معزز مہمان کا یہ کیسا خیر مقدم ہے؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے ہاں تقاریب، مہمانوں کی آمد یا کسی تہوار سے قبل گھر کی صفائی کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔اگر ضروری ہو، تو رنگ روغن کے ساتھ مرمّت وغیرہ کے کام بھی نمٹائے جاتے ہیں۔بعض لوگ گھر کے پردے اور فرنیچر بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔ یوں آنے والے مہمان یہ سب دیکھ کر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، ہمارے ہاں ہر برس ایک ایسا مہمان بھی آتا ہے، جس کے استقبال کے لیے معمول سے ہٹ کر تیاریاں کی جاتی ہیں، لیکن یہ اقدامات خوشی کی بجائے الجھن اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ نہ بھی بتایا جائے کہ آنے والا مہمان کون ہے؟ تب بھی اُس کے استقبال کے لیے کی گئی تیاریاں دیکھ کر اُسے پہچان جائیں گے۔مثلاً

٭... اِس مہمان کے آنے سے پہلے ہی کیلے، سیب، خربوزے اور دیگر پھل مارکیٹ سے غائب ہو کر کولڈ اسٹوریج میں عارضی پناہ لے لیتے ہیں۔٭...صرف پھل ہی نہیں، آلو، بیسن، گھی اور وہ تمام اشیاء جو پکوڑوں، فروٹ چاٹ اور دہی بڑوں میں استعمال ہوتی ہیں، اُنھیں بھی اسٹور کرلیا جاتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ چیزیں مارکیٹ سے بالکل غائب ہو جائیں، یہ ملتی تو ہیں، لیکن ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اُن کی قیمتوں میں کئی گُنا اضافہ ہوجاتا ہے۔٭...بہت سے تاجر اپنے گودام چینی سے بَھر لیتے ہیں اور مہمان کی آمد پر منہگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ ٭...ہر وہ چیز منہگی ہو جاتی ہے، جو اس مہمان کی موجودگی میں استعمال ہوتی ہے۔ آٹا،بیسن، چینی، گھی، آلو، چاٹ مسالا، سبزیاں، بالخصوص لیموں سب کی قیمتیں آسمان کو چُھونے لگتی ہیں۔جی، آپ کا اندازہ درست ہے۔ یہ مہمان، ماہِ رمضان ہے،جس کا ’’استقبال‘‘ کچھ اِس طرح کیا جاتا ہے کہ اِس کے کروڑوں میزبان ذہنی کوفت اور مالی پریشانی سے دوچار ہوجاتے ہیں۔افسوس، ہر سال کی طرح اِس بار بھی اِس محترم، مقدّس اور متبرّک مہمان کا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ہی استقبال کیا گیا۔ بیش تر کاروباری افراد کے لیے رمضان المبارک کا چاند، ’’چاندی‘‘ کا سبب بنتا ہے، جب کہ ان سوداگروں کے بے رحم ہاتھوں میں کھلونا بنے عوام اِس ماہ کے دَوران بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ہماری ایک 88سالہ تاجر، عبدالرحمٰن سے ملاقات ہوئی، جو اکبری منڈی میں کاروبار کرتے تھے، لیکن اب بیٹوں نے کاروبار سنبھال رکھا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ’’60 ء اور 70 ء کی دہائی میں بھی لوگ منہگائی کا رونا روتے تھے، لیکن پھر بھی ایسا’’اندھیر‘‘ نہیں تھا، جو آج کل ہے۔ چند روز قبل اپوزیشن رہنما، احسن اقبال نے کہا تھا کہ’’ اب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ لوگ افطار کریں یا سحری۔‘‘ لیکن چار دہائیاں قبل کوئی شخص ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وطنِ عزیز پر کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے۔‘‘ عبدالرحمٰن نے بتایا’’ پہلے لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں کثرت سے افطاربھیجتے تھے اور مساجد میں بھی افطار بھیجنا ہماری ایک خُوب صُورت روایت تھی۔

تاہم، اب متوسّط اور نچلے طبقے کے لوگوں کو تو اپنی ضروریات ہی پوری کرنے کی پڑی ہے، وہ دوسروں کو افطار کروانے کا کیا سوچیں؟‘‘اُنھیں اِس بات کا بھی شکوہ ہے کہ عوام، بالخصوص تاجر خطباتِ جمعہ اور دیگر مذہبی اجتماعات میں سُنتے رہتے ہیں کہ کیسے مختلف اقوام ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری کے سبب اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا نشانہ بنیں، مگر اس کے باوجود یہ تاجر اپنی غیر قانونی، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی روش سے باز نہیں آتے۔ مسجد سے قدم باہر رکھتے ہی وعظ و نصیحت ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں اور پھر سے ننانوے کے چکر میں لگ جاتے ہیں۔

