ایران نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی میں اسرائیلی کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں G7 ممالک اسرائیل کے ساتھ براہ راست شریک ہیں، ایرانی قوم 2025 میں اسرائیلی حملوں میں شہری ہلاکتوں کو فراموش نہیں کرے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جی سیون ایران کے داخلی معاملات میں غیرقانونی مداخلت بند کرے، غیرقانونی پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی حقوق کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے۔ 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اُکسانے کا واضح ثبوت ہیں، ایران پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، آئین کے تحت شہری حقوق کا پابند ہے، ریاست شہریوں کے تحفظ اور امن وامان برقرار رکھنے کی مکمل ذمے داری نبھائے گی۔ بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کا دفاع کیا جائے گا۔