تعلیمی اداروں کی بندش، فیسوں سمیت دیگ رچارجز کی وصولی پر والدین پریشان
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی اداروں کی بندش، فیسوں سمیت دیگ رچارجز کی وصولی پر والدین پریشان

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) گزشتہ ایک برس سے تعلیمی اداروں کی بندش کے باوجود بھاری بھرکم فیسوں کے ساتھ ساتھ لائبریری، ودہولڈنگ ٹیکس ، اینول فنڈ اور دیگر اضافی سرگرمیوں کے نام پر ہزاروں روپے بٹورے جانے پر والدین نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث گزشتہ ایک برس سے زندگی مشکل بنی ہوئی ہے اوراپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کر رہے ہیں ۔ ایک برس میں کچھ عرصہ ہی بچے تعلیمی اداروں میں گئے تو ایسے میں نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے لائبریری فیس اور دیگر اضافی سرگرمیاں کہاں سے آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلٰی تعلیم کا حصول ہر بچے کا حق اور یہ حق فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں تعلیم باقاعدہ نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان سکیورٹی، عمارت کی مرمت، لائبریری فیس اور اینول فنڈ سمیت طرح طرح کے جواز بیان کر کےپیسے وصول کرتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے یونیورسٹی طلبہ کی فیس پر ٹیکس کی وصولی بھی قابل افسوس ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مفت تعلیم فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم فیسوں پر ٹیکس تو وصول نہ کرے۔ والدین کے مطابق آن لائن سر گرمیاں جاری رکھنے والے تعلیمی اداروں کی طرف سے پوری فیس وصول کرنا بھی زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کورونا سے انہیں بھی معاشی مسائل کا سامنا ہے۔
اسلام آباد سے مزید