آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ بات 1974کی ہے، بھٹو صاحب نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کی تھی۔ ہم نے سوچا کہ زیادہ ممالک چونکہ مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لئے عربی بولنے والے ترجمان رکھے جائیں اور باقی اسلامی ملکوں سے متعلق دیگر ترجمان مناسب رہیںگے۔ کانفرنس سے چند روز پہلے ہی معلوم ہوا کہ ہر چند مشرقِ وسطیٰ کے سارے ملکوں میں عربی بولی جاتی ہے مگر ہر ملک کالہجہ مختلف ہے۔ اس لئے نئے مترجم اکٹھے کیے جائیں۔

یہ بات مجھے اس وقت کیوں یاد آئی۔ دراصل سینیٹ نے متفقہ طور پر عربی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کا بل پاس کیا ہے تو اب مجھے اور پوری قوم کو سمجھائیں کہ عرب ملکوں میں سےکس ملک کی عربی کو صائب سمجھا جائیگا ؟ اب مجھے ایک اور پروگرام یاد آگیا بھٹو صاحب سے لے کر ضیاء الحق کے زمانے تک ہزاروں پاکستانی روزی کمانے کیلئے مشرقِ وسطیٰ جانے لگے تھے۔ ان کی عربی بول چال کی تربیت کے لئے، ایک کورس مرتب کیا گیا جس کو پاس کر کے لوگ ان ممالک کا رُخ کرتے تھے۔ یہ شرط بھی کچھ عرصے تک چلی ۔ پھر جنوبی کوریا، جاپان اور چین کے لئے بھی بول چال کے کورس کی شرط رکھی گئی۔ مگر تکنیکی یعنی پلمبر، مزدور اور راج مستری شعبوں میں ان کی اہلیت دیکھی جاتی تھی۔

اب واپس پاکستان آجائیں۔ پہلی یعنی کچی، پکی سے دسویں تک بچوں کو اردو، انگریزی + عربی اور سندھ میں تو سندھی بھی لازمی پڑھنا ہوگی۔ ابھی تک تو شور تھا کہ بچوں کے بستوں کے بوجھ سے بچوں کی کمر دکھنے لگتی ہے۔ اب ایک اور مضمون وہ بھی لازمی۔ آگے جانے سے پہلے یہ تو بتائیں کہ ہمارے ملک میں فی الحال پرائمری اسکولوں میں نہ استاد پورے ہیںنہ عمارتیں اور نہ نصاب کی کتابیں۔ اب بتائیں، عربی پڑھانے کیلئے استاد کہاں سے آئیں گے؟ کیا مدرسوں سے فارغ التحصیل نوجوان، بغیر کسی ٹیچر ٹریننگ کے اسکولوں میں پڑھا سکیں گے؟ پہلے ہی موجود اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں تو پھر یہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی۔ آپ کہیں گے جذبہ ایمانی سلامت۔ اس بارے میں، اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے غالباًبلا سوچ بچار کے قانون پاس کر دیا۔ اسی طرح ایک قانون پاس کیا گیا تھا کہ پہلی کلاس سے انگریزی لازمی مضمون ہو گا۔ نہ نومن تیل تھا اور نہ رادھا ناچی۔ نہ ٹیچر تھے، نہ نصاب تھا۔ قانون ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ اسکول میں اس وقت عربی یا فارسی آپشنل مضمون تھا اور ہے۔ چونکہ فارسی کی تدریس کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، اس لئےاب فارسی کے اساتذ ہ ملتے ہیں اور نہ ضرورت ہے۔ علامہ اقبال یا غالب کا کلام جو فارسی میں ہے، اسے نہ بھی پڑھیں تو قوالی بنا دیتے ہیں۔ یہی کافی ہے۔ تربت اور نفتان سے مہر گڑھ کے مقامی لوگ چونکہ نمکو سے لے کر پیٹرول تک ایرانی استعمال کرتے ہیں کہ معاملات تجارت طے کرتے ہوئے ایک دوسرے کی زبان جسے بول چال کی زبان کہتے ہیں، خوب سیکھ جاتے ہیں۔

ایک مسئلہ اورہے اور وہ رہے گا اور یہ خواتین اساتذہ کے حوالے سے ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے بلوچستان اور شمال مشرقی علاقوں میں ابھی تک جرگوں کا حکم چلتا ہے۔ باجوڑ میں خواتین کو ورلڈ بینک سینٹر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ یہاں ایک اور فرق یاد رکھیں کہ دینی مدرسوں میں عجمی اور عربی مدرسے اپنا اپنا نظریہ اور تقلیدی ایمان رکھتے ہیں۔ کیا اسکولوں اور چھوٹے بچوں کو شیعہ ، سنی اور اہل حدیث کے علاوہ اور کتنے فرقوں میں بانٹ کر نصاب مرتب کیا جائیگا؟ مغربی ممالک میں بھی ہر درجے میں ایک کلاس بائبل کی تدریس کی ہوتی ہے مگر بچوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مرضی سے کلاس میں شامل ہونا چاہیں، ورنہ کوئی باقاعدہ پابندی ہے اور نہ نمبر شمار ہوں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کے علاوہ، دنیا میں کہیں بھی اپنی زبانوں کے علاوہ، دنیا میں مستعمل خاص کر فرانسیسی، جرمنی اور ہسپانوی زبانیں دوسرے مضامین کے طور پر منتخب کریں تو طلبا ایک اور زبان سیکھ کر، اپنی قابلیت بڑھا سکتے ہیں۔

ابھی میں نصاب اور عربی کے معمے میں گرفتار تھی کہ فون آیا، ’’آپا زاہد ڈار نہیں رہا‘‘۔ تنویر انجم، گلنار، عاصم اور نجانے کتنے جانے انجانے لوگوں نے فون پہ تعزیت کی۔ زاہد ڈار اور ہم سب لسانی تشکیلات والے دوستوں نے دوستی یعنی صبح شام ملنے ، شو پڑھنے، سنانے اور نئی کتابوں پر بحث کرنے کا زمانہ 1960 سے لے کر اب تک ایک ساتھ گزارا جس نے سب ہی کو کامران کیا۔پہلےانیس ناگی رفاقت چھوڑ گئے،پھر افتخار جالب،پھر جیلانی کامران،پھر انور سجاد، پھر فہمیدہ ریاض اوراب زاہد ڈارجس نے 30برس پہلے شاعری سے کنارہ کشی اختیارکر لی،عالی صاحب اسے اس کی ابتدائی نظموں کے حوالے سے مادھو کہہ کر پکارتے تھے۔ نظموں کے دو مجموعے ہوئے۔ پھر ضد میں آکر ڈرنک اور نظموں دونوں کو چھوڑ دیا۔ سگریٹ نوشی آخری دنوں سے کچھ پہلے وہ بھی چھٹ گئی۔ غالب کے مصرعے کے مطابق رہیں ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۔میرے بچے بھی زاہد ڈارکو یاد کرکے اداس ہوگئےاور وہ بھی جن سے اس کی ملاقات نہ تھی مگر وہ ادب کا Icon تھا اور رہے گا۔

تازہ ترین