کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ متنازع ٹوئٹس کے بعد بند کردیا گیا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ متنازع ٹوئٹس کے بعد بند کردیا گیا

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے گینگ ریپ اور نسل کشی سے متعلق متنازع متعدد ٹوئٹس کیے جانے کے بعد ٹوئٹر نے ان کا اکاؤنٹ بند کردیا۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق کنگنا رناوت نے 4 مئی کو اپنی متعدد ٹوئٹس میں بھارتی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران مبینہ طور پر سیاسی جماعت ترینامول کانگریس (ٹی ایم سی) کی جانب سے خواتین کے گینگ ریپ اور وہاں کے عوام کی نسل کشی کیے جانے سے متعلق دعوے کیے تھے۔اداکارہ نے اپنی ٹوئٹس میں مرکزی حکمران جماعت بی جے پی کے عہدیداروں کو مینشن کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران ٹی ایم سی نے وہاں کم از کم 30 افراد کو قتل کیا۔اداکارہ نے ٹوئٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ مغربی بنگال میں انتخابات جیتنے والی سیاسی جماعت کے ارکان نے لوگوں کے گھروں کو جلایا، خواتین کے ریپ کیے اور پرتشدد کارروائیوں میں 30 افراد کو ہلاک کیا گیا۔کنگنا رناوت نے سنگین دعوے کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی اور عالمی میڈیا مغربی بنگال میں ہونے والے گینگ ریپ اور نسل کشی پر خاموش تماشی بنی ہوئی ہے۔اداکارہ کی مذکورہ ٹوئٹس کے بعد ٹوئٹر نے ان کا اکاؤنٹ معطل کردیا۔بھارتی میڈیانے دعویٰ کیا کہ ٹوئٹر نے کنگنا رناوت کا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ٹوئٹر ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اداکارہ کی جانب سے مسلسل ضوابط کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ان کا اکاؤنٹ بند کیا گیا۔ٹوئٹر کی جانب سے اکاؤنٹ بند کیے جانے کے بعد کنگنا رناوت نےکہا کہ ان کے پاس اپنی آواز لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹوئٹر کے علاوہ دوسرے پلیٹ فارمز ہیں اور انہیں استعمال کریں گی۔کنگنا رناوت نے اپنا اکاؤنٹ بند ہونے پر کہا کہ ٹوئٹر کی جانب سے ان کا اکاؤنٹ بند کیے جانے سے ثابت ہوگیا کہ وہ امریکی اور سفید فام ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ وہی بولیں جس کی وہ اجازت دیں۔علاوہ ازیں کنگنا رناوت نے انسٹاگرام پر اس حوالے سے ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی، جس میں انہوں نے بھارتی صدر سے ریاست مغربی بنگال میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