افغان امن عمل میں پیشرفت!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان مسئلے کے سیاسی حل اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے لئے امریکہ، چین ،روس پاکستان اور قطر کی مشترکہ کوششوں سے کامیاب طویل مذاکرات کے بعد 29فروری 2020 کو دوحہ میں جو تاریخ ساز معاہدہ کیا گیا اس کی رو سے مقررہ ٹائم فریم کے مطابق افغان متحارب گروپوں اور اشرف غنی حکومت کے مابین پر امن سیاسی عمل کی بحالی، عام انتخابات اور اقتدار منتخب سیاسی نمائندوں کے حوالے کرنے سے متعلق مذاکرات جس طرح بھی چل رہے ہیں اسی دوران صدر جوبائیڈن نے اپنے پیشرو صدر ٹرمپ کے پروگرام کی توثیق کرتے ہوئے مئی سے ستمبر تک امریکی فوج کے انخلا کا جو اعلان کیا ۔ جس کے بعد جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی ، ان کے رفیق کار عبد اللہ عبد اللہ سمیت نیٹو فوجیوں سے ملاقات کی ۔ دوسری طرف اسی روز پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور انجیلا اگیلر نے ملاقات کی۔ بلا شبہ یہ ساری کڑیاں دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد سے جاکر ملتی ہیں۔ جس کے دوسرے مرحلے کا وقت آگیا ہے دریں اثنا بھارت جو پس پردہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے رہا ہے صدر جوبائیڈن کے اعلان کے بعد اس کی مخالفت میں کھل کر سامنے آگیا اور نیٹو فوج کی واپسی پر واویلا کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے انجیلا اگیلر سے اپنی بات چیت میں افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق صدر جوبائیڈن کے اعلان کو سراہتے ہوئے اس موقف کو پھر دہرایا ہے کہ خوشحال، مستحکم اور پر امن افغانستان ہی پاکستان اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا افغان حکام سے کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کا مطلب دونوں ملکوں کے تعلقات کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ افغانستان کے ساتھ ہماری وابستگی کا اظہار ہے ۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان فریقین کے اشتراک عمل سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلا کے اصول کی حمایت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے نقطہ نظر سے یہ انتہائی اہم ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی امن عمل میں پیشرفت کے ساتھ ہو۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بجا طور پر اس امید کا اظہار کیا کہ ترکی میں افغان قیادت کا آمدہ اجلاس افغانوں کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرے گا کہ وہ سیاسی تصفیہ کے حصول میں مل جل کر آگے بڑھیں ۔ یہ وہ وقت ہے جسے دیکھنے کیلئے پاکستان اور افغان عوام نے 40 سال صبر آزما انتظار کیا ۔ طویل افغان جنگ کے تناظر میں امریکہ اور عالمی برادری نے ہمیشہ پاکستان کی قربانیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے افغان معاملات میں اس کے کردار کو سراہا اور فی الواقع یہ صدیوں پرانی حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں میں بسنے والے لوگ مذہب، ثقافت اور تہذیب و تمدن کی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہمیشہ آپس میں ملتے جلتے اور ہر خوشی غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔آپس کی رشتہ داریاں ، تجارت ، آزادانہ نقل و حرکت سے قیام پاکستان کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کا وجود محض رسمی رہا۔ تاہم افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے داخل ہونے کے بعد رونما ہونے والے حالات میں دو عشروں تک دونوں ملکوں کو بد امنی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا اور اتنا ہی عر صہ اس سے قبل سوویت یونین سے جنگ کی نذر ہوگیا۔ اس مجموعی صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ اب یہ طالبان سمیت تمام افغان گروپوں کاامتحان ہے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر مفاہمت کے ساتھ ایک متفقہ سیاسی نظام تشکیل دیں اور قومی تعمیر نو کیلئے مل جل کر کام کریں۔ عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کی خود مختاری کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے چار دہائیوں سے جنگ کے شعلوں میں جھلسے اس ملک کی تعمیر نو میں تعاون کرے۔

تازہ ترین