آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تہمینہ مختیار

کمرے سے آتی ہوئی بہت دھیمی آوازیں آہستہ آہستہ تیز و تلخ ارتعاش میں تبدیل ہوتی جارہی تھیں۔ شاید کمرے میں موجو دو نفوس یہ سمجھتے تھے کہ صرف اس کمرے کے در و دیوار ہی ان کے زہریلے جملے سن رہے ہیں ۔اس لئے بے خبری کا یہ عالم تھا کہ کمرے کی کھڑکیوں کو بند کرنے کابھی تکلّف نہیں کیا گیا تھا۔

اس باشعور لڑکی کو یہ گوارا نہیں تھا اوراسے یہ زیب بھی نہیں دیتا تھا کہ وہ اس تلخ تکرار کو سنتی، لیکن دو جملوں میں آئے ہوئے اس کے نام نے نہ چاہتے ہوئے اس کے قدم روک لیے تھے۔

’’عذیر، ایک فیصلہ کرو! اس گھر میں وہ یا میں۔ اس گھر میں اگر وہ رہے گی تو میں بچّوں کے ساتھ الگ گھر میں اگلے ماہ شفٹ ہو جائوں گی۔ لیکن یاد رکھنا، وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گی‘‘۔

اس کے بعد بھائی نے اس کے لیے کیا کہا،اس کے حق میں کس طرح سے راہ ہموار کی؟ اس نے آگے سننا گوارا نہیں کیا۔ کمرے میں آ کر خوب جی بھر کر روئی اور رات کے آخری پہر اللہ تعالیٰ سے شکوہ کئے بغیر نہ رہ سکی۔ اےرب العالمین ،کیا میں اس دھرتی پر اپنوں کے لیے بوجھ ہوں، کیا تیری اس کائنات میں وہی معتبر ہیںجو گھر بار والے ہیں، جو شادی کے مقدس بندھن میں بندھے ہوئے، جو جوڑوں کی صورت میں اپنے پھولوں سے اپنے گھر کے آنگن مہکائے ہوئے ہیں؟

کیا میرے لئے کوئی ایسا آنگن نہیں تھا، کوئی ایسا سائبان نہیں تھا جہاں میں اپنے آپ کو دنیا کی کڑی دھوپ سے بچا پاتی؟

یہ تھی شگفتہ جس کادردمیں نے جتنا محسو س کیا اتنا بیان کر دیا۔ اس معاشرے میں ایسی کتنی ہی شگفتہ، فرحت، سائرہ اور حراہوں گی، جن کی یہی کہانی ہو گی جو میں نے اور آپ نے کہیں نہ کہیں لفظوں کے ردوبدل کے ساتھ سنی اور پڑھی ہوں گی۔

عورت ہمیشہ عورت کے لیے ہی المیہ رہی ہے۔ عورت جو وفا کا پیکر ہے، جو پیروں میں جنّت سمیٹے ہوئے ہے، جو باپ اور بھائی کے لیے عزت و ناموس کی نشانی ہے، جو رضیہ سلطانہ بن کر تخت ہند کی ملکہ بھی بنی اور وہی عورت نہ جانے کیوں دوسری عورت کے لیے سنگ دل بن گئی۔ ازل سے عورت نے ہی عورت کا استحصال کیا ہے۔ اپنے استحصالی رویّوں سے اس کے جذبات اور انا کو برے طریقے سے کچلا ہے۔ 

اللہ نے اسی عورت کو ماں، بہن، بیٹی ، بیوی اور لفظوں کے بندھن سے بندھنے والے رشتے نند، بھابھی، دیورانی، جٹھانی اور ساس جیسے رشتے عنایت کئے، لیکن اس نے صرف ان رشتوں کی حرمت اور اپنائیت کو سمجھا اور دل سے قبول کیا جو ایک دوسرے کی رگوں میں اپنا خون بن کر دوڑتے ہیں ۔ بہن سے وہ فاصلے اور خلیج رشتوں میں دراڑیں ڈالتی ہیں جہاں پر ڈالی تو ایک گھر کی بنیاد گئی تھی لیکن ایک گھر سے کئی گھر بنتے چلے گئے۔

اس معاشرے نے اور کوئی قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہویا نہیں، لیکن چند دہائیوں سے مغربی معاشرے کی اس منطق کو ضرور اپنے لئے قابل فخر بنالیا ہے کہ اب اسے جوائنٹ فیملی سسٹم اپنی خواہشات اور بے لگام آزادی کے آگے زہر ہلاہل لگنے لگا ہے۔ کبھی اس مشرقی تہذیب میں رشتوں کی پاسداری اور حرمت ہوتی تھی جو اب آہستہ آہستہ مکمل طور پر ختم ہوتی جا رہی ہے ۔اس طرح ہم نے اپنی روشن خیالی اور نام نہاد نظریات کو ایک دوسرے کے لیے وہ فصیل شہر بنا دیا ہے، جہاں سب کے اپنے اپنے شہر ہیں۔ خودغرضی کے شہر، اپنی اپنی ذات کی خودفریبی کے شہر، جہاں سے کوئی نکلنے کو تیار نہیں ہے۔

کسی بھی سماج کی تعمیر اور تہذیب نفس میں عورت کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اس کو اسی بنیادی کردار کی وجہ سے سماج اور انسانی ارتقائی عمل میں ستون کی سی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اتنی اہمیت کی حامل ہونے کے باوجودوہ خود اپنے لئے اپنے ہی رویّوں میں تلخ بھی رہی ہے، تنگ دل بھی اور تنگ نظر بھی اور اپنی اس ہوا پرستی میں مرد کو میدان جنگ بنادیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی انا کی تسکین کے لیےذہنی یا جسمانی تشدد مرد سے کروا کر خود ہر معاملے سے بری الذمہ ہو گئی ہے۔

لیکن بدنامی اور ظلم کا طوق مرد کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کبھی ان معاملات یا عوامل پر غور نہیں کیا گیاجن کے سبب عورت ظلم کا شکار ہو رہی ہے۔ کبھی اس نکتے کی گہرائی کو نہیں سمجھا گیا جہاں عورت نے ہی دوسری عورت کا اس لئے استحصال کیا کہ وہ خود وراثت سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک اس کو اس کا حق نہیں دینا چاہتی۔

سیاست کا کوئی ایک ورق بھی اٹھا کر دیکھ لیں،وہاںبھی عورت نے عورت کے لیے محاذِ جنگ کھول رکھا ہے۔ پاکستان کی بعض سیاسی جماعتوںمیں آپ کو ایک دوسرے کی حریف خواتین ہی نظر آئیں گی اوریہ بھی کہ بعض اوقات انہوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی ایسی بوچھاڑ کی کہ کیا مرد کریں گے۔ گو کہ جدید تعلیم اور مغربی تہذیب کے اثرات نے عورت کا نفسیاتی شعور اجاگر تو کیا ہے، لیکن شاید مثبت تبدیلی اب بھی نظر نہیں آتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ اس کے اردگرد کا ماحول ویسے کا ویسا ہی ہے۔ اس کے اپنے بدلنے سے صرف اس کے نظریات اور تصوّر زندگی ہی بدلا ہے، لیکن وہ مشرقی روایات اور احساسات نہیں بدلے ہیں ،جو واقعی کسی حیرت انگیز تبدیلی کا مظہر ہو سکتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ عورت خاندان میں Kingpinکی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائے تو خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اور اسلامی حقوق اس سماج میں جتنے اسے حاصل ہیں اور جتنا تحفظ اسے دیا گیا ہے دوسرے معاشروںمیں ایسے حقوق اور تحفظ کے معیار ات اسے ملتے نظر نہیں آتے۔ یورپ میں تو جو برابری کا درجہ اس نے لیا اس سے اگر اسےفائدہ ہوا تو کئی گنا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ یہاں تک کہ آج وہاں لیڈیز فرسٹ کا مقولہ آہستہ آہستہ غائب ہوتا جا رہا ہے۔ 

یہ تو عورت کا ایک عمومی رویّہ ہے ،جو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن کھلے دل سے شاید عورت ہو کر عورت کے اس رویّے پرکبھی اعتراض نہیں کیا، نکتہ چینی نہیں کی۔البتہ اگر مرد نے ہاتھ اٹھایا ہے، کوئی اعتراض کیا ہے یاپابندی عائد کی ہے تو اس کے لیے ضرور قراردادیں پاس ہوئیں ، قوانین بنے ہیں اور بل پاس ہوئے ہیں۔ شاید ان باتوں پر کوئی تنقید بھی ہو یا یہ بات ذہن میں آئے کہ ایک عورت ہو کر عورت کے دکھ کو محسوس نہیں کیا۔

