• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اغواء برائے تاوان جیسی سنگین وارداتوں کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات حکومت اور محکمہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ سندھ بھر میں اس وقت جرائم پیشہ عناصر پر پولیس کی گرفت کمزور دکھائی دیتی ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پولیس، حکومتی وزراء اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پروٹوکول میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی بنیادوں پر پولیس افسران کی تعیناتیاں بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ سندھ کے متعدد بڑے اضلاع میں 18 گریڈ کے بعض جونئیر افسران تعینات ہیں جنہیں جرائم کی روک تھام یا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کا خاطر خواہ تجربہ نہیں ہے۔ 

اس لئے تاحال ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام بھی پولیس کے لئے ماضی کے مقابلے میں اب مشکل دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب 18 گریڈ کے ایسے تجربہ کار افسر بھی سندھ کے بعض اضلاع میں تعینات ہیں جو ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے نہایت مہارت رکھتے ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کی تعیناتی نہیں کی جاتی اور متعدد 19 گریڈ کے سینئر تجربہ کار پولیس افسران سائیڈ پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ یہ بھی جرائم کا گراف اوپر جانے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

گذشتہ دو سے تین سالوں میں جرائم کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بازاروں، مارکیٹوں اور شاہراہوں پر لوگوں خاص طور خواتین سے طلائی زیورات ، پرس، موبائل فون چھیننے کی سیکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتیں جبکہ اسٹریٹ کرائم کی سب سے زیادہ وارداتیں سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ موٹر سائیکل چوری ہونے اور اسلحے کے زور پر چھینے جانے کی وارداتیں بھی عام ہیں۔ 

سندھ میں بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات پر حکومت سندھ کو سوچنا ہوگا کہ آخر دو سے تین سال میں ایسی کیا وجہ ہے کہ جرائم کی سنگین وارداتوں کے ساتھ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کیوں کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مسلسل 13 سال سے حکومت میں ہے اور وزیراعلی سندھ، سید مراد علی شاہ جو کہ بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ 

ان کے پاس وزیرداخلہ کا عہدہ بھی ہے، اس لئے انہیں سندھ میں ایک مرتبہ پھر مثالی امن کے قیام کے لئے امن و امان کی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا اور بڑی وارداتوں کے ساتھ اسٹریٹ کرائم خاص طور پر موٹر سائیکل چوری یا چھینے جانے کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ کراچی ، حیدرآباد اور سکھر ریجن میں ہر ماہ سیکڑوں افراد کو ان کی موٹر سائیکلوں سے محروم کرکے لوگوں کو مجموعی طور کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اس قسم کی وارداتوں کے بارے میں صوبائی حکومت، آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ کو لاعلم رکھا جاتا ہے۔ سندھ کے زیادہ تر اضلاع خاص کر دیہی اور مضافاتی علاقوں میں ان واقعات کی ایف آئی آر کا اندراج ہی نہیں کیا جاتا۔

موٹر سائیکل چوری یا چھینے جانے کی صورت میں تھانے جانے والے فریادی کی ایف ائی آر کاٹنے کی بجائے صرف این سی جو کہ ایک کچی رپورٹ ہوتی ہے وہ درج کی جاتی ہے تاکہ ان جرائم پر پردہ ڈالا جاسکے کیونکہ اگر ایف آئی آر درج کی جائے گی تو وہ آئی جی سندھ کو بھیجی جانے والی رپورٹ کا حصہ بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تھانہ انچارج ان میں سے زیادہ تر واقعات کی ایف آئی آر درج نہیں کرتے۔ تاہم یہ تمام صورت حال ضلعی پولیس افسران کے علم میں ہوتی ہے۔ دوسری جانب پولیس افسران کی یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ اسٹریٹ کرائم کے ان واقعات کی لوگ خود بھی ایف آئی آر درج نہیں کراتے ۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی، جناب غلام نبی میمن جن کا شمار پاکستان پولیس سروس کے بہترین افسران میں کیا جاتا ہے، ان کی جانب سے کراچی کے تمام پولیس افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بڑے چھوٹے تمام جرائم اور راہ زنی اور سڑکوں پر لوٹ مار کے واقعات کا اندارج کریں تاکہ امن و امان اور جرائم کے حوالے سے مکمل طور پر صورتحال سامنے آسکے۔ یہ ان کا ایک احسن اقدام ہے، ایسا ہی نظام تمام اضلاع میں ہونا چاہیئے تاکہ حکومت اور آئی جی سندھ کو مکمل صورتحال سے آگاہی ہو اور اس کے مطابق پالیسی مرتب کی جاسکے ۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق کراچی سے کشمور تک سندھ بھر میں 23 سے 25 لاکھ یا اس سے زائد موٹر سائیکلز ہیں جن میں سے بڑی تعداد میں موٹر سائیکل بغیر رجسٹریشن کے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ 

ان کا ذمہ دار کون ہے، محکمہ ایکسائز ، یا پولیس؟ اگر یہ کہا جائے کہ یہ دونوں محکمے اس کے ذمہ دار ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ موٹر سائیکل کی رجسٹریشن نہ ہونے سے حکومت کو رجسٹریشن فیس کی مد میں خطیر رقم کا نقصان ہورہا ہے اور محکمہ ایکسائز کی ذمہ داری ہے کہ تمام بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلیں تحویل میں لے لے اور جو مالک رجسٹریشن کرائے اس کے حوالے وہ موٹر سائیکل کردی جائے۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ ایکسائز نے اس جانب سے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے۔ دوسری جانب پولیس جو کہ سندھ کے تمام اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کرتی ہے، ٹریفک پولیس بھی موجود ہے،اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نا ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔

سول سوسائٹی یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ آخر ان کے خلاف کارروائی میں ایسی کون سی رکاوٹ ہے؟ سندھ کے تمام اضلاع میں موٹر سائیکل چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ گھروں، دکانوں، شاپنگ مال، اسپتالوں یا مختلف مقامات پر کھڑی موٹر سائیکلیں نا معلوم چور، چوری کر کے لے جاتے ہیں یا پھر اسلحہ کے زور پر ملزمان موٹر سائیکل سوار سے اس کی موٹر سائیکل چھین لیتے ہیں اور مزاحمت پر اس پر فائرنگ کرکے قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ 

موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں کے دوران سندھ میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق ان وارداتوں کی روک تھام کے لئے حکومت سندھ اور موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کے درمیان کچھ عرصہ قبل ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیاں موٹر سائیکلوں میں خفیہ طور پر ایک ٹریکر نصب کریں گی تاکہ چوری یا چھینے جانے کی صورت میں موٹر سائیکل کا با آسانی سراغ لگایا جاسکے۔ لیکن اس معاہدے کو تاحال عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ اگر اس معاہدے پر عمل کیا جائے تو بڑی حد تک ان واقعات کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے جس کی مثال سندھ پولیس میں ہی موجود ہے۔ 

سندھ پولیس میں بعض افسران ایسے بھی ہیں جو اپنے طور پر جرائم کی سرکوبی کے لئے نت نئے تجربے کرتے ہیں جس میں ان کو اکثر و بیشتر بڑی کامیابیاں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال ماضی میں سکھر میں تعینات رہنے والے ایس ایس پی تنویر حسین تنیو کی ہے، جنہوں نے مختلف اضلاع میں اپنی تعیناتی کے دوران موٹر سائیکل چوری یا چھینے کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے ایک تجربہ کیا اور موٹر سائیکلوں میں خفیہ ٹریکر لگا کر مختلف مقامات پر کھڑی کردیں جب وہ چوری ہوئیں تو نا صرف ٹریکر کی نشان دہی سے وہ نہ صرف برآمد ہوئیں بلکہ اصل ملزمان بھی گرفت میں آگئےموٹر سائیکل چور گروہوں کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ 

ایس ایس پی تنویر حسین تنیو کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل میں استعمال ہونے والا ٹریکر پانچ سے چھ ہزار روپے قیمت کا ہوتا ہے۔ اسےچند موٹر سائیکلوں میں نصب کر کے مختلف مقامات پر کھڑا کردیا جاتا ہے۔ جب چور وہ موٹر سائیکل چوری کر کے فرار ہوتا ہے تو پولیس کو اس ٹریکر کے ذریعے موٹر سائیکل کی لوکیشن کا پتہ چل جاتا ہے اس طرح پولیس نے موٹر سائیکل چوری کرنے والے متعدد گروہوں کا قلع قمع کیا ہے۔

سندھ میں امن وامان کی فضا کو بحال رکھنے، ڈاکوئؤں، جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لئے پولیس کو سنجیدگی سے اقدامات کرناہوں گے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل چوری یا چھیننے کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے اگر ایک ایس ایس پی اپنے طور پر یہ اقدام اٹھا سکتا ہے جس پر اخراجات بھی انتہائی کم آتے ہیں تو پھر اس طرح کے اقدامات اگر دیگر اضلاع میں بھی کئے جائیں تو بڑی حد تک اسٹریٹ کرائم کی ان وارداتوں کو روکا جا سکتا ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید