آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں وزیرِ اعظم پاکستان ، عمران خان نے لاہور میں موسمِ بہار کی شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور میں میا واکی تیکنیک کے ذریعے پچاس جنگل اگانےکے منصوبے کا اعلان کیا۔پھر فروری ہی کے اواخر میں بلدیہ عظمی کراچی کے ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد اور اور این ای ڈی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی، کے وائس چانسلر حشمت لودھی نے مذکورہ تیکنیک کے ذریعے تین سو جنگلات اُگانے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیےتو بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جنگل اُگانے کا آخر یہ کون سا طریقہ ہےاور پاکستان میں اس کا تجربہ کیوں کیا جارہا ہے؟

اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ تیکنیک پاکستان میں پہلی مرتبہ استعمال نہیں کی جارہی۔اسے پاکستان میں سب سے پہلے 2016میں کلفٹن، کراچی میں ملک کا پہلا شہری جنگل اُ گانے کے لیےاستعمال کیا گیا تھا ۔ پھر 2017 میں یہ ہی طریقہ لاہور میں شہری جنگل اُگانے کے لیے استعمال کیا گیاجو ایک نجی کوشش تھی۔گزشتہ برس لاہور کے لبرٹی چوک پر بھی اسے استعمال کیا گیا۔

کراچی میں میاواکی کا طریقہ استعمال کرکے شہری جنگل اُگانے کا تجربہ کرنے والی تنظیم اربن فاریسٹ کے بانی شہزاد قریشی نےبھارت میں مقیم میاواکی طریقے کے ایک ماہر شبھیندو شرما کی مدد سے کراچی میں اسے آزمایاجو کام یاب رہا۔ انہوں نے کراچی کے ایک پارک کی پانچ سال کےلیے سرپرستی حاصل کی اور اس کے پانچ سو مربع فیٹ کے ٹکڑے پر جنوری 2016 میں جو پیڑ، پودے لگائےتھے ان میں سے کچھ اس وقت بیس بیس فٹ کے اور کچھ پچّیس فیٹ سے بھی بلند ہو چکے ہیں۔ دراصل میاواکی تیکنیک نے ہمیں اپنا ماحول بہتر بنانے کے لیےنئی راہیں کھول دی ہیں۔

شہری جنگل اگانے کا میاواکی طریقہ

یہ تیکنیک جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ نباتات اکیرا میاواکی نے متعارف کرائی تھی۔اس کے ذریعے کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے علاقے کے مقامی پیڑ، پودے اکٹھا کیے جاتے ہیں جن میں پھل دار، پھول دار،سایہ دار درخت، بیلیں، جھاڑیاں، گویا ہر قسم کے پودے شامل ہوتے ہیں۔ جہاں جنگل اگانا ہوتا ہے وہاں زمین پر کوئی کیمیکل یا کیمیائی کھاد نہیں ڈالی جاتی بلکہ صرف قدرتی اجزا کو کھاد کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر مقامی پودوں کو چاردائروں میں جنگل کی ترتیب سے لگا دیا جاتا ہے۔

ان پیڑ،پودوں کو صرف تین سال تک پانی دیا جاتا ہے اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔اس کے بعد یہ اپنی خوراک اور پانی کا انتظام خودکرنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اپنی انتہائی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ صرف تین سال میں وہاں ایسا ماحول پیدا ہو جاتاہےجہاں پرندے، مختلف اقسام کے حشرات، تتلیاں، چڑیاں، شہد کی مکھیاں، گرگٹ وغیرہ آنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے قدرتی جنگل جیسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔

تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اس طریقے سے لگائے گئے درخت مقابلتاً دس گنا زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں، مقابلتاً تیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں ،تیس گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزا کو تیس گنا زیادہ جذب کرتے ہیں ۔یوں یہ اپنے ارد گردکے علاقے کی ہوا کو صاف کر کے صحت مند فضا پیدا کر دیتے ہیں۔

اکیرامیاواکی اور ان کا طریقہ

اکیرا میاواکی جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک ماہرِ نباتات ہیں۔ 29جنوری 1928کوپیدا ہونے والے درختوں کے ماحول کے اس ماہرنے بیجوں اور قدرتی جنگلات کے مطالعے میں مہارت حاصل کی ۔وہ تنزّلی کی شکار زمین پر فطری طورپر سبزےکی بحالی کے ماہر کے طورپر عالمی سطح پر مصروفِ عمل شخصیت کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ وہ 1933سے یوکو ہاما نیشنل یونیورسٹی سے پروفیسر ایمریطس کے طورپر وابستہ ہیں اور ماحول کے بارے میں بین الاقوامی مطالعےکے جاپانی مرکزکے ڈائریکٹر ہیں۔ان کی خدمات کے اعتراف کے طورپر 2006میں انہیں بلیو پلانیٹ پرائزسے نوزا گیا تھا۔یاد رہے کہ یہ انعام اس غیر معمولی سائنسی تحقیق یا سائنس کے ایسے اطلاق پر دیا جاتا ہےجو عالمی ماحولیاتی مسائل حل کرنےمیں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

اس کا اجرا 1992میں جاپان کی آساہی گلاس فاونڈیشن نے کیا تھا ۔یہ فاونڈیشن شیشہ تیار کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے جاپانی ادارے آساہی گلاس کمپنی کی قایم کردہ ہے۔اس پرائز کی تاریخی اہمیت یہ ہے اسے 1992میں منعقد ہونے والی ریو ارتھ سمٹ کے موقعے پر جاری کیا گیا تھاجو عالمی سطح پر ماحول کے تحفظ کی ایک بہت نمایاں پیش رفت کے طورپر جانی جاتی ہے۔

اس وقت سے یہ انعام ہربرس دو ماہرین کو دیا جاتاہے۔یہ انعام حاصل کرنے والے بیس ماہرین نے ہی وہ مشترکہ تحقیقی دستاویز تیار کی تھی جو بیس جنوری 2012کو نیروبی میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی گورننگ کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔اس دستاویز کوماحول کے تحفظ کی عالمی کوششوں کے ضمن میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

یہ ماہر1970کی دہائی سے قدرتی جنگلات کی اہمیت اور افادیت اور ان کی فوری بحالی کی وکالت کرتا چلا آرہا ہے۔انہوں نے جاپان کے مقامی پیڑ،پودوں اور جنگلات پر طویل عرصے تک تحقیق کی ۔انہوں نے جزمنی میں ایک نظریے پوٹینشل نیچرل ویجی ٹیشن (پی این وی ) کا مطالعہ کیا تھا۔چناں چہ انہوں نے اس پر تجربات کا آغاز کیا اور طویل تحقیق اور تجربے کے بعد ایک ایسا طریقہ وضح کرنے میں کام یاب ہوگئے جس کی مدد سے نہایت تنزّلی کی شکار ایسی اراضی پر مقامی پیڑ، پودوں کے بیجوں کے ذریعے جنگلات اگانے اور انہیں بحال کرنے میں کام یاب ہوگئے جو بنجر ہوچکی تھی۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ماحولیاتی انجینئرنگ کا ایک طریقہ ایجاد کیا،اس پر تجربات کیے اوراسے نکھاراجسے آج میاواکی طریقہ یا تیکنیک کہا جاتا ہے۔ماحولیاتی نظریات اور اپنے تجربات استعمال کرتے ہوئے انہوں نے بہت تیزی اور کام یابی سے جاپان اور استوائی خِطّے میں واقعے متعدد ممالک میں تیرہ سو مقامات پر جنگلات اگائے ۔

انہوں نے 1950کی دہائی میں نوجوان گریجویٹ کی حیثیت سے اپنی تحقیق کے دوران فائٹو سوشیالوجی یا پیڑ پودوں کی سماجیات کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے دوران انہوں نے یہ سمجھنے اور جاننے کی کوشش کی کہ پیڑ، پودوں کی انواع کس طرح ایک دوسرے سے تعلق قایم کرتی ہیں۔اس مطالعے کے دوران انہوں نے جاپان کے مذہبی اہمیت کے حامل مقامات پرموجود جنگلات کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا تو ان پر یہ راز کھلا کہ ان جنگلات میں پودوں کے چار حلقے ہوتے ہیں ۔پہلے حلقےمیں مرکزی انواع ہوتی ہیں، دوسرےمیں ذیلی انواع، تیسرے میں جھاڑیاں اور چوتھے حلقے میں زمین کو ڈھانپنے والی جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں۔ان چار درجات کا نظام سمجھنے کے بعد انہوں نے جنگلات اگانے کا اپنا طریقہ یا تیکنیک وضح کی۔

انہوں نے یہ اصول اپنایا کہ جہاں جنگل اگانا مقصود ہو پہلے وہا ںکی زمین کا جائزہ لیا جائے اور پھر اسے مقامی طورپر دست یاب اشیا کی مدد سے بہتر بنایا جائے ۔مثلا اس میں چاول کا چھلکا ملادیا جائے ۔ درج ِ بالا درجات کے مقامی پیڑ ،پودوں کی پچاس تا سو انواع کا انتخاب کرکے انہیں بغیر کسی ترتیب کے ملاکر پودوں کی صورت میں لگا دیا جائے،جیسا کہ قدرتی جنگلات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔تجارتی بنیاد پر اگائے جانے والے جنگلات میں فی ہیکٹر ایک ہزار پودے لگائے جاتے ہیں ،لیکن میا واکی تیکنیک میں اس کے بر خلاف اتنے رقبے میں بیس تا تیس ہزار پودے لگائے جاتے ہیں۔

پھر دو تا تین برس اس جگہ کی دیکھ بھال اور نگرانی کی جاتی ہے،پانی دیا جاتا ہے اور خودرو گھاس کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس عرصے میں پودے اپنی نشوونما کے لیے ایک دوسرے سے جگہ ،پانی اور روشنی حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔یہ عمل ان کی تیز رفتار نشونما کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔جنگل اگانے کے روایتی طریقے میں درختوں کے سالانہ ایک میٹر کی شرح سے بڑھنے کو معمول کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔لیکن میاواکی تیکنیک کے ذریعے یہ دس گنا زیادہ رفتار سے بڑھتے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ جنگل اُگ جائے تو پھر اسے کبھی کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس تیکنیک کے ذریعے وہ پندرہ ممالک میں چار کروڑ درخت اُگاچکے ہیں۔

اس تیکنیک کے دوسرے بڑے اور کام یاب ماہر کے طورپر ابھرنے والے شخص بھارت کے شبھیندو شرما ہیں۔وہ پیشے کے اعتبار سے صنعتی انجینئر ہیں۔2009 میں وہ جاپان کے گاڑیاں بنانے والے عالمی شہرت یافتہ ادارےکے کرناٹک میں قایم پلانٹ میں ملازمت کر رہے تھےکہ ایک روزوہاںاکیرامیاواکی نےجنگل اگانے کی اپنی تیکنیک کے بارے لیکچر دیاجسے سُن کروہ مبہوت وہ رہ گئے ۔

دراصل میاواکی کو مذکورہ پلانٹ کے اردگرد موجود اراضی پر جنگل اُگانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔شبھیندو اس کام میں رضاکاربن گئے ۔ 2010میں انہوں نے اپنے گھر کے عقب میں موجود پچھہتّر مربع میٹر جگہ سے جھاڑ، جھنکاڑ اکھاڑ کر اس تیکنیک کے ذریعے مقامی درختوں اور جھاڑیوں کی اُنّیس انواع کے دوسو چوبیس پودے لگائے اور ان کی دیکھا بھا کرنے لگے۔جلد ہی وہ پودے تیزی سے بڑھنے لگے اور درجنوں انواع کےپرندے وہاں آنے لگے۔

انہوں نے تھرما میٹر کی مدد سے دیکھاکہ ان درختوں کےنیچےدرجہ حرارت ارد گرد کے مقابلے میں جون کے مہینے میں بھی پانچ ڈگری سیلیس تک کم ہوتا ہےاور اگست میں مون سون کی بارشوں کے دوران جہاں بارش کا پانی جوہڑ کی صورت اختیار کرلیتا تھا وہاں اب وہ زمین میں اس طرح جذب ہوجاتا ہے جیسے اسفنج میں پانی۔پھر ایک ہی برس میں ان کا اگایا ہوا جنگل اس قابل ہوگیاتھاکہ اب اسے کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

اس ذاتی تجربے کی کام یابی نےانہیں یہ پیغام دیاکہ یہ تیکنیک واقعی لاجواب اور قابلِ عمل ہے۔ چناں چہ 2011میں انہوں نے مذکورہ ادارے کی ملازمت سے استعفی دے کر جنگلات اُگانے کا اپنا ادارہ قایم کرلیا۔اس وقت سے اب تک ان کا ادارہ دنیا کے پچاس شہروں میں 144چھوٹے جنگلات اُگا چکا ہے جن میں ساڑھے چار لاکھ درخت موجود ہیں ۔ کراچی میں پہلا شہری جنگل ان ہی کی مدد سے کلفٹن کے علاقے میں اُگایا گیا ہے۔ انہوں نے بھارت میں اس سلسلے کا پہلا بیج بنگلور میں 2014ء میں بویا تھا۔ شرما کی کمپنی قدرتی اور دیکھ بھال کی ضرورت سے عاری مقامی جنگل اُگانے کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

میاواکی کی تیکنیک درختوں کو قدرتی ماحول سےدس گنا زیادہ تیزی سے اگنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے خود کو برقرار رکھ سکنے والا جنگل صرف دوتا تین برس میں تیار ہوجاتا ہے۔ شبھیندو کہتے ہیں کہ لوگ ہمیں آئرلینڈ، فرانس، کینیا، آسٹریلیا، غرض یہ کہ پوری دنیا سے مکمل طور پر بالغ ہوچکےجنگلات کی تصویریں بھیجتے ہیں ۔ دو ڈھائی برس قبل انہیں نیدرلینڈز میں سو شہری جنگل اگانے کا کام ملا تھا۔

ان کے مطابق ویسے تو ایک قدرتی جنگل کو مکمل طور پر بالغ ہونے میں تقریباً سو سال لگتے ہیں، مگر ان کے اگائے ہوئے جنگل دس گنا تیز،تیس گنا زیادہ گھنے اورسو گنا زیادہ حیاتیاتی تنوع رکھتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کراچی صرف پچّیس شہری جنگل اگا لے تو خوف ناک اربن ہیٹ آئی لینڈ افیکٹ سے چھٹکارہ پاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس عمل میں انسانی سرگرمی کی وجہ سےکسی علاقے کا درجہ حرارت دیہی علاقوں کے درجہ حرارت سے زیادہ ہوجاتا ہے۔

راجستھان میں جہاں شبھیندو کے مطابق زمین مردہ تھی، وہاں انہوں نے مصنوعی طریقے سے خردبینی اجسام متعارف کرائے اور 2016ء میں وہاں جنگلات کی ایک پٹی قائم کردی۔ شبھیندو کہتے ہیں کہ راجستھان کے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے لاہور میں 2017ء میں نئی تیکنیک سے جنگل اُگایاجوکراچی میں موجود شہری جنگل سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

چند اہم نکات

اربن فاریسٹ اُگانے کے ضمن میں ماہرین چند نکات اہم قرار دیتے ہیں۔ مثلا سو مربع میٹر کے ٹکڑے کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ320تا350پودے لگائے جائیں۔مقامی انواع کے درختوں اور جھاڑیوں کی اقسام ایک دوسرےکے قریب لگائی جائیں۔مٹی کی تیاری کے لیے مخصوص مقدار میں گنے کا بھوسہ،چاول کا چھلکا اور گائے کا گوبر استعمال کیا جائے۔ ہر مربع میٹر کوپہلے تین برس تک روزانہ تین تا پانچ لیٹر پانی درکار ہوتا ہے اور پہلے سال میں بیلیں صاف کرنی ہوتی ہیں۔ کسی بھی قسم کا کیمیکل، مصنوعی کھاد یا کیڑے مار دواکا استعمال سختی سے منع ہے۔

سبزے کے ان ٹکڑوں کو شجرکاری کے ابتدائی کام کے بعد انسانی دیکھ بھال کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پودوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لگایا جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے اہم غذائی اجزاء حاصل کرکے مضبوط اور توانا ہوجاتے ہیں اور ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان جنگلات کو عزم ، علم اور بہت کم توجہ، کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقامی پیڑ،پودوں کا کردار

میا واکی تیکنیک میں پیڑ، پودوں کی مقامی انواع کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔لیکن ہمار ایہ حال ہے کہ شہر کے کئی علاقوں سے مقامی اور روایتی درخت کاٹ کر ان کی جگہ بیرونِ ملک سے لائے گئےبہ دیسی انواع کے پیڑ، پودے لگادیے گئےاورایسا کرنے سےپہلے کسی ماہرِ ماحولیات یا ماہرِ نباتات سے مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس بہت سے ممالک میں یہ عمل کرنے سے قبل متعلقہ شعبے کے ماہرین سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں اور اتفاقِ رائے سے فیصلہ کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر کے پیڑ،پودے اس شہر کے ماحول اور درجہ حرارت کا تعین کرتے ہیں جو بہت اہم بات ہوتی ہے۔کراچی میں چند برسوں سے ہم جس سخت موسمِ گرما کا تجربہ کررہے ہیں اس میں شہر کے پیڑ،پودوںکا بہت عمل دخل ہے۔

شہری حلقے اس ضمن میں ایک اور پہلو کی بھی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سے تیس، پینتیس برس قبل تک اس شہر میں نیم، پیپل، برگد، املی، املتاس، جنگلی بادام،شریفے، آم، امرود، شہتوت، پپیتے،جنگل جلیبی وغیرہ کے درخت ہر گلی،محلّےاور سڑکوں پر عام طور سے نظر آجاتے تھے ۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ غائب ہوتے گئے اور ان کی جگہ بہ دیسی انواع کے پیڑ،پودوں نے لے لی اور وہ بھی بہت کم تعداد میں۔صرف یہ ہی نہیں بلکہ ببول، شیشم، شہتوت، منہدی، انار وغیرہ کے درخت شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شہر سے غائب ہو چکے ہیں۔اگر معدوم ہونے والے پیڑ،پودوں کی فہرست بنانا شروع کریں تو پورا دفتر کھل جائے گا۔ ایسے میں ماحول بدلنالازم تھا۔سو وہ ہوا۔لیکن اب بھی مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا اور بات بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ رہی۔

افسوس اس بات کا ہے کہ اپنے دیس کے پیڑ، پودوں، جھاڑیوں اور بیلوں کو غیروں نے نہیں بلکہ خود ہم نے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ہے۔انہیں بڑھتی ہوئی آبادی چٹ کرگئی یا نقد فصلوں کی طمع تباہ کر گئی۔ان کی جگہ جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں سفیدے اورکونو کارپس کے درختوں کی بھر مار کر دی گئی۔حاکمانِ وقت نے شہروں کی سجاوٹ کے لیے کھجور کے منہگے داموں منگوائے ہوئے درخت لگوائے یا پھر مغربی ملکوں سے ایسے پودے درآمدکیے گئے جن کا اس ملک کی مٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔عرب ملکوں سے منگوائے گئے کھجور کے درخت اور مغرب سے درآمدکیے گئے پودے ملک کی ذہنی پے چیدگی اور بیگانگی کے بہترین یا بدترین مظاہر ہیں۔

اس بیگانگی کا قصوروار بیرونی طاقتوں کو بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیوں کہ انگریزوںکے قایم کیے ہوئے باغات میں ہر دیسی درخت اور پودے کی نمائندگی موجود تھی۔ وہاں دیسی کیکر بھی مل جاتا اور پیپل اور برگد بھی۔ اس کے برعکس ہمارے دیسی حکم رانوں کے بنائے ہوئے نئے پارکس میں بہت کم روایتی دیسی پیڑ، پودے آتے ہیں۔ جب دیس میں ہر جگہ درخت ہی بیگانے ہوگئے تو اس دیس کے پرندے بھی کہیں ہجرت کر گئے۔ اب کووں ،چڑیوں اورچیلوںکے علاوہ کوئی پرندہ مشکل ہی سے شہری علاقوں میں نظر آتا ہےکہ ہمارے دیس کے پرندوں کو ان اجنبی پیڑوں میں گھونسلے بنانے نہیں آتے اس لیے وہ منہ چھپا کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔

بعض حلقے کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں فطری نظام کی مکمل تباہی اور اجنبی درختوں اور پودوں کی بھرمار کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ کب کیا ہوگا یہ بتانامشکل ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب پاکستان بھی اپنوں کے لیے بے گانہ ہوتا جارہا ہے۔ اسی لیے ہر برس ہزاروں پاکستانی بیرونِ ملک کوچ کرجاتے ہیں۔ اب تو ہماری شاعری میں بھی روایتی پیڑ،پودوںاور چرند ،پرند کا تذکرہ کم ہی ملتا ہےجو ہمارے ماحول کی عکاسی کرتا ہے ۔

اب نیم کی ٹھنڈی چھاوں،برگد اور پیپل کے درختوں کے سائے میں گزارے ہوئے گرمی کے ایّام کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملتا۔کبھی رات کو آنکھ کھلتی تو چودھویں کا پورا چاند بادلوں سے اٹھکھیلیاں کرتا نظر آتا تو کبھی ’’آنگن والے نیم میں اٹکا‘‘ محسوس ہوتا تھا۔ سر سر کرتی ہوا کا شور بھی کسی مدھر تان سے کم نہ لگتا۔ اب نیم ، اور پیپل کے درخت ہیں اور نہ ہی بجلی ۔لوگ ہیٹ اسٹروک سے مریں گے نہیں تو اور کیا ہوگا۔وائے تباہی۔

آج کے کراچی کی سرحدیں بہت پھیل چکی ہیں۔شہر میں خالی جگہیں کم پڑنے کے بعدشہر کے ارد گردموجود وسیع و عریض سرسبز قطعات اراضی اور جنگلات کا رخ کیا گیا اور وہاں سے بھی صدیوں پرانے پیڑ،پودوں اورچرند پرند کا صفایا کردیا گیا۔ ہم نے لاکھوں درخت بے رحمی سے کاٹ ڈالے کیوں کہ نام نہاد ترقی کے منصوبوں میں درختوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ وسیع پیمانے پر درخت کاٹنے کے بعد ان لوگوں نے یہاں سجاوٹی جھاڑیاں اور غیر ملکی پودے اگا دیے۔ تاہم پرانے درختوں کی کٹائی کا عمل آج تک جاری ہے۔ پیپل، برگد، نیم اور کیکر جیسے شان دار اور حیرت انگیز درختوں کی جگہ دھول اڑنے لگی۔ ایسے میں ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ بڑے پیمانے پر نباتی فضلہ پیدا کرنے والے درخت ختم ہو گئے۔

یہ فضلہ ہوا سے کاربن الگ کر کے عالمی حِدّت میں کمی لاتا ہے۔ اس اقدام کا دوسرا منفی پہلو یہ تھا کہ ان بڑے درختوں میں کئی نسلوں سے رہنے والے پرندے اچانک بے گھر ہو گئے۔ایک جائزے کے مطابق1970کے عشرے میں کراچی میں مختلف اقسام کے170پرندےپائے جاتے تھے۔ ان میں وہ غیرملکی پرندے شامل نہیں ہیں جو ہر دو سال بعد یہاں سے گزرتے ہوئے سستانے کے لیے رک جاتےتھے۔ اب اس شہر میں صرف چند ہی اقسام کے پرندے باقی رہ گئے ہیں اورزیادہ تر علاقوں میں کوئل کُوکتی ہے اور نہ مینا کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہم اپنے پروں والے دوستوں کے نغموں سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ ان کا حسن بھی ہمارے لیے اجنبی ہو چکا ہے۔

جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرنمنٹل اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹرظفر اقبال شمس کے مطابق ہر خِطّےکے کچھ مقامی اور روایتی پیڑ، پودے ہوتے ہیں جو اس کے ماحول سے اچھی طرح ربط قائم کرچکے ہوتے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض کو کسی زمانے میں کسی اورخطّے سے لا کر لگایا گیا ہو، لیکن طویل وقت گزرنے کی وجہ سے وہ اس خطّے کے ماحول کا حصّہ بن گئے ہوں۔ ایسا تقریبا ہر خطّے میں ہوتا ہے۔لیکن کسی اور خطے سے لاکر لگائے گئے بعض پیڑ، پودے حملہ آورنوع ثابت ہوتےہیں جو مقامی پیڑ، پودوں پر تیزی سے غالب آنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ہر جگہ حملہ آورنوع کے پیڑ پودے بڑی تعداد میں نظر آتےہیں۔

مثلا کیکرکادرخت ہمارےخطے میں انگریزوں نے متعارف کرایا تھا۔ وہ اسے میکسیکو سے لائے تھے۔ یہ غالبا1878کی بات ہے۔ پاکستان میں یہ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ تعداد میں نظر آتا ہے ۔ یہ یہاں حملہ آور نوع بن گیا ہے۔دراصل سندھ ریتیلا علاقہ ہےاس لیے انگریزوں نے یہاں کے لیے کیکر کے درخت کا انتخاب کیا تھا، کیوں کہ یہ کم پانی ملنے کے باوجود تیزی سے بڑھتا اور اپنی تعداد میںاضافہ کرتا ہے۔ انگریزوں کے سامنے سندھ کے حوالے سے مسئلہ یہ تھا کہ یہاںکے زیادہ ترجنگلی اور فطری پیڑ، پودے زیادہ بڑے اور گھنے نہیں تھے۔ انگریزوں نے برصغیر پاک وہند کے اور بھی علاقوں میں کئی بہ دیسی انواع کےپیڑ، پودے متعارف کرائے جن کی وجہ سےکئی مقامی اور روایتی پیڑ پودوں کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھی گئ۔

ڈاکٹرظفر اقبال شمس کے بہ قول یورپ اور امریکا میں بھی پہلے بڑی تعداد میں بہ دیسی انواع کے پودے لگائے گئے ۔پھر جوں جوں ان کے ہاں تحقیق ہوئی اور نقصانات سامنے آتے گئے،انہیں اس بارےمیں عقل آتی گئی ۔ پندرہ بیس برسوں سے ان کے ہاں اس بارے میں بہت سنجیدگی سے کام ہورہاہے اور اب وہ مقامی اور روایتی پیڑ پودے، لگانے پر زور دے رہے ہیں۔مثلا ایڈی لیڈ میںتیس لاکھ مقامی اور رویتی انواع کے درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔

کراچی میں کل کتنے درخت ہیں اور کن کن انواع کے ہیں؟اس بارے میں ڈاکٹرظفر اقبال شمس کہتے ہیں کہ کسی کو کچھ نہیں معلوم اور نہ ہی یہ معلوم کرنے کے لیے کبھی کوئی کوشش ہوئی۔آج دنیا کی نصف آبادی شہروں میں رہ رہی ہے اس لیے بہت سے ممالک میں شہر کی انتظامیہ یا متعلقہ سرکاری اداروں کے پاس شہر کے بارے میں ہر طرح کی معلومات ہوتی ہیں۔آج تو دنیا میں یہ ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے کہ کس ملک میں درختوں کی فی کس تعداد کتنی ہے۔

مگر ایک ہم ہیں کہ ہماری مردم شماری تک متنازع رہتی ہے۔ایسے میں پیڑ پودوں کی کیا حیثیت اور کہاں کی گِنتی۔