• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک  آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اس حوالے سے ایس بی پی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جنوری اجلاس کے بعد معاشی اعداد کا بہاؤ اندازوں کے مطابق رہا۔

فروری 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7 اعشاریہ 6 فیصد ہوگئی۔ مالی سال کے بقیہ مہینوں میں مہنگائی 7 فیصد سے زائد رہے گی جبکہ مالی سال 26 میں جی ڈی پی نمو 4.75 فیصد تک متوقع ہے۔

ایس بی پی کے مطابق فروری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر کا ہدف ہے

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد کُلی معاشی صورتحال کافی غیر یقینی ہوگئی ہے۔ تنازع کی شدت ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ایس بی پی کے مطابق کہ مشرق وسطیٰ جنگ سے ایندھن کے دام، بار برداری اور بیمے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ساختی اصلاحات کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ جنوری میں جاری کھاتے کا توازن سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

اس میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس وصولی کی رفتار سالانہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

ایس بی پی اعلامیہ کے مطابق ایندھن کی مقامی قیمتوں میں اضافے کے اثرات فوڈ سپلائی بہتری سے محدود رہ سکتے ہیں۔

تجارتی خبریں سے مزید