• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان کریم کی پُرنور ساعتیں اور سحری کی برکتیں

محمد عبداﷲ صدیقی

الحمدللہ،ماہِ صیام رمضان کریم کا عشرہ مغفرت ہم پر سایہ فگن ہے۔انتہائی خوش قسمت و خوش نصیب ہیں وہ اہل ایمان جنہیں اﷲ تعالیٰ نے ایک اور زریں موقع عطا فرمایا ‘مقدس ترین مہینے رمضان شریف کی برکتیں‘رحمتیں اور فضیلتیں سمیٹنےاور دامن مراد بھرلینے کا۔ ماہ ِصیام کا ہرلمحہ بہت قیمتی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جس میں نفلوں کو فرضوں کے برابر اہمیت مل گئی اور فرضوں کو70 گنا اضافی فضیلتوں سے سرشار کردیا گیا ۔

یہ صدقہ او رطفیل ہے خاتم النبیین‘ رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکا کہ عمل مختصراور تھوڑا سا جب کہ اجر و ثواب بہت زیادہ اور بہت بڑا۔تقریباً ہر خوش قسمت روزے دار بندۂ مومن کو خوش نصیبی کے ساتھ یہ موقع بھی ہر شب نصیب ہوجاتا ہے کہ ’’سحری‘‘ کی سنت ادا کرنے کے لیے اُسے رات کے اس قیمتی وقت میں اٹھنا پڑتا ہے ‘جس وقت بارگاہ ارحم الراحمین سے آسمان دنیا کی قربت کے ساتھ بندگان خدا کی مختلف حاجتوں‘ مرادوں‘ ضرورتوں اور دعائوں کی قبولیت کے لیے ندائیں ہوتی ہیں اور بار بار مولائے کریم اپنے حاجت مند بندوں کو پکار پکارکر فرماتا ہے، کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے، اورمیں اسے بخش دوں۔(متفق علیہ) مسلم کی ایک روایت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتا اورفرماتا ہے، کون ہے جو قرض دے، اسے جو فقیر ہے نہ ظالم۔یہاں تک کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔ یہ بھی فرمایا نبی اکرم ﷺ نے کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جو کوئی مسلمان اسے پالے اور اس میں بھلائی کا سوال کرے ،دنیا وآخرت کے امور سے متعلق، مگر اﷲ تعالیٰ اسے وہ عطا فرمادیتا ہے ۔ یہ ہر شب ہوتا ہے اور رمضان شریف میں تو مغرب ہی کے بعد سے آوازیں لگنی شروع ہوجاتی ہیں۔

اسی آہ سحر گاہی اور دعائے نیم شبی کی اہمیت کے پیش نظر سر کار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’رات کے قیام(یعنی نماز تہجد اور تلاوت قرآن پاک) کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیوں کہ (شب بے داری کا مبارک) یہ عمل تم سے پہلے بھی نیک ( اور متقی) لوگوں کا طریق (اور وطیرہ) رہا ہے۔ ( یہ رات کی جگت والی اہم عبادت) تمہیں تمہارے رب کریم سے اور زیادہ قریب کرنے والی ہے۔یہ تمہارے بُرے اعمال کا کفارہ بن جاتی اور تمہیں (بہت سارے) گناہوں سے روکنے اور بچانے والی ہے‘‘۔

قرآن پاک کے حُکم کے مطابق سرور کونین ﷺ پر تویہ اضافی نماز فرض تھی،جب کہ صحابۂ کرام ؓ بھی اس نماز سے پہلو تہی نہیں برتتے تھے اور ان ہی اہمیتوں کے پیش نظر اولیائے کرام ؒ اور صوفیائے عظام نے اس نماز کو ’’سنت موکدہ‘‘ کا درجہ دے کر اپنے معمولات و عبادات کا لازمی جزوبنالیا اور بنا رکھا ہے۔

سحری کے وقت اٹھنے والے روزے داروں کو بہ آسانی اور بدرجہ سہولت یہ موقع ہاتھ آتا ہے کہ چند منٹ نکال کر مبارک ترین مہینے کی مبارک راتوں اور گھڑیوں میں چند رکعتیں تہجد کی نماز ادا کرنے اور اس کے ثواب کمانے کا۔ان اوقات میں دعائیں مانگنے اورالتجا کا کیا اچھا وقت عطا فرمایا گیا۔دامن مراد بھرنا اور فیض یاب ہونا بہت ہی آسان ہے۔

مشہور صوفی بزرگ‘حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی ؒجن کی جلالت شان سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو‘آپ کی تعلیمات سے جہاں لاکھوں نے فیض پایا،وہیں آپ کا دسترخوان بہت وسیع تھا۔حق تعالیٰ کی طرف سے غیب کا خزانہ کھلا ہوا تھا اور کسی مال دار‘امیر یا بادشاہ وغیرہ کی کوئی اعانت کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا کہ حق تعالیٰ نے آپ کو مستغنی بنایا ہوا تھا،آپ کی شہرت تو تھی کہ ہزاروں کے خورونوش کا روزانہ انتظام ہوتا،نہ کوئی روحانی فیض سے خالی جاتا اور نہ ہی کوئی طعام وقیام کی سہولتوں سے محروم رہتا تھا۔ ملکِ سنجر کے بادشاہ نے پیش کش کی کہ ملک نیمروز کا ایک حصہ آپ کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔

اس کی تمام آمدنی کے آپ حق دار ہوں گے ،تاکہ آپ کو اپنے وسیع اخراجات اور مہمانوں کی ضیافت میں کچھ سہولت ہوجائے۔حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی ؒ نے نامنظور فرمایا اور پیش کش کے جواب میں دو اشعار اپنی شان استغنیٰ کے ساتھ لکھوا بھیجے۔ترجمہ: چترسنجر کی طرح میرامنہ(نعوذباﷲ) سیاہ ہوجائے،اگر میرے دل میں ملک سنجر کی طلب کا ذرا ساوسوسہ بھی ہو۔مجھے (اﷲ تعالیٰ کے فضل سے) جب سے ملک نیم شب ( آدھی رات کی بادشاہت) حاصل ہوئی ہے، نیمروز کی ظاہری سلطنت میری نظر میں ایک جوکے بھی برابر نہیں۔

احادیثِ نبوی ؐ میں نماز تہجد کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔نماز تہجد پراجروثواب حاصل کرنے کے حوالے سے سحری کے اوقات بڑی مبارک ساعتیں ہیں۔کیا ہی بہتر ہو کہ ہم میں سے ہر ایک ان ایام میں نماز تہجد کی عادت اپنا لے اورپھر پوراسال اس کا اہتمام رکھے۔