• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ یہ ماہِ مبارک باقی تمام مہینوں میں ایک خاص عظمت و اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے تقدّس، عظمت اور اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کا راہ نُما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کُھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ185)۔دراصل رمضان لفظ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنیٰ جلنا اور آفتاب کی گرمی کی وجہ سے ریت کا آگ کی طرح سوزاں ہوجانا ہے۔ علّامہ سخاوی لکھتے ہیں’’رمضان من شدّۃ الرّمضاء وھوالحرّ یُقال رمضت الفصال اذا عطشت‘‘ یعنی ’’رمضان گرمی کی شدّت سے عبارت ہے، چناں چہ عربی زبان میں بطور محاورہ کہا جاتا ہے’’ اونٹ پیاس کی شدّت سے جل گئے۔‘‘ چوں کہ یہ ماہِ مبارک گناہوں کو جَلا دیتا ہے، اِس بنا پر اسے ’’رمضان‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 

عربی لغت میں’’ارماض‘‘ کے معنیٰ ہیں، ریت کا پائوں جلانا، ’’رمض‘‘ کہا جاتا ہے، سوزاں سنگریزوں میں چمڑے سمیت بکری کو بھوننا، ’’مرمض‘‘ جانور بھوننے کا تنور، ’’ارض تمضار‘‘ گرمی کی شدّت اور جھلسا دینے والے موسم کے باعث چٹختی ہوئی زمین، یہ تمام الفاظ بتاتے ہیں کہ اہلِ عرب میں ’’رمضان‘‘ نہایت سخت گرمی کے زمانے کا نام تھا۔ 

’’بلوغ الارب فی احوال العرب‘‘ کے مؤلف، محمود شکری آلوسی(جلد سوم ص 598) کے مطابق، قدیم عرب تاریخ میں ’’رمضان‘‘ کو گرمی کے مہینے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ یہ ’’رمضاء‘‘ (شدید گرمی یا سورج کی تپش سے تپی ہوئی زمین) سے مشتق ہے، چناں چہ جب اس مہینے کا نام رکھا گیا، تو اُس وقت شدید جُھلسا دینے والی گرمی کا یہی حال تھا۔اسلام سے قبل قدیم عرب تاریخ میں رمضان کو’’دیمر‘‘ سے بھی موسوم کیا جاتا تھا، یہ اُن کے ہاں سال کا پہلا مہینہ تھا۔ علاوہ ازیں، اسے ’’ناتق‘‘ اور ’’ناطل‘‘ کے ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا تھا۔ (بلوغ الارب فی احوال العرب 595,594/3)۔ ’’اسماء الاشہر فی العربیۃ و معانیھا‘‘ کے مؤلف، ڈاکٹر انیس فریحہ نے ’’رمضان‘‘ کی وجۂ تسمیہ کے متعلق بعض دیگر اقوال بھی ذکر کیے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ماہِ مقدّس بندگانِ خدا کے گناہوں کو جَلا دیتا ہے، اِس بنا پر اس کا نام رمضان ہے، نیز اسے اِس لیے بھی ’’رمضان‘‘ کہا جاتا ہے کہ اِس میں اہلِ ایمان عبادات اور نیک اعمال کے باعث گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں۔

