آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیوزی لینڈ میں شکست، وقار کے لبوں پر بھی کورونا کا رونا، قرنطینہ مشکل تھا، تیاری نہ کرسکے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس بھی خراب بولنگ کی وجہ سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ تاہم ان کے لبوں پر بھی کورونا کا رونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دباؤ تو ساری زندگی لیا ہے۔ کسی چیز کے پیچھے چھپنے کیلیے نہیں آیا ہوں، نیوزی لینڈ کا دورہ مشکل تھا، مجھے پاکستان ٹیم بہت عزیز ہے، پہلے ٹیم کو چھوڑا اور نہ اب چھوڑوں گا۔ کوچنگ کا انحصار پرفارمنس پر ہے، پرفارمنس اچھی ہوگی تو آگے موقع ملے گا۔ کورونا ایشوز تھے، پہلا ٹیسٹ اچھا کھیلے، دوسرے ٹیسٹ میں ڈراپ کیچ اور نوبال سے مسائل ہوئے، اپنے بولرز پر فخر ہے، جنوبی افریقا کیخلاف سیریز میں اچھی کارکردگی پیش کریں گے۔ نئی سلیکشن کمیٹی سے مشورہ کریں گے کہ کیا ہونا چاہیے کیا نہیں، جو بھی ہوگا پاکستان کی بہتری کے لیے ہوگا، میری توجہ اپنے کام پر ہے۔ بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس میں ماضی کے عظیم فاسٹ بولر نےکہا کہ یہ بات غلط ہے کہ میں اپنی ٹیم کو چھوڑکر آگیا، پچھلے سات مہینوں سے فیملی سے دور تھا، پی سی بی سے

اجازت کے بعد دوسرے ٹیسٹ کے دوران فیملی کے پاس آیا، دنیا میں صرف کرکٹ ہی نہیں اور بھی ضروری کام ہوتے ہیں۔ محمدعامر بہت اچھا کھلاڑی ہے۔ عامر کے بیانات سے بہت تکلیف ہوئی ہے،نجم سیٹھی سے لڑا کہ اسے موقع دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں پاکستان کی ٹیم بھی جارحانہ ہو۔ دورے کے موقع پر 14 دن قرنطینہ آسان نہیں تھا، جتنی تیاری ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہوسکی۔ دورہ نیوزی لینڈ مشکل تھا لیکن یہ کوئی معذرت نہیں ہے، کھلاڑیوں کو انجریزہوئیں۔ نسیم شاہ غیر معمولی صلاحیتیوں کا مالک نوجوان بولر ہے، وہاں جا کر کوئی بھی کھیلتا تو مشکل ہوتی، اب جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے منتظر ہیں۔ بولنگ کوچ نے مزید کہا کہ کرکٹ کمیٹی کے ربر اسٹمپ کے بارے تبصرہ نہیں کرسکتا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کرکٹ کمیٹی کا اجلاس بہت اچھا ہوا، کرکٹرز نے کرکٹرز کی بات سنی اور پہلی مرتبہ اجلاس میں گیا، ایسے اجلاس ہونے چاہئیں۔ وقار یونس نے تنقید کرنے والوں کے بارے کہا کہ کوچ نہیں کمنٹیٹر ہونے اور اسکول کی کوچنگ نہ دینے والی جس نے بھی بات کی ہے اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ مجھے کوئی دکھ نہیں کہ کس نے کیا کہا، ناقدین کو بولنا چاہئے، وہ بولیں گے تو ہماری بہتری ہو گی ہے، مجھ میں کچھ ہے تو یہاں کھڑا ہوں، تنقید کرنا اور کمنٹری کرنا بہت آسان ہے۔

اسپورٹس سے مزید