آئی اے رحمٰن: سیکولر اقدار کا علمبردار
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممتاز دانشور، صحافی اور استاد آئی اے رحمٰن 90سال پر محیط اپنی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد راہیٔ ملکِ عدم ہوئے تو ان کی زندگی کے حالات و واقعات ذہنی کینوس پر نمودار ہو رہے ہیں۔ وہ یکم ستمبر 1930کو ہریانہ کے رند بلوچ خاندان میں پیدا ہوئے مگر رحمٰن صاحب کا لب و لہجہ بڑا نستعلیق، تہذیبی آداب کے ساتھ دہلوی تھا۔ دراصل گڑگائوں ایک طرح سے دہلی کا ہی حصہ ہے اور پھر ان کی گریجویشن علی گڑھ یونیورسٹی سے تھی۔ تقسیم کے نتیجے میں مہاجرت کا صدمہ سہنے کے بعد اگلی تعلیم انہوں نے جی سی یو لاہور سے مکمل کی اور اپنے کیریئر کا آغاز پاکستان ٹائمز میں رپورٹنگ سے کیا بعد ازاں اسی اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی رہے، اسی دوران فیض احمد فیض کی شخصیت و فکر سے فیض یابی کا شرف بھی حاصل رہا۔

کوئی ربع صدی قبل جب ان سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا تو رحمٰن صاحب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے اور محترمہ عاصمہ جہانگیر کے بہت قریب خیال کئے جاتے تھے جن کے ساتھ مل کر دیگر احباب کے تعاون سے یہ ادارہ تشکیل پایا تھا مابعد 2008سے 2016تک اس ادارے کے سیکرٹری جنرل رہے۔ وہ پاک ہند فورم برائے امن و جمہوریت کے بانیان میں سے تھے۔ دونوں ممالک میں غلط فہمیاں مٹانے اور انہیں قریب لانے کیلئے ان کی وسیع خدمات ہیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق بالخصوص غریب اور دبے ہوئے طبقات، اقلیتوں اور خواتین کیلئے ان کی توانا آواز تھی۔ ان کی انگریزی تحریریں بیرونِ ملک بھی ریفرنس کی حیثیت سے پڑھی جاتی تھیں۔ وہ ایک ایسے متحرک انسان تھے کہ درویش کسی بھی فورم یا مجلس میں گیا، محترم آئی اے رحمٰن کو وہاں حاضر و موجود پایا، ان سے محبت کرنے والوں کی کہیں کمی نہ تھی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور شہری آزادیوں کیلئے بھی ان کے قلم کی جولانی میں کبھی کمی آئی نہ زبان میں لکنت، جب جب یہاں آمریتیں مسلط ہوئیں آئی اے رحمٰن ان کے خلاف متحرک پائے گئے۔ پیرانہ سالی کے باوجود ہر تحریک میں پیش پیش رہے، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ بزرگ تھک بھی جاتے ہوں گے۔

اگست 1997میں ’’زندگی‘‘ کیلئے ان کا انٹرویو کرتے ہوئے جب یہ سوال کیا کہ رحمٰن صاحب! آپ کی نظر میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ تو کیا خوب گویا ہوئے، ’’میری نظر میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے یہاں جمہوری نظام اور اسلامی معاشرت کو ہم آہنگ کرنے کا الجھائو دور نہیں کیا۔ ہمارے ہاں بالعموم عوامی سطح پر روایت ایک ایسے اسلام کی رہی ہے جو حالات، زمانے اور سماجی تقاضوں کے ساتھ اپنی روز کی تشریح کرتا رہا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس میں Liberal Traditionکو آگے بڑھانے اور جمہوری نظام کو جانچنے پر بھی کام نہیں ہوا۔ جمہوری نظام کو کھلے اور چھپے ہائی جیکروں نے ہائی جیک کر لیا، ہمارے ملک کے سیاست دان بھی آمرانہ نظام کے قائل رہے ہیں اور اب بھی وہی روایت چل رہی ہے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں بولے کہ ’’اسلام وقت اور انسانی شعور کے ساتھ چلتا ہے۔ فقہ کا بنیادی اصول ہے کہ زمان و مکاں کی تبدیلی سے حکم بدل جاتا ہے آپ جس COLLECTIVENESS کی بات کر رہے ہیں وہ حکومت نہیں ہے دراصل وہ اجتماعیت ہے۔ اسلامی ریاست کی اصطلاح ایک سلوگن ہے کیونکہ مذہب ایک زندہ ہستی کے عقیدے اور اس پر عمل کا نام ہے جبکہ ریاست ایک Corporateباڈی ہے۔ کارپوریٹ باڈی مذہب کا مظہر نہیں ہو سکتی لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ معاملات عقل و شعور کے ساتھ طے کرنے کا کہا گیا ہے یہیں سے اجتہاد و اجماع کا نظریہ نکلا ہے... دراصل گزشتہ سو برسوں سے ہماری سوچوں میں بڑا فرق آیا ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ جمہوریت اور جدید سائنسی ترقی کی بنیاد اسلامی علوم ہیں، آج کہتے ہیں کہ جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ الگ نظام ہے، اب کچھ عناصر نے جمہوریت اور سائنس کو مغربی سوچ و فکر کا نام دیتے ہوئے انہیں غیراسلامی قرار دے دیا ہے، ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کوٹ پتلون کو بھی غیراسلامی قرار دیتے ہیں... سیکولر ازم کا مطلب ایک سماج میں عقیدے کی مکمل آزادی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین