• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈسکہ الیکشن، کچھ پریزائیڈنگ افسر بظاہر دھاندلی میں ملوث تھے، ریٹرننگ افسر

ڈسکہ الیکشن، کچھ پریزائیڈنگ افسر بظاہر دھاندلی میں ملوث تھے، ریٹرننگ افسر


اسلام آباد، لاہور(خبرایجنسیاں، جنگ نیوز) ڈسکہ الیکشن، الیکشن کمیشن نے ری پولنگ کا اشارہ دیتے ہوئے کہاہےکہ ووٹنگ میں رکاوٹ ثابت ہونے پر الیکشن دوبارہ ہوسکتاہے، لگتا ہےآر او اپنے پہلے بیان سے ہٹ گئے۔

دوسری جانب نئی رپورٹ میں بتایاگیاہےکہ NA-75میں کوئی نتیجہ تبدیل نہیں ہوا ، ریٹرننگ افسر نے بتایاکہ پریزائیڈنگ افسروں نے دیرسے آنے کی مختلف وجوہ بتائیں، کچھ پریزائیڈنگ افسر بظاہر دھاندلی میں ملوث تھے۔

ن لیگ کےوکیل نےالیکشن کمیشن کو بتایاکہ زبردستی پولنگ رکوائی گئی لہٰذا پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے، وکیل تحریک انصاف نےکہاکہ جب جیت رہے تھے تو دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیوں، انہوں نے الیکشن کمیشن سے دستاویزات جمع کرانے کیلئے وقت طلب کرلیا۔

دوسری جانب ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نےالیکشن کمیشن کو بتایاکہ پولیس نے انکی چادر کھینچی، اور ڈنڈے مارے،مریم اورنگزیب کاکہناتھاکہ حلقے میں غنڈہ گردی اور بدمعاشی ہوتی رہی،ادھر تحریک انصاف کے فواد چوہدری نےدوبارہ الیکشن کے مطالبہ کون لیگ کا بڑا یو ٹرن قرار دیا۔

شبلی فراز کاکہناتھاکہ انہیںہزیمت اٹھانا پڑے گی جبکہ عثمان ڈار نےکہاکہ ن لیگ کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دینگے۔ منگل کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے این اے 75ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیداوار سیدہ نوشین افتخار اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور دونوں پارٹیوں کے رہنما بھی پیش ہوئے۔

دوران سماعت حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا اور انہوں نے یہ بیان دیا کہ صبح تین بجکر 37منٹ تک 337پولنگ اسٹیشنز کے نتائج رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں موصول ہوچکے تھے اور جن 20پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں ملے اور ان پولنگ اسٹیشنز میں سے بھی چار کے نتائج ان نتائج کے ساتھ میچ کر گئے جو پولنگ ایجنٹس کو دیئے گئے تھے۔ 

(ن)لیگی امیدوار کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چند پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کروا کرپورے حلقے کو کلیئر نہیں کیا جاسکتا، مخصوص جگہوں پر فائرنگ کرکے ووٹرز کو باہر نکلنے سے روکا گیا، خوف وہراس پھیلایا گیا تاکہ ٹرن آؤٹ زیادہ نہ ہو ، یہ (ن)لیگ کا گڑھ تھا اور یہاں پر(ن)لیگ کو زیادہ ووٹ پڑنے کا امکان تھا لیکن جس طریقہ سے خوف وہراس پھیلایا گیا اس کے بعد ووٹرز اس طریقہ سے باہر نہیں نکلے۔ 

اس پر چیف الیکشن کمشنر نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فائرنگ کرنے والے لوگ (پی ٹی آئی) کے ہیں یا (ن)لیگ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ رکن الیکشن کمیشن جسٹس (ر)ارشاد قیصر نے سوال کیا کہ کیا ا نتخابی میٹریل محفوظ ہے؟

اس پر ریٹرننگ آفیسر نے بتایا کہ انتخابی میٹریل محفوظ ہے ۔ ریٹرننگ آفیسر نے کہا کہ مشتبہ پولنگ اسٹیشنز میں سے4 کلیئر ہیں، پولنگ اسٹیشن نمبر 9، 47، 50 اور 140 کے نتیجہ میں کوئی فرق نہیں ، جو نتیجہ ایجنٹس کو دیا گیا وہی نتیجہ درست نکلا،کچھ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر انگھوٹوں کے نشانات نہیں ہیں۔ 

جسٹس (ر)ارشاد قیصر نے آراو سے استفسار کیا کہ تاخیر سے پہنچنے والے پریذائیڈنگ افسر سے پوچھ گچھ کی ؟اس پر ریٹرننگ آفیسرنے کہاکہ تمام 20 پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران سے پوچھ گچھ کی تھی کسی نے کہا گاڑی خراب، کسی نے کہا موسم خراب تھا۔

