• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آنر کلنگ کا سزا یافتہ ممنور رحمٰن جیل سے رہائی کیلئے پیرول بورڈ سے کلیئر

لندن( پی اے ) پیرول بورڈ نے والد کے حکم پر آنر کلنگ کرنے والے شخص کو جیل سے رہائی کیلئے کلیئر کر دیا۔ ممنور رحمٰن جب 15 سال کا تھا تو اس کے والد بنگلہ دیشی ویٹر شمیر علی نے اسے اور اس کے بھائی مجیب رحمٰن کو حکم دیا تھا کہ وہ اس کی بیٹی کو حاملہ کرنے والے یونیورسٹی سٹودنٹ کو قتل کر دے ۔ 20 سالہ مانا بیگم آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایرانی طالب علم 19 سالہ عرش گھوربانی زرین سے سے ڈیٹنگ کر رہی تھی۔ جس پر اس کے والد کو طیش آ گیا والد نے اس کی پہلے سے شادی طے کر رکھی تھی۔ مسٹر گھوربانی زرین کی لاش آکسفورڈ کے ایک نواحی علاقے میں اس کی کار سے ملی تھی جس پرزخموں کے 46 نشانات تھے۔ جج نے اسے کولڈ مرڈر قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ شمیر علی اور اس کے دو بیٹوں کو 2005 میں قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ منور جس کی عمر اب 32 سال ہے کو کم از کم 14 سال جیل سلاخوں کے پیچھے گزارنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ اب پیرول بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ رہائی کیلئے موزوں ہے جس میں لائسنس کی شرائط بھی شامل ہیں ۔ اسے ایک مخصوص پتے پر رہنا ہو گا اور اس کی حد طے ہوگی کہ اس سے کون رابطہ کر سکتا ہے، وہ کیا کرسکتا ہے اور وہ کہاں جاسکتا ہے۔ فیصلے کی تفصیلات والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جرم کے وقت اسے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں کیونکہ خاص مسائل اور ہتھیار کے جانے پر اور اس کے استعمال پر آمادگی میں یہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اب جیل میں وقت گزارنے کراس نے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسے 2017 میں کھلی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا اور جہاں اس کے رویے یا جیل رولز کی تعمیل کے سلسلے میں اس کے حوالے سے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی گئی ۔ پیرول بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھیب شحخص کی رہائی کا فیصلہ کرتے وقت یہ مد نظر کر رکھا جاتا ہے کہ وہ قیدی عوام کیلئے کس قدر خطرے کا باعث بن سکتا ہے اور یہ کہ آیا کمیونٹی میں یہ خطرہ قابل انتظام ہے۔ پیرول بورڈ نے اصل جرائم کی تفصیلات اور رویئے میں تبدیلی کے کسی ثبوت کے ساتھ ساتھ وکٹمز پر ہونے والے نقصان کے اثرات کو بھی سمجھتے ہوئے تمام شواہد کا جائزہ لیا ۔ پیرول بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیرول ریویوز پوری طرح انتہائی احتیاط سے کیے جاتے ہیں اور کسی بھی فیصلے میں عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
یورپ سے سے مزید