• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی طرح آزاد کشمیر بھر میں ’’سرپرائز ڈے ‘‘ پاک فضائیہ اور بہادر مسلح افواج پاکستان کیساتھ بھرپور یکجہتی اور اس تجدید عہد کیساتھ منایا گیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی مقدس سرزمین پر دشمن نے اگر جارحیت کا ارتکاب کیا تو 27فروری 2019 کی تاریخ دہراتے ہوئے پاک فضائیہ کے قابل فخر ونگ کمانڈر نعمان علی (ستارہ جرات)اور اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی (ستارہ جرات) ایسے نڈر و بیباک شاہین دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیں گے۔’’سرپرائز ڈے‘‘ پر آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں مسلح افواج پاکستان کے حق میں ریلیوں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔ 

آزاد کشمیر کی فضاء مسلح افواج پاکستان زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔26فروری 2019 کو رات کی تاریکی میں 14بھارتی لڑاکا طیاروں نے KPKکے علاقے بالاکوٹ کے گائوں جابہ کو ٹارگٹ کرنے کے دوران 1کوا ہلاک اور 4درخت تباہ کرکے جھوٹ پر مبنی 350دہشت گردوںں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ جب پاک فوج کے شاہینوں نے للکارا تو اپنا ’’پے لوڈ‘‘ ڈراپ کرکے بمشکل اپنی جانیں اور طیارے بھگانے میں کامیاب ہوئے ۔ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ہمارے شیر دل شاہینوں نے بروز بدھ 27فروری 2019  کو دوسرے ہی روز دن کی روشنی میں کمال جنگی مہارت اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے سماہنی سیکٹر پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت کے 2جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ جس سے 1بھارتی طیارے کا ملبہ سماہنی سیکٹر کے گائوں ’’کوٹلہ ہوراں ‘‘ اور دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ بھارتی طیارے کے ونگ کمانڈر ’’ابھی نندن‘‘ کو سول آبادی کی جانب سے جسمانی خاطر تواضح کے بعد مسلح افواج پاکستان کے جوانوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ 

اس عبرتناک شکست اور جگ ہنسائی کے بعد دشمن کے آزاد کشمیر میںآئے روز سرجیکل سٹرائیک کرنے کے دعووں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ دن کشمیری عوام اور بہادر مسلح افواج پاکستان کے جذبات میں اضافے جبکہ دشمن کیلئے شرمندگی اور پسپائی کا باعث ہے۔ 

گزشتہ 2دہائیوں سے لائن آف کنٹرول (LOC)پر قابض بزدل بھارتی فورسیز آزاد کشمیر کی سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں جسکا آزاد کشمیر کے عوام مسلح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دشمن کو دندان شکن جواب دیتے آرہے ہیں ۔ تقریبا ً 20سال میں اب دوسری مرتبہ پاکستان اور بھارت کے مابین کور ایشوز اور تحفظات حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ 

آئی ایس پی آر کیمطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے ’’ہاٹ لائن ‘‘ پر رابطے میں LOCاور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا جائیزہ لیا گیا ۔ LOC معاہدوں پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ اور دونوں اطراف سے ’’ہاٹ لائن ‘‘ رابطے قائم رکھے، ’’بارڈر فلیگ میٹنگز‘‘ کے ذریعے غیر متوقع صورتحال اور غلط فہمی کا حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ 2003؁ء میں پہلی مرتبہ پاکستان اور بھارت کے مابین فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن بھارت نے 13500مرتبہ سیز فائیر کی خلاف ورزی کی جس سے آزاد کشمیر کے 310شہری شہید اور 1600 زخمی ہوئے جسکا بہادر مسلح افواج پاکستان نے ہمیشہ انتہائی بہادری اور جرات مندی کیساتھ دشمن کو جوا ب دیا۔ 

دونوں اٹیمی صلاحیت کے حامل ممالک کے مابین فائیر بندی معاہدے پر اتفاق رائے خطے کے امن اور معاشی ترقی کیلئے اس صدی کی ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔ فائیر بندی کے اس معاہدے کی کامیابی کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آنیوالے دنوں میں کس حد تک اس پر ثابت قدمی دکھاتا ہے۔

