آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومت کمزور ہوئی یا نہیں، یہ طے ہے کہ ہل ضرور گئی ہے، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ حکومت کمزور ہوئی ہے یا نہیں یہ طے ہے کہ ہل ضرور گئی ہے، سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے افراط زر میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ پریشان کن ہے۔ 

قبل ازیں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ ملک بھر میں ایک دفعہ پھر کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ برطانیہ سے آنے والے وائر س کی وجہ سے تیسری لہر ز یادہ خطرناک ہے۔ 

ویکسین لگانے کی شرح میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال بھی ہم سے آگے ہیں، کیا سارا انحصار عطیاتی ویکسین پر ہے خریداری کب ہوگی؟ 

سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے مزید کہا کہ حکومت کمزور ہوئی ہے یا نہیں ہوئی لیکن یہ طے ہے کہ ہل ضرور گئی ہے گیلانی جب کامیاب ہوئے اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ ان کے اپنے ایم این ایز یا سینیٹرز ناراض ہیں بلکہ قوم کو اور اسٹیک ہولڈرز کو یہ پیغام بھی مل گیا کہ جس طریقے سے ایک پیج تھا وہ ایک نہیں رہا۔ 

اس حکومت کی اصل ایک پیج پر ہونا ہی تھا لیکن وہ اس طرح نہیں رہا جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے ان کی اخلاقی پوزیشن بہت کمزور ہوئی ہے استعفوں کے وعدے سے پیچھے ہٹی جن اسمبلیوں کو جعلی کہتی تھی ان جعلی اسمبلیوں سے ہی سینیٹرز منتخب کرائے۔ 

پی ڈی ایم میں جو ہم آہنگی تھی اس میں بھی کچھ نہ کچھ دراڑیں آگئی ہیں اس لئے جیت نہ حکومت کی ہوئی ہے نہ پی ڈی ایم کی ہوئی ہے۔ مدد نہ ہوتی تو چیئرمین سینیٹ کا ووٹ نہیں لیا جاسکتا تھا کیوں کہ چیئرمین سینیٹ یا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عمران خان کے نمائندے نہیں ہیں۔ مرزا آفریدی بنیادی طور پر سنجرانی کے نامزد کردہ تھے۔ 

گیلانی جیتے تو پیپلز پارٹی نے یہی کہا کہ ہم نے حکومت کو ہلا دیا اتنا پریشان حکومت کو کسی جلسے نے نہیں کیا لیکن چیئرمین سینیٹ کے جیتنے کے بعد مولانا اور نوازشریف کے بیانیہ کو درست کردیا۔ 

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بلاول مولانا کو ہمنوا بناتے ہیں یا مولانا اُن کو ہمنوا بناتے ہیں کووڈ کی نئی لہر کی وجہ سے ممکن ہے جس طرح اپوزیشن چھبیس مارچ کو کرنا چاہ رہی تھی وہ شاید ممکن نہ ہو۔ 

شہزاد اقبال نے پروگرام کے آخری حصے میں کہا کہ حکومت معیشت کی اچھی تصویر دکھا رہی ہے مگر مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور افراط زر ابھی بھی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے اس حوالے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے افراط زر میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ پریشان کن ہے۔ 

زرعی پیداوار بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھنے سے افراط زر میں دو تہائی اضافہ ہوا ہے۔

اہم خبریں سے مزید