ایچ ای سی کی تباہی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ ای سی چیئرمین کی برطرفی پر کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ تعلیم کے معیار پر توجہ دے رہے تھے۔ جب کہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔معیار کی ضمانت کے لئے سب سے ضروری تین اہم عناصر اساتذہ ، نصاب اور امتحانات ہیں۔ ان تینوں میں سب سے اہم اعلیٰ معیار کی فیکلٹی ہے۔ قابل فیکلٹی ممبران اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں ۔ وہ عمدہ لیکچر وں کے ذریعےنوجوانوں میں سائنس کی دلچسپ دنیا کے بارے میں مزید جاننے کا تجسس پیدا کرتےہیں۔

جب میں چیئرمین HEC تھا تو میں نے ہزاروں طلباکو پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ممالک کی جامعات میں بھیجا۔ اگر ہم واقعی ا پنی تمام جامعات میں اچھے معیار کی تعلیم چاہتے ہیں تو اچھے اساتذہ کی تعداد سے بہت فرق پڑتا ہے ۔ اس وقت تقریبا ڈیڑھ کروڑ طلبا اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ہر 20 طلباکے لئے ایک پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبر کی ضرورت ہے، اس تناسب کے مطابق ، ہمیں اپنی جامعات میں کم از کم 75000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبران کی ضرورت ہے۔ حقیقت میں ہمارے پاس صرف 15000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبر ہیں۔لہٰذا اس کےلئے ضروری ہے کہ 2003میں شروع کیا گیا اساتذہ کا ترقیاتی پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے اور ہزاروں ذہین طلبا کو دنیا کی بہترین جامعات میں بھیجا جائے ۔ دنیا کا سب سے بڑا فل برائٹ پروگرام 2005 میں ہم نے شروع کیا تھا اور طلبا کی ایک بڑی تعداد کو امریکہ میں آئیوی لیگ (Ivy league) جامعات میں بھیجا گیا تھا۔ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس ، سوئیڈن ، چین اور دیگر ممالک میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تربیت کے لئے تقریبا 11000اسکالرشپ دیئے گئے تھے ۔ لیکن انہیں بیرون ملک بھیجنا ہی کافی نہیں تھا۔ ہم نے یہ بھی یقینی بنایا کہ انکے لئے اپنے ملک میں ملازمتیں میسر ہوں تاکہ وہ واپس آئیں اور ہماری جامعات میں بطور فیکلٹی ممبر شامل ہوجا ئیں ۔ اس کے لئے جامعات کو اضافی فنڈز بھی فراہم کئے گئے تھے۔ڈاکٹر طارق بنوری کی مدت چیئرمین شپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کس طرح سے معیار کو برباد کیا جائے ۔ اس کے لئے جامعات کی تعداد میں تیزی سے توسیع کی فیکلٹی کی تعداد بڑھانے کے بجائے تقریباً 50 نئی جامعات فیکلٹی یا اضافی فنڈز کی دستیابی کے بغیر شامل کی گئیں اور 50ارب کے وظیفوں کو روک کر اعلیٰ تعلیم کے معیار کو خراب کر دیا گیا ۔ یہ حقیقت ہےکہ ایچ ای سی کے پاس تقریبا8000سے زائد اسکالرشپ سلاٹ (مقامی و بین الاقوامی) دستیاب تھےجو کئی سال سے غیر استعمال شدہ پڑے ہوئے ہیں جبکہ ہماری جامعات کو اہل اساتذہ کی کمی کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پچھلے 3 سالوں میں صرف 500 کے قریب وظائف دئیے گئے اوراربوں روپے مالیت کے وظیفے ایسے ہی ضائع ہوگئے۔

یہاں کچھ ٹھوس مثالیں ہیں۔ 22 ارب روپے کی ’’2000 اوورسیز پی ایچ ڈی اسکالرشپس اسکیم‘‘ فیز III کو 2018کے اوائل میں منظور کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعہ 2000طلباکو دنیا کی اعلیٰ 200 جامعات میں پی ایچ ڈی کی سطح کی تربیت کے لئے بھیجا جانا تھا لیکن صرف 40اسکالرشپس جاری کی گئیں ۔ ایک اور اہم اقدام انتہائی جوش وخروش کے ساتھ شروع کیا گیا تھا ، پاک امریکہ نالج کوریڈور جس کے تحت 25 ارب روپے دستیاب تھے۔ اس پروگرام کو 2017 میں منظور کیا گیا تھا اور 1500 پاکستانی طلبا کو امریکہ کی اعلیٰ جامعات میں بھیجا جانا تھا،افسوس کہ 1500 میں سے صرف 100 اسکالرشپ دی گئیں ۔ ایک اور پروگرام ’’فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام۔ پی ایچ ڈی اسٹڈیز‘‘ میں پاکستان اور بیرون ملک پی ایچ ڈی اسٹڈیز کے لئے 2000اسکالرشپس دینے کے لئے سات ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی ۔ گزشتہ 3برسوں میں 2000کے بجائے صرف120 اسکالر شپس جاری کی گئیں اور پھر ایچ ای سی نے مزید اس میں کچھ نہیں کیا۔ اسکے علاوہ ايک اور ’’پوسٹ ڈاکٹوریل فیلوشپ پروگرام‘‘ کے تحت 2017میں 1000 اسکالرز کی تربیت کے لئے 3 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ ابھی تک صرف 40افراد اس پروگرام سے فائدہ اٹھاسکے اور 960 سلاٹ کے لئے رقم غیر استعمال شدہ رہی ۔ نوجوانوں کی تربیت کے لئے متعدد اسکیموں کے تحت لگ بھگ 50 ارب روپے دستیاب تھے جنہیں ضائع کیا گیا ۔ اسی طرح پی ایس ڈی پی (PSDP)فنڈنگ کےتحت تقریباًایک ہزار پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپس منظور کی گئی تھیں لیکن صرف 20فیکلٹی ممبران ہی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکے۔محققین کی ایک سب سے اہم ضرورت جدید ترین سائنسی آلات تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ ’’جدید آلات تک کھلی رسائی‘‘ (Open Access Instrumentation)کے اس نظام کے تحت محققین جدید ترین آلات تک ملک بھر میں مفت رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس پروگرام کو بھی روک دیا گیا جس کے نتیجے میں ہماری جامعات کی تحقیقی پیداوار کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچا ۔

تازہ پی ایچ ڈی کے لئے ایچ ای سی نے 2009 میں عبوری تعیناتی(IPFP)کا پروگرام شروع کیا تھا، یہ پروگرام نئے پی ایچ ڈی کو ملازمت فراہم کرنے اور جامعات کو اہل فیکلٹی کو اپنی جامعہ میں راغب کرنے میں معاونت کے لئے تھا۔ آئی پی ایف پی نے تمام پاکستانی تازہ پی ایچ ڈی افراد کو ایک سال کی مدت کے لئے جامعات ميں ایک میعاد ٹریک سسٹم پر اسسٹنٹ پروفیسرز کے عہدے پر رکھنے کا موقع فراہم کیا۔ پروگرام بہت کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا ليکن اسکو بھی اسی سازش کے تحت روک دیا گیا ۔

ملک کے تحقیقی مراکز کو تباہ کرنے کے لئے ایک مضحکہ خیز اسکیم بنائی گئی کہ تحقیقی اداروں کے بجٹ میں 90 فیصد کمی کی جائے اور پھر پیداواری صلاحیتوں پر مبنی تھوڑی سی رقم دی جائے۔ اس کوشش کو روکنے کے لئے وزارت تعلیم کو مداخلت کرنا پڑی۔

تازہ ترین