آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
,

خوبصورت مسحور کُن موسیقی سے آراستہ فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘

معروف ہدایت کار رضا میر اور سائونڈ ریکارڈسٹ سید افضل حسین شاد نے 1967 میں ایک ایسی اعلیٰ معیار کی رومانی فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کے نام سے بنائی، جس نے نہ صرف اس دور میں کام یابی حاصل کی، بلکہ یہ فلم ہر دور میں بے حد پسند کی گئی۔ اپنی مسحور کن موسیقی، سدا بہار نغمات، فن کاروں کی نہ بھلا دینے والی اداکاری ہدایت کارانہ معیار، اسکرپٹ کی دل کشی اور منظر نگاری، دل فریب عکس بندی نے اس فلم کو پاکستانی سینما میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہوا۔ 

کراچی کے سابق سینما ریوالی پر یہ فلم 28؍جولائی 1967 کو ریلیز ہوئی، جب کہ لاہور کے اوڈین سینما پر یہ فلم 19؍ مئی 67میں نمائش پذیر ہوئی۔ پُورے پاکستان میں اس فلم نے باکس آفس پر شان دار کام یابی حاصل کی۔ یونائیٹڈ ورکرز کے بینر تلے بننے والی اس فلم میں اداکارہ شمیم آراء کی کردار نگاری، اس قدر اعلیٰ تھی کہ فلم بین ان کی تعریف الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ 

ہندو لڑکی ’’شکنتلہ‘‘ کے کردار میں وہ جس محبت کی علمبردار نظر آئیں، وہ نہ تو کسی مذہب اور نہ ہی کسی سرحد کی محتاج تھی، فلم کی کہانی کا مرکزی خیال بھی یہی تھا۔ اپنی قابل فخر محبت کے لیے وہ اپنی جان کی بازی لگا دیتی ہیں اور پھر مرتے مرتے اس جذبے کو جنم دیتی ہے جو دُنیا میں امن و سلامتی کا مظہر ہے۔

شمیم آراء اس فلم میں اپنی کردار نگاری کے حوالے سے واقعی ’’لاکھوں میں ایک‘‘ نظر آئیں۔ فلم میں ہیرو کا کردار اداکار اعجاز نے کیا، جو ایک ٹرک ڈرائیور کا تھا، جب اس فلم کا اعلانکیا گیا تو اس فلم میں وحید مرادکا نام اس کردار کے لیے تجویز کیا گیا، لیکن جب کردار کے گیٹ اپ اور نوعیت پہ غور کیا گیا تو رضا میر اور افضل صاحب نے اعجاز کا نام فائنل کیا۔ اس کردار میں اعجاز نے اپنی فطری اداکاری سے خود کو اس کردار کااہل ثابت کیا۔ 

انہوں نے دلدار خان ٹرک ڈرائیور کے کردار میں حقیقی رنگ بھرا، جو بچپن میں اپنے والد سے بچھڑ کر اپنی یاداشت بھول کر محمود سے دلدار خان بن جاتا ہے۔ اداکار ساقی نے دلبرخان ٹرک ڈرائیور کا کردار بہ خوبی نبھایا۔ جسے ایک بچہ ملتا ہے، وہ اسے اپنا بیٹا بنا لیتا ہے۔ یہ بچہ بڑا ہو کر دلدار خان (اعجاز) بنتا ہے۔

آغا طالش نے اس فلم میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کردار احمد دین نامی ایک ایسے شخص کا تھا، جس نے اپنے قول کو نبھانے کی خاطر ہر چیز کی قربانی دے دی ،جس نے ایک ہندو لڑکی کے باپ کو جو قول دیا، وہ پُورا کیا۔ وہ ہندو لڑکی اس راسخ العقیدہ مسلمان کے سائے تلے پل کر جوان ہوئی، لیکن وہ پھر بھی ’’شکنتلہ ‘‘ رہی۔ مصطفیٰ قریشی کی بہ طور اداکار یہ دوسری فلم تھی، ان کی پہلی فلم سندھی زبان کی پردیسی تھی، جو 1958میں ریلیز ہوئی تھی۔’’لاکھوں میں ایک‘‘ ان کی پہچان بنی۔ اس فلم میں وہ اپنے منفی کردار میں بے حد پسند کیے گئے۔

یہ ایک جنگلات کے افسر مدھو سدھن لال کا تھا ۔ جس کا پس منظر بھارت سے تھا۔ یہ کہانی کے چند اہم کردار تھے۔ دیگر اداکاروں میں پنڈت شاہد نے شمیم آراء کے باپ ہردیال بابو کا کردار ادا کیا۔ ذورین نے اس فلم میں ایک بے وقوف نجومی کا کردار کیا، جو فلم کی ہیروئن سے شادی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ مایہ ناز گلوکار احمد رشدی نے اس فلم پولیس انسپکٹر کا مختصر کردار کیا، جب کہ ان کے بڑے بھائی ارسلان نے اس فلم میں ہندو ٹھاکر مہاراج کا کردار ادا کیا۔ اپنے دور کی معروف رقاصہ ’’چھم چھم‘‘ نے بہ طور مہمان ایک گانے میں اپنا رقص پیش کیا جس کے بول تھے۔

’’پیار نہ ہو جب دل میں تو جینا ہے ادھورا

مانے یا نہ مانے غفوراً غفوراً

یہ دل کش خوب صورت گانا چھم چھم اور ساقی پر فلم بند ہوا تھا۔ کچھ مسلم اور ہندو کرداروں پہ مبنی اس فلم کی کہانی کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ 1947 میں جب پاکستان حاصل کرنے کے لیے پورے ہندوستان میں تحریک چلی، تو چاروں طرف فسادات کی آگ پھیل گئی۔ اس آگ کے شعلوں کی تپش اور تباہ کاریاں ان علاقوں کو بھی نہ بچا سکی، جہاں امن تھا۔ کہانی کا آغاز آزاد کشمیر کی جنت نظیر وادی میں رہنے والے دوستوں سے ہوتا ہے۔ احمد دین (طالش) اور ہر دیال (پنڈت شاہد) جو ملک تقسیم ہونے کی وجہ سے جدا ہو رہے تھے۔ فسادات کے پیش نظر ہردیال نے اپنی بیٹی شکنتلہ کی پرورش احمد دین کو سونپی کے جب حالات پر امن ہوجائیں، تو اسے ہندوستان بھیج دینا۔ 

احمد دین کی بیوی اور گھر ہندو بلوائیوں نےجلا دیا اور اس کا بیٹا محمود کسی طرح بچ کر آزاد کشمیر کے باڈر پر زخمی حالت میں ایک پٹھان ٹرک ڈرائیور دلبر خان (ساقی) کو ملتا ۔احمد دین یہ سمجھ کر صدمہ برداشت کر لیتا ہے کہ بیوی اور بچے شہید ہو گئے۔ شکنتلہ جوان ہو کر ٹرک ڈرائیور دلدار خان (اعجاز) کو چاہنے لگتی ہے، پھر ایک دن اس کا باپ ہر دیال پاکستان آکر اپنے دوست احمد دین سے اپنی سونپی ہوئی امانت واپس لے جاتا ہے۔ 

شکنتلہ سرحد کے پار مقبوضہ کشمیر میں ہندو معاشرے میں جا کر جب آباد ہوتی ہے، تو لوگ اسے طرح طرح کی باتیں اور نفرت کرنے لگتے ہیں، ہردیال بابو ایک جنگلات افسر مدھو سدھن لال سے شکنتلہ کا لگن طے کر دیتے ہیں اور شکنتلہ دلدار خان کی محبت اور جدائی میں اپنے پتا کی لاج کی خاطر مدھو سدھن لال جسے سنگدل اور ظالم شخص کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، لیکن اس کا جسم اور روح دلدار خان کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے۔ 

ایک روز جب شکنتلہ کی یاد میں دلدار خان اس سے ملنے سرحد پار آتا ہے، تو مدھوسدھن لال اس پر گولی چلا دیتا ہے۔ شکنتلہ اپنی محبت بچانے کے لیے خود گولی کا شکار ہو جاتی ہے۔ دلدار ، شکنتلہ کا انتقام مدھوسدھن لال کو قتل کر کے لے لیتا ہے۔ شکنتلہ کا جسد خاکی اٹھاکر پاکستان کے باڈر میں داخل ہو جاتا ہے، مگر باڈر پر لگی لوہے کی کانٹے داربار پر شکنتلہ کی ساڑھی کا ایک پلو جو ہوا کے رخ پر پاکستان کی حدود کی طرف لہرا رہا ہوتا ہے، اس پر فلم کا اختتام ہوتا ہے۔

