برطانیہ واپس پہنچنے والے پاکستانیوں کا نامناسب سہولتوں پر احتجاج
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ واپس پہنچنے والے پاکستانیوں کا نامناسب سہولتوں پر احتجاج

لندن (سعید نیازی) برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے کے بعد برطانیہ پہنچ کر ہوٹل میں قرنطینہ کرنے والے افراد مناسب سہولتیں نہ ملنے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک بڑی رقم لینے کے باوجود انہیں غیر معیاری کھانا فراہم کیا جارہا ہے اور عملہ کا سلوک بھی مناسب نہیں۔ ہیتھرو ایئر پورٹ کے قریب ہوٹل میں ٹھہرے حسنین شیخ نے بتایا کہ ہوٹل میں19کے قریب پاکستانی خاندان مقیم ہیں اور ان تمام کو یہ شکایت ہے کہ انہیں تین وقت کو کھانا فراہم ہی نہیں کیا گیا اور اکثر تاخیر سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور روزہ رکھنے والے بعض افراد بغیر سحر و افطار کے روزہ رکھنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھانا ٹھنڈا فراہم کیا جاتا ہے اور متعددایسی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ٹھنڈی مچھلی کھانے سے بچے فوڈ پائزنگ کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کی انتظامیہ کو کئی مرتبہ شکایات کی گئیں، لیکن وہ وعدہ کرنے کے باوجود شکایات کو دور نہیں کرسکے ہیں۔ لندن کے ہوٹل میں بھی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ قرنطینہ کرنے والے عبداللہ عنایت نے بتایا کہ پہلے تو پاکستان میںپرواز سے صرف چار گھنٹے پہلے ملا اور لندن بھیجنے کے بعد ایئر پورٹ پر پانچ گھنٹے سے زائد انتظار کرنا پڑا۔ ہوٹل میں ہمیں دور، دور کمرے دیے گئے ہیں اور جو کھانا فراہم کیا جارہا ہے وہ انتہائی غیر معیاری ہے۔ ٹھنڈا بھی ہوتا ہے۔ ٹھنڈا کھانا ملنے کے سبب بچے ٹھیک طریقے سے کھانا بھی نہیں کھا رہے اور چھوٹے بیٹے کا پیٹ خراب ہوگیا ہے اور الٹیاں بھی لگ گئی ہیں۔ انتظامیہ کی تمام توجہ سیکورٹی پر ہے۔ گارڈز ہم سے اس طرح برتائو کرتے ہیں جیسے ہمیں چھونے سے انہیں بھی بیماری لگ جائے گی اور ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم جرائم پیشہ لوگ ہیں جنہیں جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے باہر جانا ہو تو ہماری نگرانی کی جاتی ہے اور کوویڈ ٹیسٹ کو دو دن سے زائد بھی لگتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ ابھی تک موصول نہیں ہوا ہے۔ عبداللہ عنایت نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً تین ہزار پائونڈ کی رقم ادا کی ہے اور ہمیں اس کے مطابق سروس بھی دی جانی چاہیے۔ برمنگھم کے ہوٹل میں قرنطینہ کرنے والی زینب بیگم نے بتایا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام رقم سیکورٹی پر لگا دی گئی ہے اور جو کھانا منگوائو اس کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