زخمی ہوتے ہیں۔ 

یاد رکھیے، زبان کا زخم تیروسنان کے زخم سے زیادہ کاری ہوتا ہے۔ اسی لیے زبان کے خوف سے بڑے بڑے بہادر لرزتے ہیں۔ ایک عربی شاعر کہتا ہے ؎’’تیرکے زخم بھر جاتے ہیں، لیکن زبان کے زخم کبھی نہیں بھرتے‘‘۔

سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔لہٰذا عقل مند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک شخص اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک ان کلمات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہے،اور ایک شخص اللہ کو ناراض کرنے والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔(صحیح بخاری)

انسان کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے ۔ایسے ہی بلا وجہ فضول بولتے رہنے سے ایک انسان کی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔عقل مند انسان کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ سوچ کر بولتا ہے،جب کہ بےوقوف بول کر سوچتا ہے،جہاں اسے معلوم ہو کہ اس جگہ میری بات کی قدر نہیں ہے تو وہاں خاموشی اختیا ر کئے رکھے ،کیونکہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آ سکتے ۔لہٰذا احتیاط افسوس سے بہتر ہے کے اصول کو ہر جگہ مدنظر رکھا جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے (اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ،ورنہ خاموش رہے۔(صحیح بخاری، صحیح مسلم:)

اہل ایمان کی گفتگو بہترین اور پرُ تاثیر ہوتی ہے، اور وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:فضول باتوں کو چھوڑدینا، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے۔(مؤطا امام مالک)

سیدنا ابو موسیٰؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! مسلمانوں میں سے کون افضل ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا:جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔(صحیح بخاری)

حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے، رسول اکرمﷺ نے فرمایا “ اے معاذ، روزِ قیامت لوگ اپنی زبان سے کاٹی ہوئی فصلوں کی بدولت ہی منہ کے بل یا ناک کے بل جہنم میں جائیں گے۔“ (مسنداحمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

فرمانِ نبویؐ ہے ’’ جو شخص مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے دے تو میں محمدﷺ اسے جنّت کی ضمانت دیتا ہوں،ایک زبان اور دوسری شرم گاہ‘‘۔(صحیح بخاری ) ایک طرف یہ پیارے رسول ﷺکی ضمانت و خوشخبری ہے، لیکن دوسری طرف جب ہم اپنے گردو پیش نظر ڈالتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ ہماری محفلیں،اجتماعات،گلی محلوں میں دوستوں کی بیٹھک،بازاروں میں لوگ اور بالخصوص خواتین باہمی گفتگو کیسے کرتے ہیں۔

کیا ہماری باتوں کا اکثر حصہ ایک دوسرے کی غیبت،جھوٹ،چغلی،فضول گوئی اور گالم گلوچ پر مشتمل نہیں ہوتا؟ ہماری نئی نسل کی زبانوں پر موجود گالیاں ہمیں نظر نہیں آتیں؟ماں باپ اپنے بچوں کے منہ سے گالیاں سن کر بدمزا نہیں ہوتے؟اس حوالے سے فکر کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوزبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین )