اسکرین کی وجہ سے بچوں کی بصارت کا متاثر ہونا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسکرین کی وجہ سے بچوں کی بصارت کا متاثر ہونا

آنکھیں قدرت کا عظیم تحفہ ہیں، جن کے بنا زندگی اندھیری ہوتی ہے۔ آنکھ کی روشنی، بینائی اور نظر کو ’بصارت‘ کہتے ہیں۔ انسانی حواس میں بصارت سب سے اہم ہے، لہٰذا نظر کی حفاظت کرناچاہیے تاکہ نگاہ ہمیشہ تیز رہے۔ ہمارے ملک میں امراض چشم کے حوالے سے مناسب آگاہی نہ ہونے کے سبب لاکھوں افراد بچپن سے ہی نظر کی کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ ہزاروں آنکھوں کی پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہو کر قوت بصارت کھو بیٹھتے ہیں۔ بچہ اگر پڑھائی میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہا تو اس کی ایک وجہ کمزور بینائی بھی ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں قائم آنکھوں کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی ا سکریونس آپٹینیشن کی ایک تحقیق کے مطابق، ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں 13سے 16سال کی عمر کے بچوں کو نظر کا چشمہ لگنے کی شرح تقریباً دُگنی ہوگئی ہے۔ اس کا محرک آنکھوں پر دبائو، دھندلاپن اور بینائی متاثر ہونا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ 2018ء میں 13سے 16سال کی عمر کے 35فیصد افراد کو چشمے کی ضرورت تھی جبکہ2012ءمیں یہ تعداد 20فیصد تک تھی۔ نظر کے چشمے زیادہ تر ان برطانوی بچوں کو لگے جو ٹیلی ویژن سمیت الیکٹرانک اسکرین کے سامنے ہفتے میں 26 گھنٹے گزار رہے تھے۔

کمپنی کے ماہر چشم کا کہنا ہے،’’ ابتدائے جوانی تک بچوں کی آنکھیں نشوونما پاتی رہتی ہیں اور ان کی بصارت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قریب یا دور کی نظر متاثر ہوتی رہتی ہے، جس کی علامات نہ ہی بچوں کو پتہ چلتی ہیں اور نہ ہی والدین جان پاتے ہیں، اسی لئے گاہے بگاہے نظر چیک کرواتے رہنا بہت اہمیت رکھتاہے ‘‘۔

اسکرین کے اثرات

پہلے بچے صرف مخصوص اوقات میں ٹی وی دیکھا کرتے تھے۔ مگر موبائل فون اور ٹیبلٹ کی آمد کے بعد سے بچوں کی نگاہیں مسلسل اسکرین کے سامنے ہوتی ہیں، جس سے کنارہ کشی تقریباً نا ممکن نظر آتی ہے کیونکہ کووِڈ-19 کے بعد سے اب اسکول کی تعلیم بھی گیجٹس اور اسکرین کی محتاج ہوگئی ہے۔ پہلےزمانے میں ٹی و ی سےبچوں کو دور بٹھایا جاتاتھا تاکہ ان کی بصارت متاثر نہ ہو لیکن آج کے دور میں ہم نے خود بچوںکے ہاتھوں میں اسکرین تھما دی ہے۔

مشہور آپٹومیٹرسٹ اور آئی سیف وژن ہیلتھ ایڈوائزری بورڈ کے ممبر ڈاکٹر پاول کارپیکی کا کہناہے، ’’ حالیہ برسوں میں ڈاکٹروں کو گلوکوما اور ریٹینل مائیوپک میں خرابیوںکے زیادہ کیسز دیکھنے کو ملے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کے اسکرین ٹائم میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس قسم کی خرابیاں پہلے زائد عمر کے افراد یعنی 60سال سے زیادہ عمرکے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب لوگ 30سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ان حالات کے ساتھ آرہے ہیں۔ پچھلے تین سے پانچ سال میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ موبائل فون اور آئی پیڈ کے نقصانات کو سمجھ نہیں پارہے‘‘۔

آج کے بچے اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں الیکٹرانک ڈیوائسز میں مصروف رہتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کی آنکھیں حساس ہوتی ہیں، وہ قریب سے موبائل فون استعمال کرتے ہیں ، جس سے ان کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتاہے۔ ماہرین کے مطابق، جیسے جیسے آپ کی عمر بڑھتی ہے، آپ کی آنکھوں کا لینس فلٹر کام کرنے لگتاہے مگر بچوں میں ایسا نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے موبائل کی نیلی روشنی ان کی آنکھ کے پچھلے حصےتک چلی جاتی ہے۔

آپٹومیٹرسٹ اور امریکا کی آئی ویئر کمپنی ایسیلور میں پیشہ ورانہ تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریان پارکرکا کہنا ہے کہ محققین ابھی بھی بچوں پراسکرین کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ڈاکٹر پارکر کے مطابق موبائل فون کی نیلی لائٹ ریٹینا کو نقصان پہنچا رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دور کی نظر خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہو اہے کہ اسکرین کا زیادہ استعمال نیند کے معمولات اور دماغ کی مجموعی نشوونما پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔

بصارت کے تحفظ کیلئے مشورے

ایک سروے میں جب والدین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے بچوں کی آنکھوں کا معائنہ باقاعدگی سے کرواتے ہیں توان میں سے 73 فیصد سے زائد والدین نے یہی جواب دیاکہ وہ اپنے بچے کو کبھی بھی آنکھوں کے ٹیسٹ کے لیے نہیں لے کر گئے۔

٭ اگر آپ کمپیوٹر استعمال کرنے میں بہت وقت گزارتے ہیں یا کسی بھی چیز پر اتنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ آنکھیںجھپکنا بھول جاتے ہیںتو آپ کی آنکھیں تھک سکتی ہیں، ان میں درد ہوسکتا ہے یا پھر دھندلا دکھائی دینے لگتاہے۔

٭ ماہرین کے مطابق چاہے آپ کمپیوٹر استعمال کررہے ہوںیا موبائل فون، اس کے لیے20-20-20کااصول اپنائیں۔ ہر 20منٹ بعد اسکرین سے اپنی آنکھیں ہٹائیں اور اپنے سامنے 20فٹ تک 20سیکنڈ کے لیے دیکھیں۔ اس سے آپ کی آنکھوں پر کم دبائو پڑے گا۔

٭ بحیثیت والدین اپنے بچوں کو 2سال کی عمر تک موبائل ہرگز نہ دیں۔ اس کے بعد بھی بہت محدود وقت کے لیے فاصلے سے موبائل استعمال کرنے دیں کیونکہ اس سے کم عمر میں بچے موبائل فون سے نکلنے والی شعاعوںسے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔7سے 16سال کی عمر تک اگر بچوں کا موبائل فون یا ٹیبلٹ استعمال کرنا لازمی ہے تو کوشش کریں کہ بچے محض ضرورت کے تحت ہی ان کا استعمال کریں۔

صحت سے مزید