• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راشدہ جاوید

آج پھر گھر پر سبزی پکی تھی اور میرا دل برگر کھانے کو تھا، گھر سے نکلا قریبی ریستوراں پر لمبی لائن میں میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک پاس والی دیوار کے سائے میں ایک شخص آبیٹھا جو غالباً مزدور تھا اُس نے ایک رومال سے دو سُوکھی روٹیاں نکالیں ان روٹیوں پر ہری مرچ کا اچار تھا ،سامنے روٹی کھول کر رکھی، ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگی اور نوالہ توڑا، میں اُسے غور سے دیکھنے لگا... اس کے ہر لقمے پر اس کے چہرے پر ایک عجیب خوشی اور شکر محسوس ہو رہا تھا، اتنے میں ایک اور مزدور آکر اس کے پاس دیوار کے سائے میں بیٹھ گیا اور اپنے رومال سے روٹی نکالی لیکن اس کی روٹی میں اچار بھی نہ تھا ،تب اس پہلے مزدور نے کھاتے ہوئے اپنی روٹی کا اچار اس کی روٹی پر رکھ کر کہا.... "میرا پیٹ بھرگیا تھا ،اچھا ہوا جو تم اچار نہیں لائے ورنہ میرا ضائع ہو جانا تھا" بس یہ وہ آخری الفاظ تھے جو میں نے غور سے سنے بھی اور اسےدیکھا بھی.... اتنے میں آواز آئی، جی سر آپ کا آرڈر کیا ہے؟

میں نے ریستوراں کے سٹاف کی طرف دیکھا تو میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور منہ میں ایک لفظ نہیں تھا بس اتنا کہا کہ..."مجھے برگر نہیں پسند" اور کھڑکی چھوڑ کر ان مزدوروں کے پاس جا کر رُک گیا، مجھے سر پر کھڑا دیکھ کر وہ دونوں بوکھلا گئے.... ایک نے کہا،’’ باؤ جی ابھی چلے جاتے ہیں بس روٹی کھانے چھاؤں میں بیٹھ گئے‘۔

‘ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے میں نے ان کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا اپنی روٹی سے ایک نوالہ دوگے؟ اس نے پوری روٹی میری طرف بڑھا دی اور جھٹ سے ایک پرانی سی بوتل کھول کر اپنا پانی بھی میرے آگے کر دیا....

میں نے ایک نوالہ اچار کے ساتھ جو منہ میں لیا کاش میرے پاس الفاظ ہوتے تو میں کہتا، کہ اس دنیا کے سب کھانوں سے لذیذ لقمہ تھا میں نے روتے ہوئے پوچھا یہ کھانا اتنا لذیذ کیسے ہے؟ وہ بھی اچار کے ساتھ؟

مزدور نے کہا باؤ جی حلال کمانے کی کوشش کرتے ہیں شاید تب ہی مزہ آتا ہے رُوکھی سُوکھی کھانے کا بھی۔

مجھے نہیں یاد میں نے کتنے لقمےکھائے اس کے بعد اس کی روٹی کے اور اپنی کمائی پر دھیان لگا کر سوچتا رہا ،خود کا گریبان حرام سے بھرا لگا.... وہ دن ہے اور آج کا دن ہے...

حلال کمانے کی کوشش کرتا ہوں اور ہاں...." مجھے اب برگر نہیں پسند، سادہ روٹی کھاتا ہوں جو بہت لذیذ ہوتی ہے۔ “