• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خالد پرویز۔ ۔۔برمنگھم
چمکتے ہوئے روشن دن میں گاڑی تیزی سے اسپین کے شہر قرطبہ کی جانب رواں دواں تھی۔ سیکڑوں میل کی اس مسافت میں موٹر وے کے دونوں اطراف پہاڑ زیتون کے سرسبز درختوں سے لدے ہوئے ایک خوشنما منظر پیش کررہے تھے۔ ان مناظر کی دلکش کے باوجود میرے دل و دماغ میں ایک عجیب سی ہلچل اور ہیجان برپا تھا کہ یہ روشن دن، یہ فضائیں، یہ ہوائیں اور یہ سرسبز وادیاں کبھی یورپ میں پہلی سلطنت اسلامیہ اندلس کا حصہ تھیں لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں نے 800 برس تک اسپین کے اس بڑے حصے اندلس میں توحید کی صدائیں بلند کرنے والے اور ظلمت کے اندھیروں میں تہذیب و تمدن کے چراغ جلانے والے مجاہدوں، غازیوں اور شہیدوں کو ماضی کا قصہ بنادیا۔میں گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکاکر اس ماضی کے دھندلکوں میں کھوگیا اور زمین و مکان کے فاصلے کٹتے چلے گئے۔ تاریخ کے اوراق الٹے پلٹنے شروع ہوگئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے711عیسوی کا زمانہ گویا کل ہی کی تو بات ہے۔ جب امت مسلمہ عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد نے سرزمین پر قدم رکھے تھے اور اپنی کشتیوں کو جلا دیا تھا اور پھر ان غازیوں اور مجاہدوں کے بے مثال کارناموں سے فتوحات کا سلسلہ وسیع تر ہوتا ہوا فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچا تھا۔ یورپ میں ایک اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ دی گئی۔دمشق میں اموی خاندان کی خلافت کے خاتمے کے بعد اس خاندان کے ایک فرد عبدالرحمن نے قرطبہ پہنچ کر اپنے حمایتیوں کی مدد سے756عیسوی میں اسپین میں ایک باقاعدہ سلطنت اسلامیہ اندلس کے قیام کا اعلان کیا اور قرطبہ اس سلطنت کا دارالخلافہ تھا اور تھوڑے ہی عرصہ میں یورپ میں قرطبہ کے برابر کوئی شہر نہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب رات پڑتے ہی لندن اور پیرس اندھیروں میں ڈوب جاتے لیکن شہر قرطبہ کی گلیاں اور سڑکیں روشنی کے انتظام کی وجہ سے روشن ہوتی تھیں۔ تہذیب و تمدن اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی نے وہ عروج دیکھا کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اس کی عظمت کے آثار آج بھی باقی ہیں اور یورپ کی موجودہ ترقی یافتہ تہذیب نے اندلس کے تمدن سے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا۔یورپ میں شہر قرطبہ تہذیب و تمدن کا روشن مینار خوبصورت اور ہر قسم کی آرائش میں اپنا نظیر نہیں رکھتا تھا۔ مدرسے، یونیورسٹیاں، مشہور عالم، اسکالر، فلاسفر، شاعر، ریاضی دان، ڈاکٹر سب کچھ وہاں موجود تھا۔ یورپ بھر سے لوگ علم کے حصول کے لیے قرطبہ کا رخ کرتئے تھے۔
شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے اور گاڑی میں سے دور نظر آنے والی شہر قرطبہ کی جگمگاتی روشنیوں نے دل کی دھڑکنوں کو تیز تر کردیا اور جب اپنے ہوٹل پہنچے تو ایک بار پھر دل و دماغ اور جذبات میں ایک طوفان سا برپا ہونے لگا کہ یہ ہوٹل مسجد قرطبہ سے صرف چند منٹ کے فاصلے پر تھا۔ اپنے کمرے میں سامان رکھ کر باہر نکل آیا۔ شب کی تاریکیوں نے قرطبہ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا، لیکن میں بے تابانہ مسجد کے اطراف گلی، کوچوں میں گھومنے لگا، نہ جانے میں کیوں ان غازیوں اور مجاہدوں کی تلاش کرنے لگا کہ جن کے دم سے کبھی یہ گلیاں آباد تھیں، زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور چہل پہل اور رونقیں ان کوچوں کا مقدر ہوا کرتی تھیں۔لیکن جب ان نیم تاریک گلیوں میں شراب خانوں اور شراب کے نشے میں لڑکھڑاتے ہوئے شرابیوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا تو بہت جلد میرا دم گھٹنے لگا۔ واپس ہوٹل پہنچ کر بستر پر بے سدھ لیٹا ہی تھا کہ کرب کی شدید لہر تھی جس نے میرے دل و دماغ اور میری روح تک کو گھائل کردیا۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہزاروں، لاکھوں شہیدوں کی روحیں میرے چاروں اور موجود ہوں کہ جو کبھی اس خطہ زمین کے مالک تھے اور جنہیں انتہائی بیدردی اور بے رحمی سے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ میں گھبرا کر اپنے بستر سے اٹھ بیٹھا۔