آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہیکرز سافٹ ویئر میں خامیوں کی نشاندہی کرکے ملینیئرز بن گئے

لندن (پی اے) وائٹ ہیٹ بونٹی ہیکرز کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران سرکردہ بگ بونٹی رپورٹنگ سروس کے ذریعے سافٹ ویئر خامیوں کی رپورٹنگ کر کے 2020 میں ملینیئر بن گئے۔ وائٹ ہیٹ بونٹی ہیکرز نے اس طریقے سے سال کے دوران ریکارڈ 40 ملین ڈالر (28 ملین پونڈ) رقم کمائی۔ ہیکر ون کا کہنا ہے کہ متاثرہ آرگنائزیشنز کو اپنی فائنڈنگز سے متنبہ کر کے 9 ہیکرز نے فی کس ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقم کمائی جبکہ رومانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، جس نے دوسال قبل ہی بگ ہنٹنگ شروع کی تھی، مجموعی طور پر سب سے زیادہ 2 ملین ڈالر کمائے۔ برطانیہ کے سب سے زیادہ آمدن والے ہیکر نے گزشتہ سال 370000 ڈالر کمائے۔ پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس پینڈامک کی وجہ سے والنٹیئرز کو ایسی کوششوں کو آگے بڑھانے کیلئے زیادہ مواقع اور وقت فراہم کیا۔ ہیکر ون کے اس سروے میں 38 فیصد شرکا نے بتایاکہ انہوں نے کورونا وائرس پینڈامک کا عروج شروع ہونے کے بعد اپنا زیادہ تر وقت ہیکنگ میں گزارا۔ ان میں سے بہت سے افراد پارٹ ٹائم یہ کام کرتے ہیں اور یہ لوگ امریکہ، ارجنٹیا، چین، بھارت، نائیجیریا اور مصر سمیت درجنوں مختلف ملکوں میں مقیم ہیں۔ ان ہیکرز کو دی جانے والی رقم کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ انہوں نے سافٹ ویئر میں جس خامی کی نشاندہی کی ہے، اس کی شدت کتنی ہے اور اس کیلئے رقم کی مالیت 140 پونڈ سے بہت زیادہ رقم تک بھی ہو سکتی ہے۔ ہیکر ون کیلیفورنیا میں بیسڈ ادارہ ہے، جو اپنے پلیٹ فارم کے استعمال کیلئے بزنسز سے سبسکرپشن فیس وصول کرتا ہے۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی ایک لیکچرار برطانوی بگ بونٹی ہنٹر کیٹی پیکسٹن فیئر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں سافٹ ویئرز میں خامیاں تلاش کرتی ہیں اور جب پیسہ ملے تو کیا ہی اچھا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جلد دولتمند بنانے کی سرگرمی نہیں ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران اس سرگرمی کے ذریعے 12000 پونڈ کمائے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلا بگ تلاش کیا تھا اور میں اس پر خود بھی حیرت زدہ ہو گئی تھی اور میں محسوس کررہی تھی کہ واہ میں نے لوگوں کو خاصے بڑے نقص سے بچا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف انعام حاصل کرنے کیلئے اپنا وقت استعمال نہیں کرتی بلکہ میں ایپلی کینشز کو محفوظ بنانے میں مدد کیلئے یہ سرگرمی کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ کام اس چیلنج کے ساتھ کرتی ہوں کہ میں کوئی اچھا کام کر رہی ہوں۔ اسی طرح کا ایک اور پلیٹ فارم، جو یس وائی ہیک کہلاتا ہے اور فرانس میں بیسڈ ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس کے 22000 ہیکرز نے 2020 کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی تعداد میں خامیوں کی نشان دہی کی تھی لیکن اس پلیٹ فارم نے اپنی سروسز کے ذریعے دی گئی رقم کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ کمپنیوں کی اقتصادی بقا کو درپیش نئے خطرات اور سائبر سیکورٹی کی اہمیت کے پیش نظر زیادہ تعداد میں چیف انفارمیشن سیکورٹی آفیسرز اب بگ بونٹیز بن رہے ہیں۔ وہ سافٹ ویئرز میں خامیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ایک اور پلیٹ فارم بگ کرائوڈ کے چیف ایگزیکٹیو گوئیلوم یلوم واسالٹ ہولیری نے کہا کہ ان کے پلیٹ فارم پر بھی گزشتہ 12 ماہ کے دوران سافٹ ویئرز میں خامیوں کی نشان دہی کرنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمرشل بگ بونٹیز پروگراموں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں آفیسرز اس جانب راغب ہو رہے ہیں لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اگر اس سسٹم پر بہت زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے تو اس میں بھی کچھ خامی ہے۔ ہالینڈ میں جی ڈی آئی فائونڈیش کے ذمہ دار اور سیکوٹی ریسرچر وکٹر گیوئر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی بگ کی نشاندہی کر کے رقم حاصل نہیں کی۔ ہم بگ بونٹیز میں شرکت نہیں کرتے کیونکہ وہ بعض اوقات اپنے دائرہ کار میں بہت کم ہوتے ہیں اور وہ ریسرچرز کو ہی صرف اس سسٹم کے بعض حصوں میں خامیوں کو دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اخلاقی طور پر ان کمزوریوں کو تلاش کرنے کے قابل بننا چاہتے ہیں، جہاں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ موجود ہیں اور ہماری آزادیوں کو برقرار رکھتی ہیں لیکن سیکورٹی۔ آغاز کرنے والے ریسرچرز اور طالب علموں کیلئے تو یہ کمرشل بگ بونٹی پلیٹ فارمز بہت اچھے ہیں، کیونکہ وہ انہیں بہت سارا تحفظ، وسائل کے ساتھ شروع کرنے کیلئے اچھی اور موزوں جگہ فراہم کرتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید