• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں سیاہ تیزابی بارش، خطے میں ماحولیاتی خطرات بڑھنے لگے، پاکستان میں کتنا خطرہ ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کے ذخائر پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مبینہ شدید بمباری کے نتیجے میں ایران کو سنگین ماحولیاتی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان میں فی الحال اس کے براہِ راست اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق تہران اور اس کے گرد و نواح میں رپورٹ ہونے والی بلیک ایسڈ رین (سیاہ تیزابی بارش) اس ماحولیاتی آلودگی کی ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایران سے موسمیاتی ڈیٹا اس وقت مکمل طور پر موصول نہیں ہو رہا کیونکہ جنگ کے باعث انٹرنیٹ سروس متاثر ہے، تاہم صورتِ حال کو سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق تہران جغرافیائی طور پر پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ہے، اس لیے اگر آلودگی کے اثرات پھیلتے بھی ہیں تو ان کا رخ زیادہ تر افغانستان کی جانب ہو سکتا ہے۔

مزید بتایا کہ ایران کا جنوبی علاقہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے قریب واقع ہے، تاہم تہران میں پیدا ہونے والی آلودگی کا پھیلاؤ فی الحال وسیع علاقے تک نہیں دیکھا جا رہا۔

 تیل کے ذخائر میں آگ لگنے سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے بالائی فضائی سطح پر درجۂ حرارت بڑھنے کا خدشہ ہے، درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث فضا میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں ملحقہ علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے نظام پر اثرات پڑنے کا امکان ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایران سے مغربی ہواؤں کے ساتھ آلودہ ذرات پاکستان کے مغربی حصوں تک آسکتے ہیں، ان آلودہ ذرات اور گیسز کے باعث مغربی علاقوں میں فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک کے بالائی علاقوں میں 9 تا 12 مارچ ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے، آج شام سے مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے مغربی حصوں میں داخل ہونے کا امکان ہے، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر میں 9 تا 12 مارچ وقفے وقفے سے بارش کی توقع ہے۔

اسلام آباد، مری، گلیات، خطہ پوٹھوہار میں بھی 9 تا 11 مارچ بادل برسنے کا امکان ہے، بارشوں سے بالائی علاقوں میں دن کے درجہ حرارت میں 3 سے 4 ڈگری کمی متوقع ہے، کے پی اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، سیاح محتاط رہیں۔

قومی خبریں سے مزید