• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

ہمارے پڑوس میں ایک بے حد مہذّب، دین دار، خوش اخلاق بیوہ خاتون رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے بچّوں کی تربیت کچھ اس طرح کی کہ جو اُن سے ایک بارملتا، بار بار ملنے کی خواہش کرتا۔ یہ اچھا کھاتا پیتا، مثالی اور مہذّب گھرانہ تھا۔ اُن بزرگ خاتون کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ بچّے بڑے ہوئے، تو یکے بعد دیگرے سب کی شادیاں کرکے فرض سے سبک دوش ہوگئیں۔ ان کی مونس و غم خوار بیٹیوں کے رخصت ہونے سے گھر میں اُداسی چھاگئی کہ بیٹیاں گھریلو امور میں معاون و مددگار اور ماں کی محبت سے پوری طرح سرشار اور غم گسار تھیں۔ اور پھر..... بیٹیوں کے رخصت ہوتے ہی اس گھرانے کا ماحول یک سر بدل گیا۔ 

اُن کے گھر سے آئے روز شوروغل اور لڑائی جھگڑے کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک دن تو غضب ہوگیا۔ خالہ جی کی کسی بات پر اپنی پوتی سے تلخ کلامی ہوگئی۔ پوتی نے جب حد سے زیادہ بدتمیزی کی، تو خالہ نے اُسے ایک تھپڑ رسید کردیا۔ باپ نے دیکھا، تو اس نے اپنی بیٹی کی خاطر اپنی سگی ماں کا بھی لحاظ نہ کیا، غصّے میں بے قابو ہوکر ماں کو گالیاں بکیں، پھر بے دردی سے ماں کو ایسے لاتیں، گھونسے مارے کہ وہ نحیف و نزار بوڑھی خاتون بے ہوش ہوگئیں۔ 

وہ ماں، جس نے اپنے بیٹے کو اچھی تعلیم و تربیت دی اور زمانے کے سردوگرم سے بچاکر جوان کیا، اسی بیٹے نے سفّاکیت کی انتہا کرکے انسانیت کو شرم سار کردیا۔ ہم سب ہی اس بزرگ اور مہذّب خاتون کی بے بسی پر صدمے سے گنگ ہوکر رہ گئے تھے، لیکن سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے تھے، حق ہم سائیگی بھی ادا کرسکے، نہ انہیں بچا سکے، نہ ہی بزرگی میں ان کی عزّت و توقیر کی حفاظت کرسکے۔ بے حسی اور سفّاکیت کا یہ واقعہ آج بھی یاد آتا ہے، تو خوف سے جسم میں جھرجھری سی آجاتی ہے۔ بیٹے کے ظلم اورسفاکیت پر بوڑھی ماں نے صدمے سے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا، ہمہ وقت اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی در و دیوار تکتی رہتی تھیں۔ 

ہم لوگ پڑوسی ہونے کے ناتے کچھ عرصے تک اپنی بچیوں کو خالہ جی کی خیرخیریت کے لیے بھیجتے رہے، انہیں بہانے سے کھانا وغیرہ بھی بھجواتے رہے۔ دوسری طرف وہ بیٹیاں، جو اپنی ماں کی مونس وغم گسار تھیں، وہ ان سب باتوں سے بے خبر اور لاعلم تھیں۔ ان بے چاریوں کو یہ تک معلوم نہ ہوسکا کہ ان کی ضعیف العمر ماں کس حال میں ہے؟ مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ ’’اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے‘‘ قصّہ مختصر، اپنی ماں کو بے دردی سے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے والے سفّاک بیٹے کا انتہائی بھیانک انجام ہوا۔ 

پہلے تو اس کا پائوں اچانک ناکارہ ہوگیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی اسے معمولی تکرار کے بعد چھوڑ کرچلی گئی۔ گالیاں بکنے والی زبان سے آئے دن خون رِسنے لگا، حلق سے کھانا نہ اترتا، محض چونتیس برس کی عمر میں سارے دانت جھڑ گئے۔ اس کے بعد وہ ظالم بیٹا آئے دن بستر پر پڑاکراہتا رہتا، پھر اِک روز اُسے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا، تو ماں کے قدموں میں سر رکھ کر زاروقطار رورو کر معافی مانگنے لگا۔ ممتا کی ماری ماں نے اپنے بیٹے کو معاف تو کردیا، لیکن بدقسمت بیٹا اب بس زندہ ہی ہے، وگرنہ ہر قسم کے سکون و راحت سے محروم، ہمہ وقت پریشان، مضطرب اور دُکھی ہی نظر آتا ہے۔

بیماری اور دُکھوں نے اسے جوانی ہی میں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچادیا ہے اور یہ سب ماں کی عظمت سے انکار، اس کی بے حرمتی اور بے توقیری کا نتیجہ ہے۔ اللہ ہمیں ماں باپ کی بے توقیری، بے ادبی سے محفوظ رکھے۔ اس لیے کہ والدین کے دَم قدم ہی سے دین و دنیا کی راحتیں ہیں اور بے شک، ماں کے قدموں تلے ہی جنّت ہے۔ (امّ ِمحمد مشک، کوئٹہ)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر، ’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

سنڈے میگزین سے مزید