فلم کے ہدایت کار رضا میر نے یُوں تو ہر فریم میں اپنی موجودگی کا بھر پور احساس اور تاثر قائم رکھا، لیکن فلم کے اختتامی منظر میں ان کی ذہانت کا جواب نہیں تھا۔ شکنتلہ کا جسم اگر حالات کے تحت ہندوستان شفٹ ہو جاتا ہے، مگر اس کی روح ہمیشہ پاکستان میں رہتی ہے اور مرتے وقت اس کی ساڑھی کا ایک سفید پلو لہراتے ہوئے پاکستان کی طرح اپنا رخ کرتا ہے ،جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور محبت کرنے والا ملک ہے۔ لاکھوں میں ایک سے متاثر ہو کر بھارتی اداکار ،ہدایت کار فلم ساز آنجہانی راج کپور نے فلم حِنا بنائی۔ 

اس فلم کی تکمیل سے پہلے راج کپور آنجہانی ہوگئے۔ فلم ’’حنا‘‘ کی کہانی مکمل کرنے کے لیے راج کپور نے کئی بار فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کا ویڈیو پرنٹ دیکھا۔ رشی کپور اور ان کے کیمرہ مین پاکستان آئے تو ان کی ملاقات سید افضل حسین شاہ سے کرائی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ ’’لاکھوں میں ایک‘‘ بنانے والے یہ صاحب ہیں۔ تو رشی کپور نے انہیں سیلوٹ پیش کیا۔ فلم ’’حنا‘‘ میں زیبا بختیار نے ہیروئن کا کردار کیا تھا۔

فلم کی موسیقی کی بات کی جائے تو موسیقار نثار بزمی نےاس فلم کی موسیقی میں جو طرزیں مرتب کیں، وہ فلمی موسیقی کا ایک شاہ کار ثابت ہوئیں۔ فلم کے تمام نغمات بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ اس سلسلےمیں تنویر نقوی،مسرور انور، اور فیاض ہاشمی کا نام قابل ذکر ہے۔ جنہوں نے اس قدر اعلیٰ معیار کے نغمات لکھے۔ ان نغمات کو ملکۂ ترتم نور جہاں ، مہدی حسن، مجیب عالم اور احمد رشدی نے اپنی آوازوں سے بے حد مترنم بنا دیا۔ فلم کے نغمات کی تفصیل کچھ یُوں ہے

(1) حالات بدل نہیں سکتے۔

(2) ساتھی کہاں جو آواز تو دوں۔

(3) چلو اچھا ہوا تم بھول گئے ۔

(4) بڑی مشکل سے ہوا تیرا میرا ساتھ پیا

 (5) دل دیا درد لیا آنکھ میں آنسو آئے

(6) اومن ساجنا دکھی من کی پکار۔

ان نغمات کے علاوہ موسیقار نثار بزمی نے اس فلم کی کہانی کے پس منظر میں ایک بھجن کی دُھن بھی مرتب کی۔اس بھجن کے بول شاعر فیاض ہاشمی نے لکھے اور میڈیم نور جہاں اور ہم جولیوں نے اسے کورس کے انداز میں ریکارڈ کروایا، فلم میں یہ شمیم آرا اور ایکسٹرا ایکسٹریس پرفلم بند کیا گیا۔ یہ ایک مندر میں پُوجا کے وقت فلمایا گیا، جس میں کوریوگرافی کے فرائض ماسٹر صدیق نے انجام دیے۔ اس بھجن کے بول یہ تھے ۔’’من مندر کے دیوتا لاکھوں لاج ہماری‘‘۔ اس بھجن کو سننےکے بعد بھارتی موسیقار نثار بزمی کےفن کے معترف ہو گئے۔

رضا میر کی ڈائریکشن، کامران مرزا کی فوٹو گرافی، ضیاء سرحدی کااسکرپٹ، ایڈیٹر رحمت علی اور دیگر تمام ٹیکنیشنز اور فن کاروں کا کام اس فلم میں اپنی مثال آپ تھا۔ گویا اس فلم میں ہر فن کار اپنے کام میں لاکھوں میں ایک ثابت ہوا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید