آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومت کو بڑا دھچکا، گیلانی کامیاب، حکمران اتحاد کے 16ووٹ کم، حفیظ شیخ 5ووٹوں سے ہارے، وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے

حکومت کو بڑا دھچکا، گیلانی کامیاب


اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جنگ، ایجنسیاں) سینیٹ انتخابات میں حکومت کو بڑا دھچکا، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دیکر کامیاب ہوگئے۔

حکمراں اتحاد کے 16؍ ووٹ کم ہوگئے، سید یوسف رضا گیلانی کو 169، حفیظ شیخ کو 164ووٹ ملے، جبکہ 7ووٹ مسترد ہوئے، خاتون حکومتی امیدوار فوزیہ ارشد 174 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئیں جبکہ اپوزیشن کی امیدوار فرزانہ کوثر کو 161 ووٹ ملے۔

آج ہونے والے الیکشن کے بعد بھی 53؍ ارکان کے ساتھ سینیٹ میں اپوزیشن کی برتری برقرار ہے، جبکہ حکمراں اتحاد کے سینیٹرز کی تعداد 47؍ ہوگئی، تاہم اب پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، سندھ میں پیپلزپارٹی کے 7؍، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم دو دو سینیٹرز کامیاب ہوگئے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے میدان مار لیا، سینیٹ کی 12نشستوں میں 10پر حکومتی امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی، بلوچستان سے بلوچستان عوامی پارٹی 5؍، جے یو آئی (ف) 2؍، بی این پی (مینگل)اور اے این پی ایک ایک نشست جیتنے کامیاب ہوگئی جبکہ 2آزاد امیدواروں نے فتح اپنے نام کی۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جنرل نشست پر شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی 37 خالی نشستوں پر انتخابات کبلئے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواکی صوبائی اسمبلیوں میں ہوئی۔ 

پولنگ کا عمل صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں ریٹرننگ آفیسر کے فرائض الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال نے ادا کئے۔ 

قومی اسمبلی ہال کو بطور پولنگ سٹیشن استعمال کیا گیا جہاں دو پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے۔ سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کامیاب اور حکومتی امید وار حفیظ شیخ فارغ ہوگئے۔ 

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ انہوں نے 169 ووٹ لئے جبکہ حکومتی امیدوار کے حصے میں 164 ووٹ آئے۔ سینیٹ الیکشن میں ٹوٹل 340 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 7 ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔ جبکہ حکومت نے یوسف گیلانی کی کامیابی چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد نے 174 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کی امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ لئے، اس انتخاب میں 5 ووٹ ضائع ہوئے۔ 

عبدالحفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان مقابلے کو ہی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سب سے بڑا اور اہم مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنا ووٹ ڈالا جنہوں نے اسمبلی ہال میں آمد کے دوران تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے ارکانِ قومی اسمبلی کے ساتھ ملاقات بھی کی۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی جنرل نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے جبکہ خواتین کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد اور مسلم لیگ (ن) کی فرزانہ کوثر مدمقابل آئیں۔ 

حکومت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں کامیابی کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق 7 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ عبدالحفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں کے درمیان 5 ووٹ کا فرق ہے۔

دریں اثناء بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمودنے کہاکہ وفاقی دارالحکومت کی جنرل نشست پر سامنے آنے والے نتیجہ کے بعد عمران خان اور ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان اس ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے تاکہ کھل کر سامنے آ جائے کہ کون عمران خان کے نظریہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ 

جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ واضح طور پر ان کے ساتھ ہوں گے ، جن کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے وہ مفاد کی سیاست کرتے ہیں ، وہ انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ ادھر سینیٹ الیکشن میں سندھ سے پیپلز پارٹی سینیٹ کی 7 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے دو، دو نشستیں حاصل کی ہیں۔ 

جی ڈی اے کا امیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔ بدھ کو سینیٹ الیکشن کی 11 نشستوں کیلئے سندھ اسمبلی میں انتخابات ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی 7 جنرل نشستوں میں سے پانچ پر کامیابی حاصل کی۔ 

پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے 22 ووٹ، سلیم مانڈوی والا 20ووٹ، تاج حیدر 20 ووٹ، جام مہتاب ڈھر 19 ووٹ اور شہادت اعوان نے بھی 19 ووٹ حاصل کئے جبکہ ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری 22 ووٹ اور تحریک انصاف کے فیصل واوڈا 20 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ 

خواتین کی 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان 60 ووٹ جبکہ ایم کیو ایم کی خالدہ طیب نے 97 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تاہم پیپلز پارٹی کی رخسانہ شاہ نے 46 ووٹ حاصل کئے۔ 

سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک نے 61 ووٹ اور تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو 57 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔جی ڈی اے کے پیر سید صدر الدین شاہ راشدی سینیٹ کی جنرل نشست کے لئے صرف 15 ووٹ حاصل کرسکے۔ 

بدھ کو الیکشن کے موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔ادھر خیبر پختونخوا میں بھی ایوان بالا کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ تحریک انصاف نے میدان مار لیا، سینیٹ کی 12نشستوں میں 10پر حکومتی امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ 2پر پی ڈی ایم جیت گئی۔

جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کرلی، جنرل نشست پر تحریک انصاف کے شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، فیصل سلیم اور ذیشان خانزادہ، جے یو آئی کے مولانا عطا الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی ہدایت اللہ فتحیاب، تگڑے امیدوار مسلم لیگ ن کے عباس آفریدی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے تاج محمد آفریدی شکست کھا گئے۔

ٹیکنوکریٹ کی نشست پر تحریک انصاف کے دوست محمد محسود اور ڈاکٹر ہمایون مہمند، خواتین کی نشست تحریک انصاف کی ثانیہ نشتر اور فلک ناز جبکہ اقلیتی نشست پی ٹی آئی کے گوردیپ سنگھ نے اپنے نام کر لی، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابربھی الیکشن ہار گئے۔

خیبر پختونخوا میں آئندہ6سال کیلئے نئے سینیٹرز کے چناؤ کیلئے انتخابات صوبائی اسمبلی کی عمارت میں الیکشن کمیشن کی نگرانی میں منعقد ہوئے، خیبر پختونخوا سے سینٹ کی12نشستوں کیلئے مجموعی طور پر23امیدوار مد مقابل تھے۔

سات جنرل نشستوں کیلئےمختلف سیاسی جماعتوں کے10امیدواروں میں رن پڑا جن میں تحریک انصاف کے شبلی فراز،لیاقت ترکئی اورمحسن عزیز نے 19,19ووٹ لے کرکامیابی حاصل کی جبکہ فیصل سلیم اورذیشان خانزادہ پوائنٹس کی بنیادپرکامیاب ہوئے، اپوزیشن کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیرمولاناعطاء الرحمن اورعوامی نیشنل پارٹی کے حاجی ہدایت اللہ کوبھی پوائنٹس کی بنیادپرکامیابی ملی۔ 

جنرل نشستوں پر مسلم لیگ ن کے عباس آفریدی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے تاج آفریدی الیکشن ہار گئے، خیبر پختونخوا سے ٹیکنوکریٹ کی 2نشستوں پر5امیدواروں میں مقابلہ ہوا جن میں تحریک انصاف کے امیدوار دوست محمد نے59 اور ڈاکٹر ہمایون نے49ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔

ٹیکنوکریٹ نشست پر ہارنے والے امیدوار وں میں پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے 34ووٹ حاصل کئے، اے این پی کے شوکت جمال اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر اقبال خلیل نے کوئی ووٹ حاصل نہیں کیا،خواتین کی2نشستوں کیلئے4امیدواروں میں تحریک انصاف کی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے 56 اور فلک ناز چترالی51ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔

خواتین نشست پر ہارنے والے امیدواروں میں جماعت اسلامی کی عنایت بیگم نے36 ووٹ حاصل کئے، اسی طرح خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی اقلیتی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار گوردیپ سنگھ103 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے،ان کے مقابلہ میں جے یوآئی کے رنجیت سنگھ کو25اور اے این پی کے آصف بھٹی12 ووٹ ملے ہیں۔ 

دوسری جانب بلوچستان میں بھی سینیٹ انتخابات مکمل ہوگئے، حکومتی اتحاد نے7 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ میدان مارلیا۔ اپوزیشن اتحاد نے 3 نشستوںپر کامیابی حاصل کرلی، ایک ایک نشست پر حکومت اور اپوزیشن کے حمایت یافتہ آزاد ارکان نے کامیابی حاصل کرلی۔ 

بلوچستان سے سینیٹ کی12خالی نشستوں پر انتخاب کیلئے پولنگ بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں ہوئی، صوبائی الیکشن کمشنر محمد رازق نے ریٹرنگ افسر کے فرائض انجام دیئے، پولنگ صبح نو سے شام پانچ بجے تک بغیرکسی وقفے کے جاری رہی،بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیاجسکے بعد ووٹوں کی گنتی کاعمل شروع ہوا۔ 

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 6 جنرل نشستوں پربلوچستان عوامی پارٹی کےپرنس عمر احمد زئی، میر سرفراز بگٹی، منظور احمد کاکڑ، جمعیت علما اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری، بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم رونجھہ،عوامی نیشنل پارٹی کے نوابزادہ ارباب عمر فاروق کاسی اور حکومتی حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد عبدالقادر نے کامیابی حاصل کی۔ 

ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید احمد ہاشمی، جمعیت علما اسلام کے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، خواتین کی مخصوص نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کی ثمینہ ممتاز اور اپوزیشن اتحاد کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار نسیمہ احسان اور اقلیت کی ایک مخصوص نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے دنیش کمار نے کامیابی حاصل کی۔             

اہم خبریں سے مزید