ملکی معیشت اور آئی ایم ایف!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ تقریباً تین سال کے عرصے میں ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام کا بیڑا اُٹھانے والے چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین نے حکومت کے عمومی بیانیے کے برخلاف صاف کہہ دیا ہے کہ معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا۔ کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی، مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ شرح سود13.25 فیصد اور سیلز ٹیکس 17 فیصد مقرر کرنا بھی غلطی تھی، ہم جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد تک نہیں لے گئے تو پیداواری صلاحیت بڑھے گی نہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑیں گے۔ اس حوالے سے انہوں نے اقتصادی قرضوں کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کئے جانے والے معاہدے اور ان کی شرائط کو سخت، پاکستان سے زیادتی اور خاص طور پر بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے مطالبے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے عالمی ادارے کے پروگرام پر نظر ثانی کا عندیہ دیا۔ پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانے کے بریفنگ اجلاس میں انہوں نے قومی معیشت کی حقیقی صورتحال بلا کم وکاست بیان کردی جس سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے تین سال میں اقتصادی محاذ پر ہم سے کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئیں اور ان کے ازالے کے لئے اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ ہم اب معیشت کے استحکام کے مرحلے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں مناسب پلاننگ کی کمی ہے اسے بہتر بنانے کے لئے ہم نے قیمتوں میں استحکام ، زراعت، صنعت ، ریونیو، ہاؤسنگ، سماجی تحفظ، قومی خدمات، قرضہ مینجمنٹ اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری سمیت دس بارہ شعبوں کو منتخب کیا ہے اور ماہرین معیشت نے اس پر کام شروع کردیا ہے۔ وزیر خزانہ نے گردشی قرضوں میں کمی لانے کے لئے بجلی پر محصول بڑھانے کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کرنے اور ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھا کر ریونیو ہدف حاصل کرنے کی بات کی اور کہا کہ جن سرکاری اداروں کو حکومت نہیں چلاسکتی ان کی نجکاری کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برآمدات نہیں بڑھ رہیں کیونکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی بجائے زیادہ تر کاروبار مقامی ہیں۔ انہوں نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے مگر اس پر قابو پانے کے لئے اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔ سیلز ٹیکس 17 فیصد بہت زیادہ ہے اسے کم کرنے کا طریق کار طے کیا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ کے خطاب سے یہ بھی پتہ چلا کہ تمام صوبوں کے ریونیو کا 85 فیصد صرف 9 شہروں پر خرچ کیا جاتاہے جبکہ صحت اور تعلیم پر بہت کم خرچ ہوتا ہے ۔ ملک میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے چین سے ایک کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کا کہا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی وقار مسعود نے بتایا کہ کورونا کی تیسری لہر نہ آتی تو ترقی کی شرح 4 فیصد ہوجاتی۔ شوکت ترین اوپر تلے تین وزرائے خزانہ کے تجربے سے گزرنے کے بعد لائے گئے ہیں۔ وہ پہلے بھی ملک کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور موجودہ حکومت میں ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ملکی معیشت کے استحکام کے حوالے سے ان کی کئی قابل قدر تجاویز میڈیا کے ذریعے سامنے آتی رہی ہیں اس لئے توقع کی جانی چاہیئے کہ وہ دوسری معاشی خرابیاں دور کرنے کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خاص طور پر آئی ایم ایف سے معاملات درست کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ کورونا کی تباہ کن وبا کے پس منظر میں آئی ایم ایف سے قرضوں کی شرائط میں نرمی وقت کی ضرورت ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ملک کے اقتصادی معاملات میں آئی ایم ایف کی مداخلت بہت بڑھ گئی ہے اور مہنگائی سمیت اس وقت قوم کو جتنے مسائل کا سامنا ہے ان کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں اس عالمی ادارے کا ہی ہاتھ ہے۔ شوکت ترین اس تاثر کو زائل کرسکے تو یہ موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔

تازہ ترین