• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری، کابینہ کا دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ

فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی
فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات تمام وزارتوں، محکموں اور خود مختار اداروں پر لاگو ہوں گے۔ کفایت شعاری کے اقدامات تمام دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔ 

ذرائع کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کےلیے ایندھن کی فراہمی میں 50 کی کمی کی جائے گی۔ ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینسز، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کےلیے نہیں ہیں۔ 

ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے 4 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد فیصد سرکاری گاڑیاں 2 ماہ کےلیے گراؤنڈ کی جائیں گی۔

وفاقی و صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیر، معاونین رضاکارانہ طور پر 2 ماہ کی تنخواہ اور الاونسز چھوڑیں گے۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 2 ماہ کےلیے 20 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اوپر کے 3 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسروں کی 2 دن کی تنخواہ کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

تمام وفاقی و صوبائی محکموں کے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی ہوگی۔ بجٹ کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ 

قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت مشاورت اجلاس میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللّٰہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور  ہارون اختر نے شرکت کی۔

ان کے علاوہ چاروں صوبوں کے نمائندے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پرحتمی لائحہ عمل طے کیا گیا۔ 

خلیج میں جاری جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔ 

 اجلاس کے دوران موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں معاشی استحکام کےلیے بروقت اقدامات ناگزیر قرار دے دیے گئے۔ 

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ مشکل صورتحال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو خصوصی ہدایات جاری کردیں۔ 

وزیراعظم نے وسائل کے موثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہمی کےلیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔ 

علاوہ ازیں کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان بناتے ہوئے وفاقی کابینہ نے 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ بھی کیا۔

قومی خبریں سے مزید