آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سمجھانے کا وقت ختم، کورونا سے بچاؤ کی پابندیوں پر عمل کرانے کیلئے جرمانے ہونگے، ڈیم کرسیڈاڈک

لندن (سعید نیازی) نرمی اور سمجھانے کا وقت گزر چکا، اب کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے عائد پابندیوں پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کو جرمانے ہوں گے۔ اس بات کا اظہار میٹرو پولیٹن پولیس کے کمشنر ڈیم کرسیڈاڈک نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے نفاذ کے باوجود لوگوں نے گھروں میں پارٹیوں اور گیملنگ ایونٹس کا اہتمام کیا ہے اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں چند افراد کی طرف سے ہوا جب انفیکشن کی شرح بلند ہے اور اکثریت قواعد کی پابندی بھی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ کوئی بھی شخص کورونا پابندیوں کے حوالے سے لاعلم ہوسکتا ہے۔ اب قواعد آرڈرز کو جرمانوں کا سامنا ہوگا۔ انگلینڈ میں لاک ڈائون قواعد کی پابندی نہ کرنے والوں پر پولیس200پائونڈ جرمانہ کرتی ہے جب کہ پارٹی کا اہتمام کرنے والوں پر10ہزار پائونڈ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے مشرقی لندن میں اختتام ہفتہ پر سائیکل چلانے کو انہوں نے غیر قانونی نہیں کہا البتہ ان کا کہنا تھا کہ ورزش کیلئے مقامی

علاقوں میں جانے کے حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں قواعد کی خلاف ورزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد پولیس پر سختی کرنے کے حوالے سے دبائو بھی تھا۔ انگلینڈ اور ویلز میں نومبر کے بعد سے8ہزار جرمانے کیے گئے ہیں، اب پولیس گھر سے باہر گھومنے والے افراد کو روک کر پوچھ رہی ہے کہ وہ کس مقصد کیلئے گھر سے باہر نکلے ہیں۔ پولیسنگ کے منسٹر کٹ مالٹ ہائوس نے کہا ہے کہ لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ لاک ڈائون آخری ہو، انہوں نے میٹ پولیس چیف کے اس موقف کی حمایت بھی کی کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک معمولی تعداد خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کو یقینی بنائیں تو ہم فروری کے وسط سے دوبارہ ٹیئر سسٹم میں جاسکتے ہیں۔ پابندیوں کو مزید سخت بنانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر اموات اور انفیکشن کی شرح کا جائزہ لے کر قوانین پر نظرثانی کا عمل جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے خطرات سے دوچار افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کے آغاز کے بعد توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں حالات معمول پر آجائیں گے۔

یورپ سے سے مزید