دوسرے روز صبح کی نماز کی ادائیگی اور رب کائنات کے حضور سجدہ ریز ہونے کے تھوڑی دیر بعد دل و دماغ اور جذبات میں اٹھنے والے طوفانوں کے ساتھ مسجد قرطبہ میں داخل ہورہے تھے جس کی تعمیر کا آغاز785عیسوی میں عبدالرحمن اعظم کے زمانہ میں ہوا تھا اور پھر مختلف ادوار میں اس کی تعمیر میں اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر987عیسوی میں24,000اسکوائر میٹر پر مشتمل اس کی تعمیر کا رقبہ دگنا ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ قرطبہ کے تاج کا یہ ہیرا کہ صدیوں کے بے رحم موسم اور وحشی انسان جس کا کچھ نہ بگاڑ سکے تھے، آج بھی اپنی آب و تاب سے اندلس کی سرزمین پر قائم ہے۔ اسپین کے مسلمان جو مکہ کا دور دراز کا سفر نہ کرپاتے۔ ان کے لیے دنیا میں حسن و خوبصورتی اور صنعت و معماری میں بے مثل یہ مسجد قرطبہ مقدس ترین مقام تھا جس کی وہ انتہائی عقیدت و محبت سے زیارت کرتے اور یہ مسجد ان کی مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی۔ حکمران اور خلفا بھی باقاعدگی سے نماز کے لیے اس مسجد میں حاضر ہوتے۔ اندلس اور قرطبہ میں اسلامی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مسجد کو بھی چرچ میں تبدیل کردیا گیا لیکن سنگ مرمر کے ستونوں پر قائم بلند بالا، خوبصورت اور خوشنما محرابیں آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں کہ جن کو دیکھنے کے لیے اس دور میں لوگ دور، دور سے آیا کرتے تھے اور اسی مسجد میں روشنی کے لیے چھوٹے بڑے دس ہزار لیمپ جلا کرتے، تین سو ملازمین اور خدام اس میں کام کرتے تھے۔زمین و مکان کے فاصلے سمٹتے چلے گئے اور اس میں اس مسجد قرطبہ کی شان و عظمت کے سحر میں کھویا۔ اس محراب کے پاس جا کھڑا ہوا، جہاں صدیوں پہلے خلیفہ، حکمران اور امام کھڑے ہوکر نماز کے لیے امامت کروایا کرتے، اس محراب پر آج بھی آیات مقدسہ اصلی حالت میں کنندہ ہیں، میرے دل میں یہ تڑپ بڑی شدید سے اٹھی کہ ان غازیوں اور مجاہدوں کے نقش پا پر کھڑے ہوکر میں بھی رب کائنات کے حضور سجدہ ریز ہوسکوں، لیکن اب وہاں کسی کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے دیکھا کہ سیکورٹی اسٹاف میری حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں خاموشی سے پیچھے ہٹ کر مسجد کے ایک کونے میں ستون کے ساتھ جا بیٹھا اور پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو نوافل ادا کرکے قرطبہ اور اندلس کے مجاہدوں اور غازیوں کے ایصال ثواب کے لیے دعائیں مانگتا رہا۔پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے رخصت ہونا پڑا، مسجد قرطبہ پر آخری حسرت بھری نظر ڈالتے ہوئے ہماری گاڑی شہر سے تقریباً سات کلو میٹر دور جبل العروس کی پرفضا وادی میں جاکر رکی، یہ وہ مقام ہے جہاں خلیفہ عبدالرحمن سوئم نے اس دور کا ایک اور عجوبہ اور عظیم الشان محل تیار کیا، جس کو اپنی محبوب بیوی الزہرا کے نام موسوم کیا۔ یہ محل اتنا وسیع و عریض تھا کہ اس کو محل کے بجائے مدینتہ الزہرا کہتے تھے۔ جس میں شاہی مکانات کے علاوہ باغات، ہزاروں ملازمین اور شاہی فوج کے لیے علیحدہ عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں۔ تقریباً چار میل طویل اور تین میل چوڑے رقبہ میں پچیس سال میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی اور جنہوں نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، بیان کرتے ہیں کہ دیکھنا اور سننا تو ایک طرف خواب و خیال کو بھی یہاں مجال و دخل نہ تھی۔ وسیع سنگ مرمر کی عمارت، دربار خاص و عام کی شان و شوکت اور اس کے باغات کا پرفضا سماں، نہروں اور فواروں سے چھلکتا ہوا پانی، گویا کہ یہ محل خلافت اندلس کی شان و شوکت، عظمت و بزرگی اور رعب داب کا مرکز تھا۔ عربوں نے اپنی صنعت و حرفت کو اس محل پر ختم کردیا تھا اور میں حسرت و یاست سے جبل العروس کی وادی میں موجود کھنڈرات میں عظمت گزشتہ کے نشانات ڈھونڈ رہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک میرے قدم رک گئے۔ ان کھنڈرات میں ایک ہال نما محفوظ بڑے کمرے کے باہر لگی ہوئی تختی پر لکھا ہوا تھا کہ یہ وہ کمرہ ہے جہاں خلیفہ اپنے وزراء اور درباریوں سے ملاقات کرتے، میں بے تابی سے اندر چلا گیا، ایک پراسرار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور درو دیوار پر میرے اسلاف کے مٹنے کی دردناک اور المناک کہانیاں درج تھیں۔
یورپ سے سے مزید