آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خدمتِ خلق اور غریبوں کی کفالت (گزشتہ سے پیوستہ)

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

حضرت عمر فاروق ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے، میں اُسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا : اسے وقف کردو۔ اصل روک لو، اور پھل وغیرہ اللہ کی راہ میں دے دو۔ (بخاری ، مسلم)

حضرت زید بن حارثہ ؓ کے پاس ایک گھوڑا تھا جو انہیں اپنی ساری چیزوں میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔ وہ اسے لے کر حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے، حضور اکرم ﷺ نے قبول فرمالیا اور لے کر ان کے صاحبزادے حضرت اسامہ ؓ کو دےدیا۔ حضرت زید ؓ کے چہرے پر کچھ گرانی کے آثار ظاہر ہوئے ۔حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرلیا، اب میں چاہے اسے تمہارے بیٹے کو دوں یا کسی اور رشتے دار کو یا اجنبی کو۔

غرضیکہ صحابۂ کرامؓ کی ایک جماعت نے اپنی اپنی محبوب چیزیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیں، جنہیں نبی اکرم ﷺ نے ضرورت مند لوگوں کے درمیان تقسیم فرمایا۔صحابہ کرامؓ کی تربیت خود حضور اکرمﷺ نے فرمائی تھی، اور ان کا ایمان اور توکل کامل تھا ، لہٰذا ان کے لئے اپنی پسندیدہ چیزوں کا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا بہت آسان تھا، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے واقعات تاریخی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ جنگ خیبر کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا اپنا سارا سامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، حضرت عثمان غنی ؓ کا ہر ضرورت کے وقت اپنے مال کے وافر حصے کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا، وغیرہ وغیرہ ۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تین لوگوںسے اللہ تعالیٰ بہت محبت کرتا ہے۔ ان میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جو کسی شخص کی اس طرح مدد کرے کہ اللہ تعالیٰ اور سائل کے علاوہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔ (ترمذی ، نسائی)آپﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سات لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اس طرح صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (بخاری، مسلم)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے:جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپ کر اورعلانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہےاور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔ (سورۃ البقرہ۴ ۲۷)ایک مقام پر فرمایا گیا:جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے ،اسے چھپ کر اورعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔ (سورۃ الرعد ۲۲)اسی طرح فرمایا گیا:جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے، اس میں سے چھپ کر اورعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہیں ہوگی۔ (سورۃ الفاطر ۲۹)

معلوم ہوا کہ ہم علانیہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مدد کرسکتے ہیں، جبکہ دیگر آیات واحادیث میں چھپ کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

نبی اکرم ﷺاور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بے شمار مرتبہ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات بھی علانیہ جمع کئے گئے ۔ نیز علانیہ خرچ کرنے سے بچنے کی اصل حکمت یہ ہے کہ ریا اور شہرت مطلوب نہ ہو، کیونکہ ریا،شہرت اور دکھاوا اعمال کی بربادی کے اسباب میں سے ہیں۔ لہٰذا خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے غریب، محتاج، یتیم اور بیواؤں کی مدد کے لئے اگر کسی تقریب میںعلانیہ قرض حسن دیا جائے، تو ان شاء اللہ یہ دکھاوے میں نہیں آئے گا، کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو کام بھی کھلم کھلا کیا جائے ،وہ ریا کاری ہی ہو، بلکہ دوسروں کو ترغیب دینے کے لئے بھی وقتاً فوقتاً اس طرح کے پروگرام منعقد ہونے چاہئیں ،جیساکہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے زمانےمیں جنگوں کے موقعوں پر اعلانیہ صدقات جمع کئے جاتے تھے۔ اگر صدقات اور قرض حسن میں اللہ جل شانہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا اصل مطلوب ومقصود ہو توکسی مصلحت سے اس کا اعلان بھی کیا جائے تو وہ ان شاء اللہ ریا کاری میں داخل نہیں ہوگا ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتاکر اور ایذا پہنچاکر برباد نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے۔ (سورۃالبقرہ۴ ۲۶)جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں ،نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے۔ (سورۃالبقرۃ۲۶۲)

قرض حسن یا صدقات کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم بڑی رقم ہی خرچ کریںیا اسی وقت لوگوں کی مدد کریں، جب ہمارے پاس دنیاوی مسائل بالکل ہی نہ ہوں ،بلکہ تنگ دستی کے ایام میں بھی حسب استطاعت لوگوں کی مدد کرنے میں ہمیں کوشاں رہنا چاہئے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:جو محض خوشحالی میں ہی نہیں بلکہ تنگ دستی کے موقع پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ان کے رب کی طرف سے اس کے بدلے گناہوں کی معافی ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ (سورہ ٔآل عمران۱۳۴)

جو مال سے محبت کرنے کے باوجود رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے۔ مال کی محبت سے مراد مال کی ضرورت ہے۔ یعنی ہمیں مال کی ضرورت ہے، اس کے باوجود ہم دوسروں کی مدد کے لئے کوشاں ہیں ۔ (سورۃ البقرہ ۱۷۷)نبی اکرم ﷺ سے سب سے بہتر صدقہ کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس حال میں بھی خرچ کرو کہ تم صحیح سالم ہو اور زندگی کی توقع بھی ہو، اپنے غریب ہوجانے کا ڈر اور اپنے مال دار ہونے کی تمنا بھی ہو۔ یعنی تم اپنی ضرورتوں کے ساتھ دوسروں کی ضرورتوں کوپورا کرنے کی فکریں کرو۔ (بخاری، مسلم)رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔ (صحیح مسلم)کسی کی مدد کرنے سے بظاہر مال میں کمی تو واقع ہوتی ہے، لیکن درحقیقت اس سے مال میں کمی نہیں ہوتی ،بلکہ آخرت میں بدلے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے۔

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے اوپر تین دن گزر جائیں ،اس حال میں کہ میرے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی رہے، سوائے اس کے کہ کوئی چیز قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لی جائے۔ (بخاری، مسلم)

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: روزانہ صبح کے وقت دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں۔ ایک دعا کرتا ہے : اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما۔ دسرا دعا کرتا ہے : اے اللہ! مال کو روک کر رکھنے والے کے مال کو برباد کر۔ (بخاری،صحیح مسلم)اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حسب توفیق اپنا حصہ ڈالنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔(آمین یا رب العالمین)