آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میانمار کو برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بھارت کے پڑوس میں واقع یہ ملک گزشتہ دنوں اُس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب یکم فروری کی صبح میانمار کی فوجی قیادت نے برسراقتدار جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی سربراہ آنگ سانگ سوچی کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا اورسوچی سمیت دیگر پارٹی قیادت کو گرفتار کرلیا۔ اقتدار پر قابض فوجی سربراہ نے ایک سال کے اندر ملک میں نئے الیکشن کروانے اور کامیاب ہونے والی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے کا اعلان کیا مگر فوجی بغاوت کے خلاف عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا جنہوں نے فوجی حکمرانوں کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے شروع کردیئے جن کی آواز دبانے کیلئے سخت کریک ڈائون کیا گیا جس کے نتیجے میں 18سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سینکڑوں گرفتار کرلئے گئے۔

اقتدار سے محروم ہونے والی آنگ سانگ سوچی ایک فوجی جنرل اونگ سان کی بیٹی ہیں۔ اونگ سان نے ماضی میں میانمار کو برطانوی تسلط سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن ملک میں کشیدہ حالات کے باعث آنگ سانگ سوچی برطانیہ منتقل ہو گئیں۔ 1988میں جب وہ وطن واپس لوٹیں تو انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ’’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘‘ کی بنیاد رکھی اور فوجی حکومت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیاجس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا جبکہ سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو سزائے موت دے دی گئی۔ 1990کے الیکشن میں سوچی کی پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر فوج نے انہیں اقتدار منتقل نہیں کیا اور سوچی کئی سال تک ہائوس اریسٹ رہیں۔ اس دوران انہیں نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا۔ 2016کے الیکشن میں سوچی کی پارٹی دوبارہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی مگر اس بار سوچی کو فوج کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا معاہدہ کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ میانمار کا آئین فوج کو اقتدار پر اثرانداز ہونے کی اجازت دیتا ہے جبکہ آئینی طور پر فوج کو اقتدار میں 25فیصد حصہ بھی دیا جاتا ہے اور وزارتِ دفاع و داخلہ جیسی اہم وزارتیں فوج کیلئے مختص ہیں۔ حالیہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اس طرح کی افواہیں منظرعام پر آئیں کہ سوچی حکومت آئین تبدیل کرکے فوج کو اقتدار سے الگ رکھنا چاہتی ہے اور شاید یہی وجہ فوجی بغاوت کا سبب بنی۔

آنگ سانگ سوچی کے 4سالہ دور کو میانمار کے مسلمانوں کیلئے سیاہ باب تصور کیا جاتا ہے۔ اُن کے دور میں روہنگیا کے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی، فوج نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا جبکہ اُن کی بستیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ اس فوجی بربریت کے نتیجے میں میانمار کے 8لاکھ سے زائد مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرگئے جہاں آج وہ پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جس سے سوچی کی عالمی شہرت متاثر ہوئی اور اُن سے نوبل پرائز واپس لینے کا مطالبہ زور پکڑا۔میانمار میں حالیہ فوجی بغاوت کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے میانمار کی فوج پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رہے بصورت دیگر میانمار پر عالمی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ امریکی صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں فوجی بغاوت میں ملوث جرنیلوں پر ویزے کی پابندی عائد کردی اور اب یہ فوجی جنرلز امریکہ میں اپنے ایک ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

میانمار کی سیاسی تاریخ پاکستان سے مماثلت رکھتی ہے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد 1948سے 2016تک عملی طور پر میانمار میں اقتدار کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں رہی جس نے سویلین حکومت کو کبھی پنپنے اور آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا۔ میانمار کی فوج ہمیشہ سویلین حکومت پر کرپشن اور الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کرکے اقتدار پر قابض ہوتی رہی ہے اور اس کی مثال حالیہ فوجی بغاوت ہے مگر فوج کو شاید یہ قطعاً اندازہ نہ تھا کہ دنیا کے حالات اب بہت بدل گئے ہیں اور عالمی برادری کی طرف سے سخت ردِعمل اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میانمار کی معیشت بھی پاکستان کی طرح زبوں حالی کا شکار ہے۔ اگر مستقبل قریب میں امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین ممالک نے اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو میانمار تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوگا ، عوام سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ایک وقت میں، میں آنگ سانگ سوچی کی سیاسی جدوجہد کا بڑا حامی تھا اور ماضی میں اُن کی گرفتاری اور اسیری کے دوران میں نے کئی کالمز بھی تحریر کئے تھے مگر روہنگیا مسلمانوں پر آنگ سانگ سوچی کی زیادتیوں، ظالمانہ سلوک اور فوج کی حمایت نے سوچی کی قدر و منزلت میرے دل میں ختم کردی۔ آج آنگ سانگ سوچی ایک بار پھر جیل کی کسی کوٹھڑی میں قید تنہائی میں یقیناً یہ سوچ رہی ہوں گی کہ اگر وہ اپنی ظالم فوج کا دفاع کرنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتیں تو آج انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوتی۔ میرے نزدیک آنگ سانگ سوچی کی اقتدار سے محرومی روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی آہ کا نتیجہ اور مکافاتِ عمل ہے۔

تازہ ترین