آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آمری زیریں سندھ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جو جام شورو کے ضلع میں کیرتھر کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔اس کا شمار وادی سندھ کی قدیم ترین تہذیبوںمیں ہوتا ہے۔یہ قصبہ آ ج بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر دریاسے ایک میل کی دوری پر ہے۔ کراچی سے اس کا فاصلہ1750میل ہے۔ 4.10ایکڑ پر مشتمل یہ ٹیلہ 1929ء میں این سی موجمدار نے دریافت کیا۔ فرانسیسی آرکائیولوجیکل مشن اور پاکستان آرکائیولوجی ڈپارٹمنٹ نے مذکورہ علاقے کی 1959ء تا 1962تک کھدائی کی۔ 

اس کے تین ٹیلوں سے ملنے والے برتنوں اور ٹھیکریوں سے اندازہ ہوتا ہےکہ سب سے اوپر والے حصے سے جو ظروف برآمد ہوئے ہیں ، وہ ٹھٹھہ اور ملتانی طرز کے ہیں۔ آمری کی قدیم بستی دو ٹیلوں پر مشتمل تھی جو موجودہ آمری گائوں کے قریب شمال میں واقع ہے۔ ان میں سےایک ٹیلہ چالیس فٹ جب کہ دوسرا 13فٹ بلندہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ قدیم دور میں یہ گاؤں چوبیس ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق ، یہ بستی پانچ مرتبہ آباد ہوئی ۔ سندھ کی قدیم تہذیب کے محقق ڈاکٹر رفیق مغل کی تحقیق کے مطابق آمری گاؤں 3540 سال قبل بسا تھا۔ کھدائی کے دور ان جو برتن ملے ، ان میں سے 82 فیصد ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں۔

برتنوں پر جونقاشی کی گئی ہیں ان کی ہیئت ہندسوں کی شکل کی ہے،جو تصاویر انتہائی بھدی ہیں ۔ کھدائی کے دوان تانبے کےچند ٹکڑے بھی دستیاب ہوئےہیں۔ ٹوٹے ہوئے بلیڈ، پتھر کے گولے، کچھ مٹی کے بنے موتی ،گھونگھوں کی بنی چندچوڑیاں بھی ملی ہیں۔ کچی اینٹوں سے تعمیر کی گئی دیواریں بازیاب ہوئی ہیں، جن میں بعض جگہ لکڑی کے ستون لگائے گئے ہیں۔ یہی فن تعمیر موئن جو دڑوکے اناج گھر وںکی تعمیر میں استعمال کی گیا۔ ان میں سےبعض عمارتیں تہہ خانوں کے اوپر بنی ہوئی ہیں۔

آمری تہذیب کا زمانہ مختلف ادوار پر مشتمل ہے۔ قدیم آثار کے ماہرین کے مطابق آمری کے تیسرے زمانے سے مستطیل شکل کی عمارتوں کے کھنڈرات ملے ہیں، جن میں چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان کی دیواروں میں کھڑکیاں اور دروازے بھی نہیں ہیں۔ صرف ایک گھر میں دو کمروں کے درمیان دروازے کی جگہ چھوڑ ی گئی ہے۔ ان کی دیواریں پانچ سے چھ فٹ اونچی تھیں۔

ان قدیم آثار سےمغلیہ دور کے سکے بھی برآمد ہوئےہیں۔ کھدائی کے دوران وہاں سے بھٹیاں ملیں اور چند برتن بھی ، جو کتھئی رنگ کے ہیں۔موجمدارنے اس حوالے سے لکھا کہ ’’جب ہم ڈھیری نمبردوکی کھدائی کرنے لگے تو وہاں سے معدنیات کے ٹکڑے برآمد ہوئے ۔ایک ٹیلے ی کی چوٹی پر مسلمانوں کا قبرستان تھا۔ لہٰذا ہمیں بے حد احتیاط سےکام کرنا پڑا۔

جب دوسری جگہ کھدائی کی گئی تووہاں تقریباً ایک فٹ کی گہرائی میں ایک پتھر سے بنی عمارت کےآثار ملے ،جن کے مشرقی جانب چھوٹے کمروں کی بنیادیں نظر آنے لگیں۔ دیواروں کی تہوں سے کھدائی کے دوران گومڑیوں یا بجری کے ڈھیر صاف کیےگئے، جو بنیادوں میں استعمال کیےگئے تھے۔

مزید کھدائی کرنے سےکالی مٹی کی ایک تہہ دوبارہ نمودار ہوئی اور اس کے ساتھ ہی مختلف رنگ کے ظروف بھی دریافت ہوئے۔ یہاں سےمختلف اقسام کےبرتن، پیالے اور گلاس دریافت ہوئے۔ آمری کے آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف تہذیبوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک، موئن جودڑو کی ہم عصر ہے۔