• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راہداری تجارت کے معاہدے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، ضیاء الحق سرحدی

پشاور(جنگ نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان نئے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی بعض شقوں پر عدم اتفاق کے باعث تجارتی راہداری کے لیے مزید 6ماہ کی توسیع منسٹری آف کامرس اسلام آباد نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے کردی ۔ واضح رہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ مجریہ 2010کی مدت جو کہ پہلے3ماہ کے لیے 11مئی 2021ء تک دی گئی تھی اُس میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی ہے۔پاک افغان جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ نظرثانی تجارت اور ٹرانزٹ معاہدے پر گفتگو کے لئے پالیسی گروپ کااجلاس افغانستان کے وزیر صنعت و تجارت نثار احمد گوریانی کی زیر صدارت گزشتہ دنوں منعقد ہواتھا۔اجلاس میں تکنیکی ٹیم نے وزارت صنعت و تجارت کے زیر اہتمام اے پی ٹی اے معاہدے پر تبادلہ خیال کیاتھاجو گزشتہ 2ماہ سے ہر پیر اور منگل کو آن لائن میٹینگ کے ذریعے منسٹری آف کامرس اسلام آباد پاکستان اور منسٹری آف کابل افغانستان کے درمیان ہو رہے تھے جو کہ کافی حد تک حل طلب ہو گئے تھے اور اس میں 90فیصد کام مکمل ہو چکا تھا اور10 فیصد کام رہ گیا تھا۔لیکن حکومت کی جانب سے مزیدمعاہدے میں 6ماہ کی توسیع سمجھ سے بالا تر ہے۔ضیاء الحق سرحدی جو کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کا مرس کی پاکستان ریلوے سنٹرل سٹینڈنگ کمیٹی کے کنونیئر اورافغان ٹرانزٹ ٹریڈ سنٹرل سٹینڈنگ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئر بھی ہیں نے مزید کہا کہ2010کے راہداری تجارت کے معاہدے پر نئے حالات کے تناظر میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔تجارتی راہداری کا نیا معاہدہ طے نہ ہونے پر دونوں ممالک کی تجارتی برادری کو تشویش لاحق ہے۔
پشاور سے مزید