آپ آف لائن ہیں
اتوار15؍ رجب المرجب 1442ھ 28؍ فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسکاٹش لیبر پارٹی کی سربراہی کیلئے انتخابی مہم عروج پر

گلاسکو (طاہر انعام شیخ) اسکاٹ لینڈ میں اس وقت لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کیلئے انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے، اس عہدے کیلئے پاکستان نژاد سیاستدان آئینی امور کے شیڈو سیکرٹری انس سرور اور شیڈو ہیلتھ سیکرٹری مونیکا مینن آمنے سامنے ہیں، انس سرور جو کہ ماضی میں اسکاٹس لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کا الیکشن جیت چکے ہیں اور قائم مقام سربراہ بھی رہ چکے ہیں، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے برطانیہ میں پہلے پاکستان نژاد اور مسلم ممبر پارلیمنٹ بن کر تاریخ رقم کی تھی ۔اسکاٹش لیبر پارٹی کے ان الیکشن میں انس سرور کی کامیابی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے ،اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ بھی اپنے والد کی طرح ایک نئی تاریخ رقم کریں گے،وہ پہلے پاکستان نژاد سیاستدان ہوں گے جو پاکستان سے باہر کسی بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ بنیں گے، لیبر پارٹی کے سربراہ کے نئے الیکشن کیلئے ووٹنگ 9فروری سے شروع ہوچکی ہے جو کہ 26فروری تک جاری رہے گی اور 27فروری کو کامیاب امیدوار کا اعلان کردیا جائے گا، یہ عہدہ پارٹی کے سابق سربراہ رچرڈ لیونارڈ کے جنوری میں اچانک استعفے سے خالی ہوا تھا، 6مئی کو اسکاٹش پارلیمنٹ کے نئے الیکشن ہو رہے ہیں اور ان کیلئے لیبر پارٹی کی پوزیشن خاصی کمزور بتائی جارہی تھی،

لیبر پارٹی جو کہ کسی وقت اسکاٹ لینڈ کی مقبول ترین پارٹی تھی، اب تیسرے نمبر پر ہے، انس سرور کی نوجوان قیادت سے پارٹی کے ممبران بے پناہ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس اہلیت کے حامل ہیں کہ پارٹی کو موجودہ دلدل اور انتہائی کمزور پوزیشن سے نکال کر دوبارہ فعال کرسکتے ہیں اور آئندہ الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، انس سرور نے 2014ء کے اسکاٹش آزادی کے ریفرنڈم میں بھی لیبر پارٹی کی طرف سے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے لئے ایک زبردست مہم چلائی تھی جس میں ان کو خاصی کامیابی ملی تھی، اب ان کو لیبر پارٹی کے ممبران کی ایک بڑی تعداد بڑی امید کے طور پر دیکھ رہی ہے، واضح رہے کہ 2007ء کے بعد سے لیبر پارٹی مسلسل اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور اب اس کا گراف اتنا نیچے گر چکا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار یہ کنزریٹو پارٹی سے بھی نیچے ہے۔ 

یورپ سے سے مزید