آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

راچڈیل چائلڈ گرومنگ گینگ کے سزایافتہ رکن کے شہر میں دکھائی دینے پر اشتعال

لندن (پی اے) راچڈیل چائلڈ گرومنگ گینگ کے ایک رکن کے شہر میں دکھائی دینے پر اشتعال پایا جاتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کی جانب سے یہ تازہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ بدنام گرومنگ گینگ کے ارکان کو ڈی پورٹ کیا جائے۔ یہ مطالبات ایک گینگ ممبر کے نظر آنے کے بعد زور پکڑ گئے جس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل اس شہر میں کم عمر لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ 2012میں قاری عبدالرؤف، عبد العزیز اور عادل خان کو راچڈیل گریٹر مانچسٹر میں ابیوز حملوں کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ برطانوی شہریت برقرار رکھنے کی اپیل میں شکست کے بعد ان تینوں افراد کو 2018 سے ملک بدری کا سامنا ہے۔ ٹونی لائیڈ ایم پی نے کہا کہ نے کہا کہ حکومت نے شدید ناقابل قبول تساہل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ ان مردوں کے کیسز پر حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے اور جب بھی ہمارے پاس مناسب چینلز ہوں گے تو ہم ان کے ذریعےمتاثرین کو صورت حال کے بارے میں اپ ڈیٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔راچڈیل سے تعلق رکھنے والے لیبر ایم پی مسٹر ٹونی لائیڈ نے 51 سالہ عبدالروف کے شہر میں ایک سٹور پر خریداری کرتے ہوئے ٹرالی میں ڈرنکس جمع کرنے کی تصویردیکھنے کے بعد یہ بات کہی تھی ۔اس میں وہ ایک ٹیک اوے فوڈ بیگ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ ٹونی لائیڈ ایم پی نے کہاکہ یہ ناقابل تصور ہے کہ انمردوں کی شکار خواتین کو اب گلی کوچوں میں گھومنے میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ان کے ان افراد سے ٹکرانے کے خدشات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال خاص طور ان حالات میں ہے جب ناصرف حالیہ مہینوں میں بلکہ کئی برسوں سے تسلسل کے ساتھ ہوم سیکریٹریز نے وعدے کیے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان مجرموںکے حوالے سے حکومت کی عدم توجہی ناقابل تصور اور ناقابل قبول ہے۔ روف عزیرز اور خان تینوں پاکستانی شہری ہیں اور یہ ان 9 افراد میں شامل ہیں جنہیں 13 سال کی عمر کی لڑکیوں کے ریپ اور ٹریفکنگ سمیت دیر جرائم میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ کچھ کیسز میں ان کی وکٹمز کو 2008 سے ٹارگیٹڈ اور ریپ کیا گیا تھا ۔اور انہیں سیکس کیلئے پیسوں کے عوض اولڈ ہم اور راچڈیل میں مردوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ تینافراد کو چھ سے 9 سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ گریٹر مانچسٹر پولیس کی جانب سے ان کیسز کی ہینڈلنگ پر مستعفی ہونے والی سابق پولیس ڈیٹیکٹیو میگی اولیور کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ مجرم رئوف کو دیکھے جانے کی خبر سن کر میرا خون کھول اٹھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر یہ ان وکٹمز کے ساتھ کتنا توہین آمیز سلوک کا مظاہرہ ہے جو کہ تازہ ترین ناکامی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ رابطے میں ہوں اور یہ ان کیلئے جسٹس سسٹم کی ناکامی کی طویل لائن میں ایک اور تازہ ترین ناکامی کو واضح کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مین ان افراد کو جانتی ہوں اور یہ مرد اس طرح راچدیل سے باہر آ اور جا رہے ہیں اور اپنی زندگی کو آگے بڑھا رہے ہیں جیسے انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہوم آفس کے ترجمان نے کہا کہ کہ راچڈیل جیسے مقامات پر جو کچھ ہوا وہ ہمارے ملک کے ضمیر پر سب سے بڑا داغ ہے۔ ہوم سیکریٹری کی درخواست پر حال ہی میں ان جرائم میں ملوث فارن نیشنل کرمنلز کے کیسز کا جائزہ لیا گیا ہے اور ہم متاثرین کو جب بھی ممکن ہو سکے گا کیسز کے سلسلے میں اپ ڈیٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

یورپ سے سے مزید