پاک۔روس تعلقات کا ثمرآور آغاز
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئینِ کرام! ایک مخصوص درجے کے سیاسی اور قومی شعور کے حامل پاکستانیوں کا تیزی سے بدلتے ملکی، خطے اور عالمی حالات پر فوکس شدت سے مطلوب ہو گیا ہے۔ قوم کا یہ باشعور طبقہ، سرگرم، منظم اور متحد ہو کر ملک کو جاری سیاسی و اقتصادی عدم استحکام کی ابتلا سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وگرنہ غور تو ضرور کیجئے کہ ہماری تمام تر اجتماعی مہلک کوتاہیوں بلکہ گمراہی اور سخت بے لچک بیمار سماجی رویوں میں تبدیلی اب ہماری موجود نئی اور اس کے فوراً بعد آنے والی نسل کا اولین ، فوری اور مشترکہ (بلاامتیاز علاقہ و جماعت) مفاد بن گیا ہے۔ اغراض ومفادات کا معاملہ ملکی سے زیادہ ذاتی، گھریلو اور خاندانوں کا بھی اب اتنا ہی حساس بنتا جا رہا ہے جتنا ملکی اور قومی ، سو لاپروائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔آسودہ دیار ہائے غیر میں ہماری موجود، نوآباد اور آنے والی نسل کے لئے مطلوب و موجود حاصل آسودگی کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں ۔ہماری نئی نسل جو ملکی مایوس کن حالات سے مایوس ہو کر دیار غیر آباد ہو گی اور ارادے باندھ رہی ہے وہاں کے حقوق و حفاظت کی فکر میں اضافہ ہو رہا ہے جو ارباہا ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونی بینکوں، ٹھکانوں میں فریز کر دیا گیا یا ملکی اور بین الاقوامی جملہ قوانین کے مطابق غیر قانونی سرمایہ کاری میں بیرون ملک لگ گیا یا لگ رہا ہے۔ شاہ ایران، مارکوس اور کرنل مولوتو کے کروڑوں ڈالر کی طرح اس کے بھی وہیںکے سرکاری اثاثوں میں ضم ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔گلوبل ویلیج، انٹرنیشنل ازم، بین الاقوامیت کا ایجنڈا بری طرح ڈسٹرب اور متنازع ہو گیا ہے۔ ہوشیار و خبردار اقوام نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اتحاد و تعاون اور Connectivityکے ذریعے اپنے حال و مفاد اور موجود اور آنے والی نسل کے تحفظ، ملکی استحکام، و سلامتی و خوشحالی کے ظہورپذیر امکانات کی مینجمنٹ بڑی سرعت اور انہماک سے شروع کر دی ہے ۔ایسے میں پاکستان کے مملکت خداداد ہونے کی زوردار تصدیق پھر ہو رہی ہے ۔جن کا یقین پہلے ہی ہے وہ ایمان بن رہا ہے جن کا نہیں تھا ان کا بنتا جا رہا ہے کہ واقعی اس مملکت جس کا آئینی نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور جہاں نظام بد (اسٹیٹس کو) پوری طاقت سے مسلط ہے کو واقعی اللہ ہی چلا اور بچا رہا ہے ۔ہماری گمراہی، انتشار کسی حد تک طوائف الملوکی کے باوجود تابناک پاکستان کے امکانات اتنے ہی بڑھتے جا رہے ہیں جتنا گھمبیر ہمارا سیاسی ، اقتصادی اور انتظامی بحران ہے ۔بہت محتاط اندازہ ہے کہ ہم پاکستان کے لئے عالمی بحران میں بنتی اس نئی پوزیشن او رسازگار حالات کو خود بطور قوم اتنا نہیں سمجھ پا رہے جتنا ہماری ہمسائیگی میں حلیف و حریف۔ وہ اس کے مطابق پاکستان سے اپنے مطلوب تعلقات اور اس سے نپٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اس سارے پس منظر میں رواں ہفتے میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا دو روزہ دورہ پاکستان سے ملکی خارجی تعلقات کی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کی جو آئوٹ لائن عام ہوئی ہے اس نے مستقبل قریب (خاصا قریب) میں واقعی ایک بالکل نئے اور تابناک پاکستان کی واضح نشاندہی کر دی ہے ۔ سی پیک کے بعد باہمی مفاد کی بنیاد پر جغرافیائی قرب کی ہی ایک اور بڑی عالمی طاقت رشین فیڈریشن اور پاکستان کے ا ستحکام و خوشحالی اور بقائے باہمی سے متعلق وسیع تر مفادات کی حتمی تصدیق ہوئی، صرف تصدیق نہیں ان کے مشترکہ حصول کے اقدامات کا ابتدائی رسمی اعلان بھی۔ پاکستان کے فقط تجارتی اور اکنامک کوریڈور ہی نہیں، دنیا کے ایک بڑے انرجی کوریڈور بننے کے لئے پاک۔روس باہمی مفادات کے پروجیکٹ قصور تا کراچی گیس پائپ لائن بچھانے میں حائل رکاوٹیں کم ہونے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو روسی اسلحہ دستیاب ہونے، مشترکہ دفاعی مشقیں، تجارت کے حجم میں اضافے اور بین الاقوامی تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اور پرامن مذاکرات سے حل کرنے پر دونوں ملکوں کے اتفاق کے ایسے اعلانات ہوئے جن کے اثرات فقط دونوں ملکوں کے نئے دوطرفہ تعلقات سے چونکا دینے والےمحاصل روس اور پاکستان تک محدود نہیں رہیں گےپورا خطہ اور اس سے آگے دوسروں کا بھی، سی پیک کی طرح اس کےبڑے بینی فشری بننا بہت واضح ہے۔ پاکستان ہی نہیں بالعموم پوری دنیا میں ہی کسی وزیر خارجہ کا کسی دوست ملک کا دورہ اتنا ثمرآور ہوا ہو جتنا وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا دورہ پاکستان معنی خیز ثابت ہوا۔روسی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان عالمی اداروں کی شرائط سے شدید اقتصادی دبائو میں مبتلا ہے۔ ہمارا داخلی سیاسی عدم استحکام، پاکستان کے ساتھ تعاون و اشتراک کے متلاشی اور منتظر ملکوں کو پاکستانی عوام کی طرح مایوس کر رہا ہے۔ سازگار حالات سے بنی صورت کے مطابق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور امکانات کے مطابق ہی کیش کرانے کےلئے ناگزیر ہے کہ ملکی سیاسی عدم استحکام میں ایک مطلوب حد تک کمی ہو۔ پی ڈی ایم کی ناکامی پر حکومت بغلیں ہی نہ بجائے، وہ اپنے اطمینان اور سکون کے سانس کو غیر یقینی صورتحال کو درست کرنے کے لئے استعمال کرے لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یہ کام حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے ہی محال، تبھی اس باشعور طبقے کے سرگرم ہونے کی بات کی گئی ہے۔ (باقی آئندہ)

تازہ ترین