آپ نے اکثر لوگوں سے سنا ہوگا کہ خدا پر ایمان لانا ہے تو بغیر کسی دلیل کے لانا ہوگا۔ ایمان بالغیب لے آئو۔ سورۃ بقرۃ میں ہے ’’یومنون با الغیب‘‘ وہ بغیر دیکھے اللہ پہ ایمان لاتے ہیں ۔ اس ’’بغیر دیکھے ‘‘ کو انہوں نے ’’بغیر سوچے ‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ دوسری طرف آپ قرآن میں ابراہیمؑ کا واقعہ پڑھیے، جب وہ پیہم غور و فکر کے بعد مظاہرِ فطرت اور ستارے سے لے کر سورج تک کو خدا کا درجہ دینے پر غور کرتے ہوئے بتدریج اللہ تک پہنچے ۔ایک عقلی اور علمی سفر کے بعد ابراہیمؑ اس نتیجے پر پہنچے کہ ستارہ اور سورج بذاتِ خود کچھ نہیں ، پیچھے کوئی اور ہے ۔ یہ وہ دور تھا، جب کل انسانیت ستاروں اور سورج جیسے مظاہرِ فطرت اور بتوں کے سامنے سجدہ ریز تھی ۔ ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص ابراہیمؑ کے پاس آیا ہو اور اس نے یہ کہا ہو کہ بغیر سوچے اورسوال کیے ،خاموشی کے ساتھ خدا پر ایمان لے آئو ۔اللہ اور اس کے سچّے پیغمبرؐ کو تعلیم و تحقیق پہ کس قدر اصرار ہے؟’’'بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘عقل والے کون؟ کیا صرف عبادت گزار؟ جی نہیں،صرف عبادت نہیں '۔’’اور وہ غو ر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں‘‘۔ آلِ عمران 191۔ زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کا ذکر کیجیے تونام نہاد مذہبی طبقات کے چراغ بجھنے لگتے ہیں ۔ ملّا عمر جیسے جتنے بھی لوگوں نے اپنی طرف سے ’’نفاذِ اسلام ‘‘کیا ، اس کا تصور کرتے ہی، ذہن میں فقط سزائوں کا نفاذ آتاہے۔سزا تو جرم کرنے والے کو دی ہی جائے گی کہ معاشرے کو تباہی سے بچایا جا سکے۔زندگی تو ہے ہی قصاص میں لیکن نفاذِ اسلام کو فقط سزائوں کے نفاذ تک محدود کر نے والے جرمِ عظیم کے مرتکب ہوئے۔ ذاتی زندگی میں خد اآپ کو انتخاب (Choice)کا حق دیتاہے۔ آپ اسے مانتے ہیں یا نہیں، یہ اس نے آپ پر چھوڑدیا ہے۔
خدا زمین و آسمان کی تخلیق پہ غور و فکر کرنے والوں پہ ناز کرتا ہے ۔رات اور دن کے بدلنے پہ غور کرنے والوں پر ، بارش پہ غور کرنے والوں پر ۔ زمین پر غور کیسے کیا جائے گا؟ یہ 23.6ڈگری پر اپنے محور پرجھکی ہوئی ہے۔اس زاویے کے اس کے موسموں پر اثرات ہیں۔ زمین کی ایک آب و ہوا ہے،گیسوں کا غلاف اس سے لپٹا ہوا ہے۔آکسیجن پیدا کر کے زمین کی فضا میں مقید کر دی گئی ہے ۔ آکسیجن کا ایک انقلاب (Great Oxydation Event)رونما ہوا تھا۔ یہ سب نہ ہوتا تو چاند پر جہاںدن میں درجہ ء حرارت 70ڈگری سینٹی گریڈ ہوتاہے، وہاں رات کو یہ منفی 70ڈگری تک گر جاتاہے۔ رات اور دن کیسے بدل رہے ہیں ؟ جواب : زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے ، اس لیے ۔
کرّہ ارض پر غور کرتے ہوئے، 4.6ارب سال کی تاریخ میں بڑے واقعات کا ذکر آئے گا۔پانچ بڑے عالمگیر ہلاکت کے ادوار (Extinction Events) زیرِ بحث آئیں گے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ(معاذ اللہ) خدا کو یہ خوف ہرگز لاحق نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غو ر و فکر سے کہیں اس کا وجود غلط ثابت نہ ہو جائے۔ یہ خوف ہمارے ذہنوں میں ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب کم علمی ہے۔ خوف یا تو گناہ اور جرم سے پیدا ہوتاہے یا پھر کم علمی سے۔ یہ حیرت انگیز بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ جس خدا نے انسان کو عقل دی، بھلا وہ اسے عقل کے استعمال سے کیوں روکے گا۔ خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا کہ وہ ہدایت اور خواہش میں سے ایک کا انتخاب کرتا رہے؛ حتیٰ کہ اسے مو ت آجائے۔ ترازو پھرلگے گا۔ میرے جیسے لوگ دنیا میں ہی داروغہ بنے بیٹھے ہیں ۔
خدا کے نزدیک انسانی برتری کا معیار نسل،رنگ اور زبان نہیں، تقویٰ ہے، یہ آپ سب نے سن رکھا ہوگا۔ یہ نہیں سنا ہوگا کہ اس تقویٰ کی بنیاد کوڑا نہیں ، علم ہے ۔ خدا نے فرمایا : انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔ اللہ کے بندوں میں سے وہی اس سے ڈرتے ہیں، جو علم والے ہیں۔
خدا کہتا ہے کہ زمین میں گھومو پھرو، اپنے سے پچھلوں کو تباہ و برباد ہوا دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔اس کے لیے فاسلز (Fossils)کا علم چاہیے۔ وہ 99فیصد جاندار یعنی 5ارب مخلوقات،جو ساڑھے چار ارب سال کی تاریخ میں زمین پر آباد رہی ہیں، ناپید (Extinct) ہو چکیں ۔ فاسلز کے علم ہی سے تو ہم نی اینڈرتھل انسان (Homo Neanderthal) کے ناپید ہو نے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹے قد اور بڑے سر والا انسان تھا۔ آج سے تیس ہزار سال پہلے جب ہمارے ابائو اجداد افریقہ سے نکل کر ایشیا اوریورپ میں پھیلتے چلے جا رہے تھے، نی اینڈرتھل ختم ہو تے جا رہے تھے ۔ نی اینڈرتھل آبادیاں ایک دوسرے سے دور قائم تھیں اور آپس میں ان کا میل ملاپ، اشیا اور تحائف کا تبادلہ اس طرح کا نہیں تھا، جیسا کہ ہمارے ابائو اجداد میں۔ ہم لوگ ہمیشہ ہر فائدہ مند چیز سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں، علم کا تبادلہ کرتے ہیں۔ وہ کٹے ہوئے تھے ۔
خدا کی نظر میں آپ کا مرتبہ و مقام اور اس زمین پر دوسری اقوام کے مقابلے میں عظمت، سبھی کچھ علم اور عقل کے ساتھ جڑا ہے۔ایمان بالغیب کا مطلب بغیر سوچے سمجھے ایمان ہرگز نہیں !