اِس مقصد کے لیے نئے نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کر سکیں۔ اگر بڑے تاجر اپنے گودام مال سے بَھر لیتے ہیں، تو نچلے اور درمیانے کاروباری افراد بھی کچھ کم نہیں۔وہ غیر معیاری آئل، ناقص کھجوریں، مضرِ صحت مشروبات اور دوسری ناقص اشیاء روزہ داروں کو بیچ کر ایک طرح کا فخر محسوس کرتے ہیں۔ 

عوام افطار کے وقت کی روایتی بھاگ دوڑ، جلد بازی، افراتفری’’وقت کم، مقابلہ سخت‘‘ جیسے لمحات میں وہ اشیاء حلق سے اُتار لیتے ہیں، جو حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی ہوتی ہیں۔ عبدالرحمٰن نے بتایا’’ مَیں اندرونِ شہر کا رہائشی ہوں۔ دو، تین دہائیاں قبل کم از کم رمضان المبارک کے دَوران تو اِن اشیاء میں ملاوٹ کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ذخیرہ اندوزی بھی خال خال تھی اور منافع خوری سے بھی گریز کیا جاتا تھا۔ 

اب تو مارکیٹ سے پھلوں اور اشیائے خور و نوش کا غائب ہو جانا ہی اِس بات کی اطلاع ہے کہ رمضان المبارک آنے والا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے مذہبی تہواروں پر چیزیں سستی ہو جاتی ہیں، مگر پاکستان میں معاملہ اُلٹا ہے۔‘‘ عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ’’ ہم گزشتہ رمضان المبارک میں کورونا کا عذاب جھیل چُکے ہیں اور اب بھی جھیل رہے ہیں۔ ایک سال پہلے نہ جانے کتنے لوگوں نے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی ہوگی۔ لیلۃُ القدر میں گڑگڑا کر دُعائیں مانگی ہوں گی۔

بے حساب قرآنِ پاک کے ختم ہوئے ہوں گے اور لوگوں نے زکوٰۃ، خیرات بھی دی ہوگی، لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ مصیبت ٹل نہیں رہی اور حالات روز بروز ابتر ہوتے جا رہے ہیں؟ شاید اِس کی وجہ یہی ہے کہ رحمتِ خداوندی نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے اور ہماری دُعائیں قبول نہیں ہو رہیں، کیوں کہ ہمارے اعمال اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پچھلے رمضان مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوا کہ ایک تاجر، جو لوگوں کو افطار بھی کرواتا تھا، یوٹیلیٹی اسٹورز کے عملے کی ملی بھگت سے کم قیمت پر چینی خرید کر اپنے اسٹور پر انتہائی منہگے داموں بیچتا رہا۔‘‘

معزز مہمان کا یہ کیسا خیر مقدم ہے؟
مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

گزشتہ اقوام جو ہمارے ہی جیسے گناہوں سے آلودہ تھیں، اگر اُن کے انجام پر نظر ڈالیں، تو جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور کہتے ہیں’’حضرت عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا’’ نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے‘‘( ابنِ ماجہ )۔ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر یہ وبا پھیل چُکی ہے کہ رمضان المبارک کے قریب آتے ہی عام استعمال کی اشیاء کی قلّت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔اسلام میں ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشادِ گرامی ہے’’ذخیر اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔‘‘ لعنت، رحمت کی ضد ہے۔ 

جب معاشرے پر اللہ کی رحمت کی بجائے لعنت نازل ہونے لگے، تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے اثرات نظر آتے ہیں۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ رزق میں برکت ہو، رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اور پھر حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں، اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو، لیکن جب معاشرے پر لعنت پڑنے لگے، تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں، لیکن زبان پر یہ الفاظ رہتے ہیں’’اِتنا کماتے ہیں، مگر پتا نہیں کہاں جاتا ہے۔‘‘ اِس کی وجہ برکت کا اُٹھ جانا ہے، پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا، عبادات کا شوق ہی نہ رہا، نیک کاموں کی طرف دِل مائل ہی نہیں ہوتا، یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، وہ گنہگار ہے‘‘(مسلم شریف)۔

