• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دن بھر میں ورزش کیلئے کونسا وقت بہترین ہے؟

ماہرین کی جانب سے صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ورزش کو لازمی قرار دیا جاتا ہے جبکہ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دن میں کس وقت کے دوران ورزش کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اضافی وزن سے پریشان، جسمانی طور پر کمزور اور گھنٹوں بیٹھ کر کام کرنے والے افراد کے لیے کم از کم ایک ہفتے میں 4 سے 5 دن ورزش کرنا نہایت ضروری ہے، مصروف زندگی کے دوران جو بھی وقت ورزش کا میسر آئے اُس سے خوب فائدہ اُٹھانا چاہیے جبکہ ورزش کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے دن میں بہتر اوقات سے متعلق جاننا بھی ضروری ہے۔

سائنسی تحقیق کے مطابق دن بھر میں کونسا وقت ورزش کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور کن اوقات میں ورزش کرنے کے کم فوائد حاصل ہوتے ہیں اس سے متعلق تمام معلومات مندرجہ ذیل ہیں۔

صبح کے اوقات میں ورزش کرنے سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے؟

سائنسی تحقیق کے مطابق صبح نہار منہ ورزش کرنے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں تیزی سے وزن میں کمی آنا، جسم کا سیڈول ہونا، سارہ دن متحرک رہنا اور دماغی صحت اور کارکردگی کا بڑھ جانا شامل ہے ۔

صبح کے اوقات کو ورزش کے لیے سنہری وقت کہا جاتا ہے، اس دوران انسانی جسم میں وزن میں کمی لانے والے ہامونز بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور اضافی چربی تیزی سے گھلتی ہے جس کے نتیجے میں مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اگر کوئی فرد دن میں جلدی اُٹھنے کا عادی نہیں ہے تو صبح جلدی اُٹھ کر اپنا دن بہتر بنانے کے لیے یہ ایک اچھی اور مثبت عادت ثابت ہو سکتی ہے۔

صبح اُٹھ کر 7 بجے اگر ورزش کی جائے تو دن بھر انسان متحرک رہتا ہے اور شام میں جلدی تھک کر سو جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کو مطلوبہ آرام بھی حاصل ہو جاتا ہے اور بگڑی ہوئی غیر متحرک روٹین بھی سدھر جاتی ہے۔

دوپہر کے دورانیے میں ورزش کرنا کیسا ہے؟

سائنسی تحقیق کے مطابق دوپہر میں ورزش کرنے کے نتائج بھی صبح کے اوقات میں ورزش کرنے جیسے ہی حاصل ہوتے ہیں، دوپہر کھانے کے اوقات میں ورزش کرنا بہترین ہے، اس دورانیے میں آپ ناشتہ کر چکے ہوتے ہیں اور دن کے دوسرے کھانے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، شوگر اور کولسیٹرول لیول صبح کے مقابلے میں دوپہر میں زیادہ بڑھا ہوا ہوتا ہے، ایسے میں ورزش کرنے سے شوگر اور کولیسٹرول لیول متوازن سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صبح نہار منہ ورزش کرنے کے بجائے دوپہر میں کرنے کے نتیجے میں وزن 10 فیصد زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے اور دن بھی متحرک گزرتا ہے اور کام پر توجہ دینے میں آسانی ہوتی ہے مگر اس دورانیے میں وزن میں کمی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے صبح کے مقابلے میں ورزش کا دورانیہ بڑھانا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق 1 سے 4 بجے کے دوران ورزش کرنے کے ایسے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے کہ صبح کے 7 بجے ورزش کے فوائد حاصل ہوتے ہیں مگر دوپہر کے دوران وزن میں کمی کے لیے ورزش کا دورانیہ تھوڑا بڑھا لینا چاہیے۔

رات کے دورانے میں ورزش کرنا کیسا ہے؟

اکثر و بیشتر افراد دفتری کام یا دن کے اختتام پر فارغ ہو کر ورزش کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ اس دورانیے میں ورزش کرنے کے نتیجے میں انسان دماغی طور پر متحرک ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نیند دیر سے آتی ہے اور جاگنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ورزش کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے جسم کو آرام کی بھی بے حد ضرورت ہوتی ہے، ورزش کرنے والے افراد اگر مکمل پُر سکون نیند نہ لیں اور دن میں زائد وقت متحرک گزاریں تو ورزش صحت مند رکھنے کے بجائے بیمار کر سکتی ہے۔

سائنسی تحقیق کے مطابق 7 سے رات 10 بجے کے دوران ورزش کرنے سے نیند میں خلل آ سکتا ہے، اس دورانیے میں ورزش کے بجائے یوگا کریں۔

صحت سے مزید