شہید بےنظیر بھٹو کا خدشہ اور بال ٹمپرنگ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند دن پہلے سوشل میڈیا پر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کا وہ اخباری تراشہ شیئر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے عمران خان کی 1996میں پاکستان کی قومی سیاست میں آمد کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ یاد رہے جب عمران خان نے تحریکِ انصاف کے قیام کا اعلان کیا تھا تو اس وقت محترمہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کی سیاست میں آمد کا خیرمقدم کرتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ’’بال ٹمپرنگ‘‘ نہ کریں۔ ایک فاسٹ بائولر ہونے کے تناظر میں عمران خان کے بارے میں شہید محترمہ کا یہ ’’خدشہ‘‘ پاکستان کی آئندہ سیاست پر بھرپور تبصر ہ تھا۔ آج اگر وہ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ ان کا ’’خدشہ‘‘ کتنا درست تھا۔

کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ Gentleman's gameیعنی شرفاء کا کھیل ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی، اعلیٰ ظرفی اور کشادہ دلی سے مخالف ٹیم کا احترام کرنا ہے۔ اسی لئے فاسٹ بولرز سے بلے بازوں کو بال ٹمپرنگ اور خطرناک بائونسرز سے بچانے کے لئے سخت ضابطے بنائے گئے ہیں۔ جب عمران خان نے قومی سیاست میں قدم رکھا تو اکثر لوگوں کو کم سے کم توقع یہ تھی کہ شرفاء کے کھیل سے تعلق رکھنے اور کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائرز کی ڈیمانڈ کرنے والے عمران خان قومی سیاست میں تحمل، برداشت اور رواداری کو فروغ دیں گے۔ ویسے تو وہ خود کو تاریخ، جغرافیہ، مذہب، سیاست اور فلسفے کا ماہر بھی قرار دیتے ہیں لیکن مغرب اور مغربی معاشرے کو اُن سے زیادہ کوئی نہیں جانتا جس کا وہ جتنی مرتبہ فخریہ اظہار کر چکے ہیں لوگ اب انہیں ’’ماہرِ مغرب‘‘ کے نام سے زیادہ جاننے لگے ہیں۔ مغرب کی بھی سب سے بڑی خوبی آئین و قانون کی پابندی اور اعلیٰ اخلاقی قدریں ہیں لیکن بدقسمتی سے عمران خان کی سیاست میں آمد کے بعد ہمارے حصّے میں مغرب اور شرفا کے کھیل کرکٹ کی برداشت، تحمل اور مخالف ٹیم کے ساتھ اعلیٰ ظرفی جیسی خصوصیات تو نہ آ سکیں البتہ اس کھیل کی واحد خامی یعنی غصیلے فاسٹ بالر کی نامناسب جملے بازی، بال ٹمپرنگ، قانون سے متجاوز بائونسرز اور نو بالز ضرور آگئیں جنہوں نے کھیل کے میدان کو ’’میدانِ جنگ‘‘ بنا دیا۔ نیوٹرل ایمپائرز کی ڈیمانڈ کرنے والے عمران خان نے ایمپائرز کے ساتھ مل کر سیاست کو ’’فری اسٹائل ریسلنگ‘‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ اس میں جس طرح قانون اور ضابطے توڑے جا رہے ہیں اس کی مثال کہیں بھی اور کبھی بھی نہیں ملتی۔ اس کا آغاز تو ہمارے غصیلے فاسٹ بائولر نے اپنے مخالف بیٹسمینوں کے خلاف ابتدا میں ہی کردیا تھا جس میں اس وقت شدّت پیدا ہو گئی جب ایمپائرز کے تعاون سے ایک طویل دھرنا دیا گیا جس میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی بلڈنگ پر حملے جیسے ’’بائونسر‘‘ پھینکے گئے، گھیرائو جلائو کیا گیا۔ اپنے سیاسی مخالفین اور ملکی انتظامیہ کے خلاف ’’میں اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا‘‘ جیسے نو بال کروائے گئے۔ اس کے بعد چاہے ’’میچ فکسنگ‘‘ کے ذریعے ہی سہی حکومت میں آنے کے بعد حکمرانی کے تقاضوں کے پیشِ نظر ترجیحات بدل جانی چاہئے تھیں کیونکہ ملک میں معاشی ترقی کے لئے امن و امان اور سیاسی استحکام حکمرانوں کی اپنی اشد ضرورت ہوتا ہے لیکن ہمارے فاسٹ بولر نے لائن اور لینتھ سے ہٹ کر وہ ’’شارٹ پچ‘‘ بائولنگ کی کہ جس پر یا تو اس کے خلاف چوکے اور چھکے لگتے رہے یا بال وکٹ کیپر کے اوپر سے گزر کر بائونڈری لائن کراس کرتی رہی۔ فٹ بال میچوں میں تو ناراض کھلاڑیوں کو غصّے میں اپنی ہی ٹیم کے خلاف گول کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے لیکن عمران خان واحد کرکٹر ہیں جو تین سال گزرنے کے بعد بھی اپنے اور اپنی ٹیم کے خلاف ہی کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس کی المناک روداد حال ہی میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے اپنے ایک انٹرویو میں بتائی ہے جسے سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا ملک کے چیف ایگزیکٹیو کا یہ کام ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی، بےروزگاری اور معاشی تباہی کے حوالے کرکے اپنی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بےبنیاد انتقامی مقدمے بنائے۔ جس کی اپنی حکومت گلے تک ہر قسم کی کرپشن میں دھنسی ہو وہ اپنے ہر بھاشن کا آغاز اپنے مخالفین کی کرپشن سے کرے۔ جنہیں عدالتیں حکومت کی انتقامی کارروائیاں قرار دے کر ضمانت پر رہا کررہی ہیں۔ حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ نہ صرف اسے لانے والے پریشان ہیں بلکہ اس کے اپنے اندر بغاوت کا سماں ہے۔ پاکستان کو تباہی کی سونامی سے بچانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوششوں سے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے اس سلسلے میں شاندار کردار ادا کیا اور ہر ضمنی الیکشن میں حکومت کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔ جس کا حالیہ مظاہرہ کراچی کے این اے 249کے انتخابات میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں تحریکِ انصاف اپنی جیتی ہوئی سیٹ بھی شرمناک طریقے سے ہار گئی ہے لیکن محترمہ مریم نواز نے یہ کہہ کر پوری قوم کو مایوس کر دیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر چاہتی ہیں کہ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے۔ اس سے نہ صرف پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نکالنے کی وجہ سامنے آگئی ہے۔ بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ جس حکومت کو عوام مزید ایک دن بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں نواز لیگ اسے پانچ سال کیوں دینا چاہتی ہے۔ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر اسمبلیوں سے استعفوں اور لانگ مارچ کی کیا ضرورت تھی؟ پیپلز پارٹی کی تجویز کردہ حکمتِ عملی کے تحت جب عمران حکومت عدم اعتماد کے جمہوری طریقے کے ذریعے گرنے والی تھی تو اسے بچانے کے لئے پی ڈی ایم کو مزید مضبوط بنانے کی بجائے توڑ دینا اگر سازش نہیں تو کم از کم سیاسی نا پختگی ضرور ہے۔

تازہ ترین