قائمقام چیف جسٹس عدالت عالیہ آزاد کشمیر جسٹس اظہر سلیم بابر نے اپنا استعفی صدر ریاست سردار مسعود خان کو ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کیمطابق ایوا ن صدر سے معاملہ عدالت العالیہ میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے قائمقام چیف جسٹس کو انتظار کی ہدائیت کی ہے۔ قائمقام چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکیشن حکومت آزاد کشمیر نے 23فروری کو جاری کیا تھا۔ جس کیمطابق قائم قام چیف جسٹس کی میٹرک کی سند میں درج تاریخ پیدائش کیمطابق 23مارچ کو عمر پیرانہ سال مکمل کریں گے اور بعد از دو پہر عدالت العالیہ سے بطور قائمقام چیف جسٹس پوری مراعات اور ’’لیو ان کیشمنٹ‘‘ سمیت ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

تاہم ان کیخلاف عدالت العالیہ میں وکلاء کی جانب سے رٹس دائر کی گئی ہیں۔ جسمیں ان کی تاریخ پیدائش کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا ۔ سینئر ترین جج عدالت العالیہ جناب جسٹس شیراز کیانی نے یہ کیس سننے سے معذرت کر لی تھی ۔ جبکہ جسٹس صداقت حسین راجہ اکیلے اسکی سماعت کر رہے ہیں ۔ بالآخر PTIآزاد کشمیر کے مرکزی راہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی سردار تنویر الیاس نے ’’سرپرائز ڈے ‘‘ کے موقع پر راوالاکوٹ کے ’’صابر شہید اسٹیڈیم ‘‘ سے آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ ’’افواج پاکستان زندہ باد ریلی‘‘ سے اپنی عملی سیاست کا آغاز کر دیا ہے۔ انتخابی ریلی اور عوامی اجتماع سے خطاب میں سردار تنویر الیاس خان کا کہنا تھا کہ دفاع وطن و آزادی کشمیر کا سفر بہادر مسلح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ جاری رکھا جائیگا۔ ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں کشمیری قوم اپنی افواج کیساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ 

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا پیغام آزاد کشمیر کے ہر گھر تک پہنچائیں گے۔ عمران خان کی ہدائیت پر مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس سمیت دیگر جماعتوں سے اچھی شہرت کے حامل کرداروں کو PTIمیں شامل کریں گے ۔ اسوقت آزاد کشمیر میں موسم بہار کی آمد آمد کیساتھ سیاسی وفاداریاں بدلنے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ بالخصوص آزاد کشمیر کے 90سالہ ’’پاور پالیٹکس‘‘ کے چیمپئن سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات خان کی مسلم لیگ ن چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں شمولیت سے آزاد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے ۔ 

رواں ماہ مسلم کانفرنس کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی پارلیمانی پارٹیوں سے کئی اہم شخصیات آزاد کشمیر کے گزشتہ انتخابات میں نظر آنیوالی ’’ٹانگہ پارٹیاں‘‘ PTIاور مسلم کانفرنس میں پر تولتی نظر آتی ہیں ۔ 

الیکشن سے قبل یا الیکشن کے فوری بعد مسلم کانفرنس اور PTIمیں اتحاد یقینی نظرا ٓرہا ہے ۔ سردار سکندر حیات خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر سے خاتمہ میری دلی خواہش ہے۔ سردار سکندر حیات خان حکومتیں بنانے اور گرانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہی ۔ تاہم مئی میں عید الفطر کے بعد آزاد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ مزید واضح ہونے کا امکان ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر اور اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین بھی بھرپور عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں ۔

 PTIمیں سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سردار تنویر الیاس میں شخصی اختلاف اب کوئی ڈھکی چھپی ات نہیں ۔ اگر PTI کشمیر اور پاکستان میں قائم PTIحکومت کسی سیاسی حادثے کا شکا ر نہ ہوئی تو عام انتخابات میں اس کے مسلم کانفرنس کیساتھ’’ کولیشن گورنمنٹ ‘‘بنانے کے امکانات واضح ہیں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید