شعبۂ صحت کے انقلابی ٹرینڈز
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی نے اپنی جگہ بنالی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی سے نئی مشینیں متعارف کروائی جارہی ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں مصنوعی ذہانت، میڈیسن ٹیکنالوجیز، آگمینٹڈ اور ورچوئل ریئلٹی ڈیوائسز تجرباتی دور سے گزر کر استعمال میں آرہی ہیں۔ 

اسی لیے نئی دہائی میں ہم شعبۂ صحت (ہیلتھ کیئر) میں بہتری کی امید رکھ سکتے ہیں۔ نئی دہائی کے حوالے سے ہیلتھ ڈیٹا مینجمنٹ نے ان چند رجحانات کی نشاندہی کی ہے جو طبی دیکھ بھال میں بڑا فرق پیدا کریں گے۔ ذیل میں ان رجحانات کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔

مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی ابھرتی ہوئی فیلڈ ہے، جس کے مثبت اثرات میڈیسن (دواؤں) کی دنیا میں بھی رونما ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق ہیلتھ کیئر کی مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت تخمینہ شدہ کمپاؤنڈ اپنی سالانہ 50فیصد نمو کی شرح سے زیادہ بڑھنے کی توقع ہے یعنی یہ 2028ءتک 127ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

کیلیفورنیا سان فرانسسکو یونیورسٹی میں شعبہ طب کے پروفیسر رابرٹ واچرنے پیشن گوئی کی ہے کہ مشینوں کی وجہ سے بہت سے ریڈیولوجسٹ اور پیتھالوجسٹ بے روزگار ہو جائیں گے۔ اگلے 10برس میں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے معمول کی کلینکل پریکٹس میں ضم کیا جائے گا ۔ 

آج آرٹیفیشل انٹیلی جنس الگورتھم اور مشین لرننگ تیار کی جارہی ہے تاکہ جلد سے جلد بیماریوں کی تشخیص اور مریضوں کے علاج کے بہترین آپشنزکا تعین کرنے میں معالجین کی مدد کی جاسکے، جو صحت کے نتائج کو بہتر بنائیں گے۔ اس کمپیوٹنگ کے عمل کو ممکن بنانا صحت سے متعلق اعداد و شمار کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن ہے۔

امیجنگ ٹیکنالوجی

اس دہائی میں صحت کی دیکھ بھال میں ریڈیولوجیکل امیجنگ کے وعدے کو تکنیکی حدود سے دور نہیں کیا جاسکے گا اور مریضوں کا معائنہ کرنے کے آپشنز میں 3Dا ور ورچوئل رئیلٹی کا استعمال بھی بڑھ جائے گا۔

صحت کے ڈیجیٹل ٹولز

موجودہ دہائی میں معالجین تیزی سے ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز پر عمل درآمد کریں گے اور ہیلتھ کیئر کو بہتر بنانے کے لیے نئے طریقوں کو قابل عمل بنائیں گے۔ اس کے علاوہ کلینکل ماحول سے باہر دائمی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ ٹولز اور تیکنیکس کو طبی طریقوں میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ خاص طور پر مربوط اور پہنے جانے والے آلات، سینسرز اور ٹریکرز کا فائدہ اٹھا کر دور دراز علاقوں میں موجود مریضوں کی نگرانی والا پلیٹ فارم ان کے پاس ہوگا ۔

مریضوں سے روابط

مریض اور معالجین عموماًزیادہ سے زیادہ بات چیت (کمیونیکیشن) اور باہمی رابطوں کے خواہاں ہوتے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ موجودہ دہائی میںٹیکنالوجی اس میں بہت مددگار ثابت ہو گی۔ ڈاکٹروں کی پچھلی نسل نے مریضوں کے ساتھ براہ راست کمیونیکیشن کو محدود کرنا چاہاتھا لیکن اب ٹیکنالوجی سے واقفیت ، اس کے فوائد اور صلاحیت میں اضافے نے ڈاکٹروںکو اس بارے میں قائل کرنا شروع کردیا ہے اور دوسرے عوامل بھی اس امر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ 

جنوری2018ء میں ہونے والی ایک تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح مریضوں نے کلینک یا دفترسے باہر بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ریجنسٹریف انسٹیٹیوٹ کے مرکز برائے ہیلتھ سروسز کے سربراہ جوئی لی کی سربراہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اس بات کاجائزہ لیا گیا کہ مریضوں اور ڈاکٹرز نے ای میل ، موبائل فون اور ٹیکسٹ میسیجز کے ذریعے کیسے ایک دوسرے سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان روابط میں اضافے کی کوششیں گزشتہ چند سال سے بڑھائی جاچکی ہیں اور کووڈ-19لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کو کافی فروغ حاصل ہوا۔

معیاری ادویات کی فراہمی

مریضوں کے علاج کے حوالے سے پیش رفت کی جارہی ہے کہ انہیں معیاری ادویات کی فراہمی اور آسان رسائی کویقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی معالجین اور مریضوں کو انفرادی طور پر تیار کردہ پروگرام تیار کرنے کیلئے درکار معلومات تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ مختلف قسم کی بیماریوں کے علا ج کے سلسلے میں وہ کسی ابہام یا کشمکش کا شکار نہ ہوں۔

ایک بین الاقوامی ہیلتھ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے سربراہ، جان ہلامکا کا کہنا ہے،’’صحت سے متعلق ادویات میں جینومکس (genomics) کے استعمال کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کے اہم حصوں کو یکساں طور پر تقسیم کیا اور اپنایا جائے۔ کلینکل جینومکس (جینومز کی ساخت، فنکشن، ارتقاء اور میپنگ سے متعلقہ سالماتی حیاتیات کی شاخ) صحت سے متعلق معیاری میڈیسن کے مترادف نہیں ہوسکتا لیکن یہ یقینی طور پر ایک اہم جزو ہے جو معالجین کو اپنے وعدے کا احساس کرنے میں مدد فراہم کررہا ہے‘‘۔

ٹیکنالوجی کی ترقی سے شعبۂ طب میں رونما ہونے والی تبدیلیاں امراض کی نشاندہی اور ان کے علاج میں معاون ثابت ہورہی ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز بھی متعارف ہوں گی جو انتہائی موذی امراض کا علاج کرنے کے بھی قابل ہوں گی۔

صحت سے مزید