20 پولنگ اسٹیشنز کے پریذائیڈنگ افسران کے بیان ریکارڈ کرلیے، رکن الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر)الطاف ابراہیم قریشی نے آر او سے استفسار کیا کہ کہ کیا محکمہ موسمیات سے دھند سے متعلق کوئی رپورٹ لی تھی ؟ کیا موبائل کمپنیز سے چیک کرایا کہ 20 پریذائیڈنگ افسران کی لوکیشن کیا ہے ؟اس پر ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ یہ تو اب بھی چیک کرائی جاسکتی ہے۔ 

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر آپ کے ساتھ اس وقت کیا ہوا تھا، فون پر آپ گھبرائے ہوئے تھے،اس پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ آر او دفتر کے باہر ہجوم بہت تھا، لوگوں کے رش کی وجہ سے تصادم کا خطرہ تھا، الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر سے سوال کیا کہ کیا انتظامیہ آپ سے تعاون کررہی تھی ؟اس پر آر اونے کہا کہ انتظامیہ نے تعاون کیا تھا۔

اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسر اب اپنے موقف سے ہٹ رہے ہیں، حلقہ کی جیوفینسنگ کرائی جائے،چیف الیکشن کمشنر نے سوال اُٹھایا کیا فائرنگ کرنے والے کو گرفتار کیا گیا ؟کیا پولیس تماشادیکھ رہی تھی ؟ آر او صاحب آج کے بیان سے لگتا ہے کہ آپ اپنے پہلے والے بیان سے ہٹ رہے ہیں، اگر ماحول بنا کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا توکسی نتیجے پرپہنچنا ہوگا۔

 اس پر آر او نے کہا کہ پولیس کسی کو شناخت نہیں کرسکی جبکہ (ن) لیگ کے وکیل نے ثبوت اور دستاویزات جمع کرانے کے لیے الیکشن کمیشن سے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ چند دن میں تمام دستاویزات اور ثبوت جمع کرا دوں گا۔اس پر چیف الیکشن کمشنر نے (ن)لیگ کے وکیل سے کہا کہ آپ کو پورا وقت ملے گا، آپ جتنا وقت لینا چاہیں لے لیں۔

دوران سماعت حلقہ میں ہونے والے ناخواشگوار واقعات اور فائرنگ کی ویڈیوز بھی چلائی گئیں دروازے ٹوٹ رہے ہیں،ووٹرز کو روک دیا گیا کی خبریں چلائی گئیں۔

ریٹرننگ افسر الیکشن کمیشن میں ضمنی انتخاب این اے 75 کے انتخابی نتائج کے حوالے سےرپورٹ بھی جمع کروائی جس میں کہاگیاکہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں تاخیر ہوئی،19 پریزائڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔

پی ٹی آئی کے امیدوار اسجد ملہی اور ان کے وکیل نے ن لیگ کے الزامات اور دعوے مسترد کئے اور موقف اختیار کیا کہ پہلے ن لیگ نے صرف 20 پولنگ اسٹیشنوں کی شکایت آر او کے پاس درج کرائی اب اپنی شکست دیکھ کر مسئلہ بنارہے ہیں اور پورے حلقے میں انتخاب کا مطالبہ کر رہے ہیں،انہوں نے ریکارڈ پیش کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سے ایک دن کا وقت دینے کی استدعا کی۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کی امیدوار نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے دوران بدنظمی اور فائرنگ کے واقعات کی ویڈیوز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا۔

ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نے کہا کہ ووٹرز کو مارا گیا، پولیس اہلکاروں نے میری چادر کھینچی،میرے ہاتھوں پر ڈنڈے مارے گئے، مجھے توقع نہیں تھی کہ وہاں اموات ہوں گی، میرے بچوں کے سامنے مجھے ہراساں کیا گیا ، میں الیکشن کمیشن نے صرف انصاف چاہتی ہوں ،مجھے ڈرایا جاتا تھاکہ سیاست میں مت آؤ،ڈی ایس پی نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو گولی مار دوں گا، سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے امیدوار اور ان کے وکیل نے بھی دلائل دیئے۔

بعد ازاں مسلم لیگ( ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیاسے گفتگو میں کہا ہے کہ این اے 75ضمنی انتخاب میں ووٹرز کوہراساں کیاگیا،پولنگ ایجنٹ نے ہمیں جو فارم 45 دیا ہے وہ ہم نے جمع کرادیا ہے، آر ٹی ایس کے ذریعے آنے والے 14 فارم میچ نہیں کرتے۔

تحریک انصاف کی ساری سازش یہی تھی کہ ان بیس پولنگ اسٹیشنز کو متنازعہ بنایا جائے، 20پولنگ اسٹیشنز کو متنازع بنا کر باقی حلقے میں ووٹ چوری کیے گئے۔

تازہ ترین