انیسویں صدی کے نصف آخر تک عورتوں کا پڑھنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ایک عام کہاوت یہ تھی کہ لڑکیاں بالیاں اگر لکھنا سیکھ لیں گی تو عشق نامے لکھیں گی۔ ماںباپ کی ناک کٹوائیں گی، آسمان میں تھگلی (پیوند) کر دے گی اور پردے کا یہ عالم تھا کہ عورت کا سایہ بھی پردہ کرتا تھا۔ وہاں اگر آج کی عورت ہوتی تو خود تصوّر کریں کہ کس عالم میں ہوتی۔ آج تو اسے صدہا شکر ادا کرنا چاہئے کہ زمانے کے انقلابات اور مرد کی فراخ دلی نے اسے اس زنداں سے تو نکال دیا جو صدیوں سے اس کے لیے متعین تھا۔ 

البتہ افسوس اس امر کاکہ عورت نے مرد کے زنداں سے رہائی پا کر خود اپنے گھر میں اور اس معاشرے میں ایک دوسرے کے لیے نہ جانے کتنے زنداں بنا دیئے۔ گھر جو کبھی ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا باعث ہوتےتھے، ان گھروںمیں اب یہ لفظ کونے میں رکھی ہوئی ایک تصویر بنتے جا رہے ہیں ۔جہاں اپنائیت اور عنایت کی فضا تھی وہاںاب خودغرضی اور بے حسی نےجگہ بنالی ہے۔ خاندان جو کبھی ایک ادارہ تھا اورجس میںہر فرد، خصوصاً خواتین، کا کردار ایک مثالی درجہ رکھتا تھا اسی ادارے میں خواتین نے اپنے پیر پر کلہاڑا مار کر اپنی اپنی ذات کے کارنر بنا لیے ہیں۔ایسا کارنر جہاں ہر فریم میں خود اس کی تصویر سجی ہوئی ہے۔

انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کی ابتدا تک اردو ادب کےتمثیلی قصّوں اور ناولوں میں مشرقی خاندان اور اس خاندان میں عورت کا مرکزی کردار دیکھئے۔ یہاں آپ کو ایسی عورت نظر آئے گی جو ہر طرح سے خاندان کی سربراہ بھی ہے اور اس کا کل اثاثہ بھی۔ یہ ایک ایسا مشرقی نظام ہے، جس کا ہر عمل، ہر فیصلہ اس کے اور اس کے خاندان کے مضبوط ہونے کی علامت ہے۔

عورت اور مرد کے درمیان ہمیشہ سے معاشی، سماجی ،سیاسی اور صنفی مساوات کا مقابلہ رہا ہے ۔مخصوص اسباب اور وجوہ کی بنا پر مرد نے عورت کی عقل کے مُہرے کو بہت برے طریقے سے پیٹا بھی ہے۔ لیکن ایک مقام پرجہاں اس کی عقل نے خود بھی مات کھائی، وہ ہے ایک عورت کے ہاتھوں دوسری عورت کے استحصال میں اس کا ایک مُہرے کی طرح استعمال ہونا۔ افسوس اس امرپر ہوتا ہے کہ ہم ا س باریک لکیر کو ہی نہیں سمجھ رہے ،جہاں بہت سارے اچھے بھلے معاملات بھی ہماری کم فہمی اورعاقبت نااندیشی کی وجہ سے انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ 

تھوڑی وسیع القلب ہوجائیں ۔مرد اکیلا نہیں ہوتا بلکہ ہماری بھی کوئی نہ کوئی سوچ ،آمریت اور خود پرستی اسے کچھ ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے ،جو شاید وہ خاندان کو بچانے کے لیے کر رہاہوتا ہے ۔یہاں پر خاندان وہ تصورِ خاندان ہےجو صرف میاں ،بیوی اور بچوں تک محدود ہوتا جارہا ہے۔ بہت سی باتیں اور ارادے ناممکن نہیں ہوتے ،بس نفس اور اس کی خواہشوں پر بند باندھنا ہوتا ہے۔ جہاں اپنے لیے تھوڑی مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن اس مشکل کے لیے ذرا اس پہلوسے بھی سوچیں کہ اس مقام پر میں بھی کھڑی ہوسکتی تھی اور کسی مرد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کسی عورت کا فیصلہ میرے لیے کیا ہوتا۔