• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ٹھل میر رکن‘‘ بدھ مت کی قدیم عبادت گاہ

سندھ کی تاریخ قدیم بھی ہے اور عظیم بھی ۔ اس کےقدیم آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں جب دنیا کے زیادہ تر ممالک میں جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے، یہ سرزمین علم و ادب کا گہوارہ تھی۔ یہاں نامور علمائے کرام اور فقیہاءنے جنم لیا۔ جب سندھ کے قدیم آثار کی کھدائی کی جاتی ہے تو اس کے سینے سے برآمد ہونے والےنوادرات اس کے عظیم الشان ماضی کی کی گواہی دیتے ہیں۔ 

وادی مہران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امن و آشتی اور چین و سکون کی سرزمین تھی۔ لوگ یہاں ذہنی یکسوئی کے لیے آتے تھے اور پھر اسے مستقل سکونت گاہ بنا لیتے تھے۔ مختلف مذاہب کے لوگوں نے یہاں اپنے مذاہب کی تعلیم و تبلیغ کا پرچار کیا، آخر میں مسلمان آئے، جس کے بعد یہ خطہ اسلام کے نور سے منور ہوا۔ صدیوں قبل یہاں بدھ راہب بھی آئے، جو اس دھرتی کی فضا سے اتنے متاثر ہوئے کہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کا کام کیا اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بدھ مذہب کی طرف راغب کیا، جس کی وجہ سے یہاں بدھ مت کو فروغ حاصل ہوا۔ بدھ راہبوں نے یہاں اپنی مذہبی عبادت گاہیں اور اسٹوپا تعمیر کرائے۔

ٹھل اسٹوپوما گوتم بدھ کے پیروکاروں نےتعمیر کرایا تھا۔انہوں نے اس کی بالکل منفرد انداز میں تعمیر کرائی جو برصغیر پاک و ہند میں کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ اس کی بلندی 60 فٹ ہے اور یہ کچی اورپکی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی اینٹیں بدھ حکمرانوں کے ادوار میں تیار کرائی گئی تھیں۔سندھی مورخین کے مطابق یہ نہ صرف قدیم ٹھل ہے بلکہ دوسری صدی عیسوی سے گیارھویں صدی تک بدھ مت کا اہم مرکز تھا۔اسٹوپا کے گنبد کا پھیلاؤ سطح زمین سے شروع ہوتا ہے جہاں اس کا قطر 60 فٹ ہے۔ 

جوں جوں یہ مینار چوٹی کی طرف جاتا ہے اس کی چوڑائی کم ہوتی جاتی ہے۔ اس مینارے پر دس دس فٹ کے فاصلے پر اینٹیں باہر نکال کر گیلری نما پیڑیاں بنائی گئی ہیں جن کو اس مینار کی منازل بھی کہا جاسکتا ہے، تاہم نچلے حصے کی اینٹیں ٹوٹ جانے کے باعث صرف نشانات باقی رہ گئے ہیں جبکہ اوپر ی منازل کی اینٹیں اب بھی صحیح سلامت ہیں۔قدیم آثار کے یورپی ماہر ہینری قزنس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کی تعمیر میں جو پختہ اینٹیں اور پلستر استعمال ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہزاروں سال قدیم ہے۔ کھدائی کے دوران مختلف زیورات اور مورتیاں بھی ملیں ۔

قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے بزر گ عبداللہ جٹ کو یہاں زمین کلیم میں ملی تھی۔ ان کے مطابق جب گھر بنانے کے لئےزمین کی کھدائی کی گئی تووہاں سے مٹی سے بنا ہو ا ہاتھی کا مجسمہ اور ایک ایسی پتھر کی سل ملی جس پر ایک عورت کی دونوں زانو پر بیٹھے بچے کی تصویر کندہ تھی۔ اس اسٹوپوما کے آس پاس کی کھدائی کے بعد ملنے والی اشیاء سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ یہاں بدھ مت کے ماننے والے خاصی تعداد میں آباد تھے اور انہوں نے مذکورہ مینار اپنے شہر کی دور سے شناخت یا پھر دشمن پر نظر رکھنے کے مقصد کے تحت تعمیر کیا تھا۔

شہر تو حوادث زمانہ کا شکار ہوکرتباہ وہ برباد ہوگیا تاہم مینار موجود ہے۔ لیکن اس میں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ یہاں زہریلے سانپوں، بچھوؤں اور الؤوں نے اپنا مسکن بنایا ہوا ہے۔ یہاں موجود سانپوں کے بارے میں علاقے کے افراد کا کہنا ہے کہ یہ اس قدر خطرناک ہیں کہ ان کا ڈسا شخص فوری طور پر ہلاک ہوجاتا ہے۔ اس اسٹوپوما کا نام تو کسی کو معلوم نہیں ہوسکا تاہم محققین کا خیال ہے کہ اس کا نام بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے نام سے ہی موسوم ہوگا۔

اس بارے میں ممتاز محقق پندار کرکی رائے ہے کہ اصلی اسٹوپوما ’’کنشا‘‘ پہلی صدی میں بنایا گیا تھا۔ دولت پور کا اسٹوپوما ریلوے لائن بچھانے کے وقت اس طرح اجاڑا گیا کہ اس کی تعمیرمیں لگائی گئی اینٹیں ریلوے لائن کے ساتھ بچھائی گئی سڑک میں استعمال کی گئیں، جس سے اسٹوپوما کی ہیئت بدل گئی ۔