• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روڑ پر کاغذات دکھا نے کے بجائے متعلقہ فورم پر کیس لڑا جائے، کسٹم ترجمان

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر) ترجمان کسٹم نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پھر وائرل ہوئی جس میں ایک شخص عبداللہ ناصر ایک ایسی گاڑی کے کاغذات دکھا کر ملکیت کا دعو ی ٰکر ر ہا ہے جسے چند ماہ قبل پولیس نے قبضے میں لے کر کسٹم حکام کے حوالےکی تھی یہ گاڑی نان کسٹمز پیڈکے شک کی بنیاد پر تحویل میں لی گئی تھی۔ مسلسل غیر حاضریوں اور مالک کے نہ ہو نے اور پولیس لیبارٹری کی رپورٹ جس میں واضح طور پر گاڑی کے چیسز پنچ شدہ پائے گئے، گاڑی سرکار نے ضبط کی۔ پنچ شدہ یا مسخ شدہ چیسز والی گاڑیوں سرکار کی ملکیت قرار دی جاتی ہیں ۔ اس سے پہلے بھی متعلقہ شخص نےسمگل شدہ گاڑی جو اب سر کاری ملکیت بن چکی ہے کو روک کر اپنی ملکیت ظاہر کرنے اور زبردستی لے جانے کی کوشش کی جسے محکمہ کسٹم کی نفری نےناکام بنایا اور کسٹم آفیسر ان کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے جانے اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات کے تحت اس کے خلاف FIR درج کروادی تھی۔ ایسی کسی بھی گاڑی جسکا چیسز نمبر پنچ ہو قانونی طور پر سرکار کی ملکیت قرار دی جاتی ہے ۔ جسے کسی صورت نیلام نہیں کیا جاسکتا۔ متعلقہ گاڑی بھی پنچ شدہ ہے۔ حالیہ کسٹمز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر جن نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کو تحویل میں لیا تھا۔ ان کا ریکارڈ کسٹمز کے پاس موجود ہے اور گاڑیوں کے متعلق معلومات آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔پاکستان کسٹمز ایک انتہائی ذمہ دار محکمہ ہے اور ملکی معیشت میں ا نتہای اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی اخبارات اور میڈیا کے ذرائع بار بار بتایا گیا کہ کسی بھی گاڑی جو کسٹمز حکام نے تحویل میں لی ہو اس کے متعلق معلومات کسٹم کے دفتر سے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ روڑ پر کاغذات دکھا نے کے بجائے متعلقہ فورم پر جاکر اپنا کیس لڑنا چائیے۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ گاڑی خرید تے وقت ایکسائز کے ساتھ محکمہ کسٹم کے کاغذات کی تصحیح بھی کریں۔
کوئٹہ سے مزید