بلاشبہ رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ یہ وہ ماہِ مبارک ہے، جس میں رشد و ہدایت کا ابدی خزینہ، آخری الہامی صحیفہ، نسخۂ کیمیا، دین و دنیا کی فلاح و نجات کا دائمی ضابطہ، سرورِ کائناتﷺ کا سب سے عظیم معجزہ، وحیِ ربّانی کا آخری سر چشمہ،یعنی کتابِ مبین، قرآنِ حکیم نازل ہوا۔ رمضان کو یہ عظمت و فضیلت بھی حاصل ہے کہ اِسی ماہِ مبارک میں جملہ آسمانی صحیفے اور الہامی کتب نازل ہوئیں۔رمضانُ المبارک فیوض و انعاماتِ ربّانی کا گراں بہا مجموعہ ہے۔ اہلِ ایمان اس کی آمد کا پورا سال انتظار کرتے ہیں اور اس کے استقبال کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے رہتے ہیں۔ اِس ماہِ مبارک میں رحمت و مغفرت کی ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ دین و دنیا کی بھلائی اور آخرت کی کمائی کا موسم ہے۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ دعائیہ کلمات تلقین فرماتے تھے’’اللّٰھمّ سلّمنی رمضان و سلّم رمضان لی و سلّمہ لی مستقبلاً‘‘۔یعنی’’اے اللہ! مجھے رمضان کے لیے سلامت رکھ اور رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور اسے میرے حق میں مقبول بنا کر سلامت رکھ۔‘‘(کنزالعمال)۔ رحمت و مغفرت کا ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔یہ وہ ماہِ مقدّس ہے، جسے اللہ عزّوجل نے ’’نزولِ قرآن‘‘اور حضرت محمّد ﷺ نے رحمت، مغفرت اور جہنّم سے نجات کا مہینہ قرار دیا ہے۔ وہ ماہِ منوّر طلوع ہونے والا ہے، جس میں شیطانی قوّتیں مغلوب اور نیکی و پرہیزگاری کی فضا غالب ہوجاتی ہے۔

مسلم معاشرے پر روحانی نظم و ضبط کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ سحرخیزی کے لمحے بڑے دل آویز اور افطار کے مناظر ایمان افروز ہوتے ہیں۔گویا جس طرح بہار کی آمد سے پورا موسم بدل جاتا ہے، اسی طرح رمضان المبارک کی آمد سے پورا ماحول بدل جاتا ہے۔اسے سرور کائناتﷺ نے صبروضبط اور ایثار و ہم دردی کا مہینہ قرار دیا ہے۔ضبطِ نفس اور ہم دردی و غم خواری ماہِ صیام سے خاص نسبت رکھتے ہیں۔

یہ ماہِ مبارک تزکیۂ نفس، تعمیرِ شخصیت،تطہیرِ قلب اور بندگانِ خدا کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے بے حد مؤثر اور انتہائی کارگر ہے۔اس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنّم سے آزادی اور نجات کا ہے۔اِس مبارک مہینے کی آمد پر رسالتِ مآب ﷺ نے ایک پُراثر اور تعارفی خطبہ دیا، جس میں آپﷺ نے اس کی عظمت، اہمیت اور قدرومنزلت اجاگر فرمائی۔

حضرت سلمان فارسیؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ ایسا مہینہ ،جس میں ایک ایسی رات (لیلۃ القدر) ہے، جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے دنوں کے روزے فرض اور راتوں کی عبادت(تراویح) نفل قرار دی ہے، جو شخص اس مہینے میں ایک نیک عمل کے ذریعے قربِ خداوندی کا طالب ہو، وہ ایسا ہی ہے، جیسے دیگر مہینوں میں فرض عمل کرے(یعنی نفل کا ثواب فرض کے درجے تک پہنچ جاتا ہے) اورجو شخص کوئی فریضہ بجا لائے، وہ ایسا ہے، جیسے دیگر مہینوں میں کوئی ستّر فرض ادا کرے (اِس ماہِ مبارک میں ایک فرض کا ثواب ستّرگنا ملتا ہے)۔ لوگو! یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر اور بدلہ جنّت ہے۔ 

یہ لوگوں کے ساتھ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اِس میں بندۂ مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو بندہ اِس مبارک مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کروائے، اُس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اُسے جہنّم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے اور روزے دار کے ثواب میں کمی کیے بغیر افطار کروانے والے کو بھی اُسی کے بقدر اجر سے نوازا جاتا ہے۔‘‘یہ سُن کر صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے ہر فرد اپنے اندر یہ وسعت نہیں پاتا کہ وہ دوسرے کو (باقاعدہ)افطار کروائے اور اس کے اجروثواب سے بہرہ یاب ہو۔‘‘آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ یہ اجروثواب اور یہ انعام ہر اُس شخص پر فرماتا ہے، جو کسی روزے دار کو ایک گھونٹ دودھ، ایک کھجور حتیٰ کہ ایک گھونٹ پانی پلا کر بھی افطار کروا دے۔ ہاں، جو شخص روزے دار کو پیٹ بھر کر کِھلائے، تو اللہ عزّوجل اُسے قیامت کے دن میرے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائے گا، جسے پینے کے بعد کبھی پیاس نہ لگے گی(یعنی ایسی سیرابی ہو گی) تا آں کہ وہ جنّت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جائے گا۔‘‘پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’یہ ایسا مہینہ ہے، جس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنّم سے آزادی کا ہے۔ جو شخص اِس مہینے میں اپنے غلام، خادم اور ملازم کے (کام اور محنت کے) بوجھ کو ہلکا کردے، تو اللہ جلّ شانہ اُس کی مغفرت فرماتا اور جہنّم کی آگ سے آزادی عطا فرماتا ہے۔اے لوگو! اِس مہینے میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو۔(1) کلمۂ طیّبہ (2) استغفار (3) جنّت کی طلب (4) جہنّم کی آگ سے پناہ۔‘‘ (بیہقی؍شعب الایمان 305/3)۔ 

نبی کریمﷺ کا یہ خطبہ ہمیں اِس ماہ کی عظمت و اہمیت سے آگاہ فرمانے کے ساتھ، اس مہینے کے معمولات اور اُن کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، تو آسمان کے دروازے(ایک روایت میں ہے کہ جنّت کے دروازے اور ایک دوسری روایت کے مطابق رحمت کے دروازے) کھول دیے جاتے ہیں، جہنّم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں۔‘‘(مشکوٰۃ173/1)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، تو شیطان اور سرکش جنّات قید کر دیے جاتے ہیں۔ 

جہنّم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔اُن میں سے کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور جنّت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز لگانے والا آواز دیتا ہے کہ’’ اے خیر کے طلب گار(نیکی اور بھلائی کے طالب)آگے بڑھ اور اے بُرائی کا ارادہ کرنے والے پیچھے ہٹ۔‘‘ (رمضان المبارک میں) بہت سے لوگ جہنّم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ معاملہ ہر رات ہوتا ہے۔‘‘(مشکوٰۃ 173/1)۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب رمضان کے مہینے کی پہلی شب ہوتی ہے، تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اُن میں سے کوئی ایک بھی دروازہ پورے مہینے بند نہیں ہوتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اس دَوران کوئی ایک دروازہ بھی نہیں کُھلتا، سرکش جنّات قید کر دیے جاتے ہیں اور رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک آواز لگانے والا صبحِ صادق تک یہ آواز لگاتا رہتا ہے کہ’’ اے بھلائی اور نیکی کے تلاش کرنے والے، نیکی کا ارادہ کر اور خوش ہو جا اور اے بدی کا قصد کرنے والے، رُک جا۔‘‘ اور یہ بھی ندا لگائی جاتی ہے’’ کوئی گناہوں کی معافی کا خواہش مند ہے کہ اُس کے گناہ معاف کر دیے جائیں!کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اُس کی توبہ قبول کر لی جائے! کوئی حاجت مند ہے کہ اُس کی حاجت اور سوال پورا کر دیا جائے!‘‘ رمضان کے مہینے میں روزانہ افطار کے وقت ساٹھ ہزار افراد جہنّم سے آزاد کیے جاتے ہیں اور جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اِتنی ہی تعداد میں جہنّم سے بَری فرماتا ہے، مجموعی طور پر جتنی تعداد میں پورے مہینے میں آزاد فرماتا ہے۔(یعنی ساٹھ، ساٹھ ہزار تیس، تیس مرتبہ جن کی کل تعداد اٹھارہ لاکھ ہوتی ہے)۔ (الترغیب و الترہیب)حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے رمضان المبارک کی فضیلت کے متعلق ایک طویل اور جامع روایت منقول ہے، اُس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’اللہ عزّوجل رمضان المبارک میں افطار کے وقت ایسے دس لاکھ افراد کو جہنّم سے بَری فرماتا ہے، جو جہنّم کے مستحق ہو چُکے تھے اور جب رمضان المبارک کا آخری دن ہوتا ہے، تو یکم رمضان سے آخری رمضان تک جتنے لوگ جہنّم سے آزاد کیے گئے ہوں، اُن کے برابر اس ایک دن میں جہنّم سے بَری فرماتا ہے۔‘‘(الترغیب و الترہیب)۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآبﷺ نے ارشاد فرمایا’’میری اُمّت کو رمضان کے متعلق پانچ چیزیں خصوصیت کے ساتھ ودیعت فرمائی گئی ہیں، جو پچھلی اُمّتوں کو نہیں دی گئیں۔ (1)روزے دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مُشک سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔(2) اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں افطار کے وقت تک استغفار کرتی رہتی ہیں۔(3) اللہ تعالیٰ ہر روز جنّت کو آراستہ کرتا اور فرماتا ہے’’ عن قریب میرے نیک بندے(دنیا کی)مشقّت اپنے اوپر سے پھینک کر تیری جانب آئیں گے۔‘‘(4) سرکش شیاطین رمضان میں قید کر دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ رمضان المبارک کے زمانے میں اُن بُرائیوں تک نہیں پہنچتے، جن برائیوں کی طرف غیر رمضان میں پہنچ جاتے ہیں۔(5) رمضان کی آخری رات میں اُن کے لیے مغفرت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ آپﷺ سے عرض کیا گیا’’ کیا یہ مغفرت شبِ قدر میں ہوتی ہے؟‘‘

