• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سحری میں کونسے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں ہماری کھانے کی عادات کس طرح خراب ہوجاتی ہیں، ہم ہر بار تلے ہوئے پکوان کھانے سے خود کو روکنے کا ارادہ کا رکھتے ہیں لیکن افطاری میں ہمارا یہ ارادہ ٹوٹ جاتا ہے، ہماری کوئی افطاری پکوڑے اور سموسوں کے بغیر نہیں گُزرتی جبکہ سحری کے وقت پراٹھے اور لسّی تو ہماری غذا کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔

ماہِ رمضان صحتمند غذا کھانے کا ایک بہت اچھا موقع ہے، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ سارا دن سستی محسوس نہ کریں تو اس کے لیے آپ کو سحری میں مناسب اور صحتمند کھانا کھانے کی ضرورت ہے۔ 

یہاں ہم آپ کو اُن کھانوں کے بارے میں بتائیں گے جنہیں آپ کو سحری میں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ آپ صحت و تندرستی کے ساتھ ماہِ رمضان گُزار سکیں۔

سحری میں نہ کھانے والی غذائیں:

سفید آٹا:

سفید آٹے سے بنی ہوئی کوئی بھی چیز ہمارے معدے میں گیس کا باعث بن سکتی ہے لہذا پاستا، سفید روٹی اور ایسی چیزوں سے پرہیز کریں جس میں سفید آٹا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے آپ سحری میں لال آٹے اور دلیے کا استعمال کرسکتے ہیں، اس سے آپ کو گیس جیسے مسائل کی شکایت بھی نہیں ہوگی اور روزے کی حالت میں توانائی بھی ملے گی۔

تلے ہوئے کھانے:

ایسا کھانا جس میں روغن اور سوڈیم کی مقدار زیادہ ہو، اس سے آپ کو پیاس زیادہ لگے گی اور پسینہ بھی زیادہ آئے گا جس سے آپ کا جسم پانی کی کمی محسوس کرنے لگے گا لہٰذا سحری کے وقت تلے ہوئے کھانے اور زیادہ تیل والی غذاؤں سے پرہیز کریں اور اپنے کھانے میں کم مقدار میں تیل کا استعمال کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کو روزے کی حالت میں پیاس کم لگے گی اور آپ کا کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا۔

ڈبّے والی فروٹ ڈرنکس:

سحری میں ڈبے والے پھلوں کے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پھلوں کے اُن جوس  میں مصنوعی شوگر کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جس کی وجہ سے آپ کی بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ سحری میں ان مشروبات کی جگہ دہی، لسّی اور کسی مِلک شیک کا استعمال کریں۔

تازہ ترین