حضرت عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا’’جوشخص کھانے پینے کی چیزیں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر منہگائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے کوڑھ کے مرض اور محتاجی میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘ ابنِ قدامہ روایت کرتے ہیں کہ’’حضرت عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دُکان دار کو ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا اِس کام سے روکنا بھی واضح کیا، لیکن وہ باز نہ آیا اور کوڑھی ہو گیا۔‘‘

علّامہ شوکانی نیل الاوطار، جلد دوم، ص181میں لکھتے ہیں کہ’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ذخیرہ کرنے والے کا غلّہ جلادیا۔‘‘مولانا فضل الرحیم اشرفی کے مطابق،’’ اِن تمام ارشاداتِ نبویﷺ اور تعلیماتِ اسلامی کے پیش نظر یہ بات بالکل واضح ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤنا فعل ہے۔ پھر اِتنا گھٹیا اور بُرا کام اور وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں، توبہ ہے۔ حالاں کہ اِن مبارک لمحات کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس میں ثواب کمائے، غریبوں کی مدد کرے، روزہ داروں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنی مغفرت کا سامان کرے۔‘‘

معزز مہمان کا یہ کیسا خیر مقدم ہے؟
محمّد الیاس گھمن

ذخیرہ اندوزی کرنے والے ایسے تاجر ہیں، جو صرف اپنے مسلمان بھائیوں ہی کا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرّب روزہ داروں کا بھی خون چُوستے ہیں۔اس ضمن میں معروف عالمِ دین، مولانا محمّد الیاس گھمن کہتے ہیں’’ اللہ تعالیٰ ہمارے خالق ہیں اور مالک بھی، خالق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اَزخود نہیں بنے، بلکہ اُس ذات نے ہمیں وجود بخشا اور مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں جس کام کا حکم دے، جس بات سے رُکنے کا کہے، اُس کی تمام باتوں کو ماننا ہمارے لیے ضروری ہے۔ 

اللہ تعالیٰ جن باتوں اور کاموں کا حکم دیتے ہیں، اُن میں خیر ہوتی ہے۔ جن اُمور سے بچنے اور رُکنے کا حکم دیتے ہیں، اُن میں شر ہوتا ہے، اگرچہ ظاہری طور پر کتنے ہی خوش نُما کیوں نہ نظر آئیں۔ جب تک کوئی قوم اللہ کے نازل کردہ احکامات پر چلتی رہتی ہے، تب تک مجموعی طور پر اُس پر تکالیف اور مصائب نہیں اُترتے، لیکن جب اسی قوم کی اکثریت اللہ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے لگے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصائب اُسے گھیر لیتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں سابقہ اُمّتوں کی تباہی، بربادی اور ہلاکت کے اسباب مذکور ہیں کہ فلاں قوم نے فلاں خدائی حکم سے رُوگردانی کی، تو اللہ تعالیٰ نے اُس قوم پر عذاب نازل فرمایا۔

شرک کے ساتھ بعض گناہ ایسے تھے، جو اُن قوموں میں موجود تھے اور وہ اُن پر اللہ کے عذاب کا باعث بنے۔جیسے قومِ نوح نے اللہ کی نافرمانی کی، تو طوفان کے عذاب میں مبتلا ہوئی۔ قومِ عاد پر تکبّر کے سبب تیز ہوا کا عذاب نازل ہوا۔قومِ شعیب ناپ تول میں کمی کرتی تھی، اُس پر تیز دھاڑ، چیخ کا عذاب آیا۔ اسی طرح قومِ ثمود، قوم لوط اور دیگر اقوام تباہی سے دوچار ہوئیں۔ درحقیقت، قرآنِ کریم کوئی قصّے کہانیوں کی کتاب نہیں، بلکہ اس میں بیان کردہ قصّے انسان کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ ہمیں ان اقوام کے اعمال اور انجام کے تناطر میں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ 

احادیثِ مبارکہؐ میں ناپ تول میں کمی، خرید و فروخت کے وقت جھوٹی قسمیں اُٹھانے، دھوکا دہی، ناجائز منافع خوری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔اِن حربوں سے مال تو بِک جاتا ہے، لیکن اُس مال کے ساتھ انسان کا ایمان بھی بِک چُکا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے گھروں میں خیروبرکت باقی نہیں رہتی۔اسباب ِتعیّش کے باوجود ایسے لوگوں کو دلی سکون و راحت میسّر نہیں آتی۔‘‘