آپﷺ نے ارشاد فرمایا’’ نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ کام ختم ہونے پر مزدور کو اُجرت سے نوازا جاتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل، 292/2، الترغیب والترہیب55/2)۔حضرت کعب بن عجرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منبر سے قریب ہونے کا حکم دیا، ہم حاضر ہو گئے، پھر آپؐ نے منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، تو فرمایا ’’آمین‘‘۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھا، تو فرمایا’’آمین۔‘‘ جب تیسرے درجے پر قدم رکھا، تو فرمایا’’آمین۔‘‘ ہم نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ ﷺ! آج ہم نے آپؐ سے ایسی بات سُنی، جو پہلے کبھی نہ سُنی تھی۔‘‘ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ (جب مَیں نے پہلے درجے پر قدم رکھا) اُس وقت حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور اُنہوں نے یہ بددُعا کی کہ’’ وہ شخص ہلاک ہو، جسے رمضان کا مہینہ ملے اور پھر بھی اُس کی مغفرت نہ ہو،‘‘ تو مَیں نے کہا ’’آمین۔‘‘ پھر جب مَیں نے دوسرے درجے پر قدم رکھا، تو اُنہوں نے کہا’’ وہ شخص برباد ہو، جس کے سامنے آپؐ کا ذکرِ مبارک کیا جائے اور وہ آپؐ پر درود نہ بھیجے۔‘‘ تو مَیں نے کہا’’ آمین۔‘‘ پھر جب تیسرے درجے پر پاؤں رکھا، تو حضرت جبرائیل علیہ السّلام نے کہا’’ وہ شخص بھی ہلاک ہو، جو زندگی میں اپنے والدین یا اُن میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور وہ اُسے جنّت میں داخل نہ کروائیں۔‘‘ تو مَیں نے کہا’’ آمین۔‘‘(الترغیب و الترہیب56/2)۔

یقیناً یہ مبارک مہینہ اللہ ربّ العزت کی جانب سے اُمّتِ محمّدیہﷺ کے لیے عبادات اور نیک اعمال کا موسمِ بہار اور گراں قدر انعام ہے۔ یہ عبادت و مناجات، توبہ اور طلبِ مغفرت کے قیمتی لمحات ہیں، جس کی ہر ساعت غنیمت اور قدرت کا بے بہا عطیہ ہے۔ یہ اللہ کے کرم، اُس کی عطا اور رحمت کا خزینہ ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سنڈے میگزین سے مزید