اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیلِ نو
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی معیشت کی کشتی کو مسائل کے بھنور سے نکالنا بلاشبہ حکومتِ وقت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔ تاہم اقتدار کی نصف مدت پوری ہو جانے کے باوجود اس ضمن میں صورت حال کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس امر کا واضح ثبوت ڈھائی سال میں دو وزرائے خزانہ کی رخصتی اور تیسرے وزیر خزانہ کا تقرر ہے۔ بہتر اقتصادی پالیسیوں کی تدوین کے لئے وسیع تر مشاورت کا اہتمام ہمیشہ مفید ہوتا ہے اور موجودہ حکومت بھی اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی اس مقصد کے لئے اقتصادی مشاورتی کونسل کا قیام عمل میں لائی تھی لیکن شواہد سے لگتا ہے کہ سابق وزرائے خزانہ کی طرح اس کی کارکردگی بھی اطمینان بخش ثابت نہیں ہوئی چنانچہ گزشتہ روز وزیراعظم کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیلِ نو کی منظوری دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ کونسل کی سربراہی جو اب تک وفاقی وزیر خزانہ کرتے تھے، اب وزیراعظم بحیثیت چیئرمین خود کریں گے، وزیر خزانہ کونسل کے وائس چیئرمین ہوں گے جبکہ ارکان کی تعداد 25رکھی گئی ہے۔ کونسل میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے ماہرین کو لیا گیا ہے۔ نجی شعبے کے ارکان کی تعداد 13ہے جن میں شوکت ترین، محمد علی ٹبہ، عارف حبیب، ڈاکٹر شمشاد اختر، سلطان علی الانہ، سیدسلیم رضا، سلمان شاہ، اعجاز نبی، عابد سلہری، آصف قریشی، فاروق رحمت اللہ، ڈاکٹر راشد امجد اور زید علی محمد جیسے ممتاز نام شامل ہیں۔ 12سر کاری ممبران میں وزیر توانائی، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، وزیر صنعت وپیداوار، وزیر بر ائے نیشنل فوڈ سیکورٹی، وزیر اقتصادی امور، مشیر تجارت، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات، معاون خصوصی بر ائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل، معاون خصوصی برائے بجلی و پیٹرولیم، معاون خصوصی برائے ریونیو، چیئرمین بورڈ آف ریونیو اور گورنر اسٹیٹ بینک شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کونسل کلی معیشت کے استحکام کیلئے اقدامات کی سفارش کرے گی تاکہ پائیداراقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ بلاشبہ جدید دور میں کسی بھی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کی اصل کسوٹی معیشت کے میدان میں اس کی کارکردگی کو باور کیا جاتا ہے۔ انتخابی معرکہ آرائی میں سیاسی جماعتیں عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی یقین دہانیاں کراتی ہیں اور بیشتر حالات میں انہیں ملنے والے ووٹوں کا انحصار ان ہی وعدوں پر ہوتا ہے۔ پچاس سال پہلے پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جس بناء پر تاریخ ساز عوامی مقبولیت حاصل ہوئی تھی وہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ تھا جس سے لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ حکومت ملنے کی صورت میں ہر گھرانے کو روزگار، ذاتی رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ تحریک انصاف کے قائد کی حیثیت سے انتخابات سے پہلے ملک کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اقتدار ملنے کی صورت میں بہت تیزرفتاری سے قومی معیشت کو بام عروج پر لے جانے کا یقین قوم کو دلایا تھا۔ ان کی جماعت نے محض سو دنوں میں وہ کچھ کردکھانے کے دعوے کئے تھے جو عام طور عشروں میں بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن نئی اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک کلیدی رکن شوکت ترین کے ایک تازہ اظہار خیال کے مطابق آج صورت حال یہ ہے کہ ’’معیشت کی سمت کا پتہ نہیں، ڈھائی سال میں گھر ٹھیک نہیں کیا گیا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں غلطی کی گئی، روپے کی قدر کم کرکے اور شرح سود بڑھا کر معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا‘‘۔ اس کا مطلب ہے کہ کونسل کو اقتصادی حکمت عملی کا تعین ازسرنو کرنا اور معاشی معاملات کواس کے مطابق چلانا ہوگا۔ خدا کرے اقتدار کی باقی مدت میں معیشت کی گاڑی درست پٹری پر لائی جا سکے اور ملک مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

تازہ ترین