• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دلیے کے استعمال کے صحت پر حیرت انگیز اثرات

غذائی ماہرین کی جانب سے جو یا گندم کے دلیے کو انسانی صحت کے لیے قدرت کی طرف سے خزانہ قرار دیا جاتا ہے، غذائیت سے بھرپور دلیے کے استعمال کے صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں جنہیں جاننا اور اسے بطور غذا روٹین میں شامل کرنا نہایت ضرری ہے۔

ماہرین کے مطابق دلیے کے استعمال کے نتیجے میں دل، معدے، گردوں اور آنتوں کی صحت بہتر اور کینسر کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے، جو اور گندم کا دلیہ وٹامنز، معدنیات، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور غذا ہے، سائنسی تحقیق میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دلیہ کا ایک چھوٹا پیالہ کھانے کے نتیجے میں صحت بہتر اور زندگی کا دورانیہ طویل ہوتا ہے۔

دلیے کا استعمال جہاں فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے وہیں اس کے استعمال سے بے وقت کی بھوک میں کمی واقع ہوتی ہے جس کے سبب وزن میں کمی اور اضافی چربی کا خاتمہ ہوتا ہے، دلیے کے استعمال سے خون میں موجود مضرِ صحت منفی کولیسٹرول اور شوگر کی سطح بھی متوازن رہتی ہے۔

ماہرینِ غذائیت اور ڈائٹیشنز کے مطابق 100 گرام دلیے میں 389 کیلوریز، 8 فیصد پانی، 66.3 گرام کاربز، 16.9 گرام پروٹین، 10.6 گرام فائبر جبکہ 6.9 گرام فیٹ ہوتا ہے اور وٹامنز اور منرلز سے بھر پور دلیے میں 0 گرام شوگر پائی جاتی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر دلیے کے استعمال سے مجموعی صحت پر آنے والے چند مثبت اثرات مندرجہ ذیل ہیں:

نظام ہاضمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فائبر کا استعمال بہت ضروری ہے، دلیے میں فائبر کی مخصوص قسم ’بیٹا گلوکین‘ پائی جاتی ہے جس کی مدد سے جسم میں غذائیت بہتر طریقے سے جذب اور آنتوں کی صفائی ہوتی ہے، بیٹا گلوکین کا اگر روزانہ استعمال کیا جائے تو اس کی مدد سے کولیسٹرول لیول متوازن رہتا ہے، قدرتی طور پر انسولین کی متوازن افزائش ہوتی ہے جبکہ معدے میں گُڈ بیکٹیریاز کے بننے کے عمل میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

جو کے دلیے میں فیٹ کی کم مقدار اور شوگر 0 فیصد پائے جانے کے سبب اس کے روزانہ استعمال سے وزن میں کمی آتی ہے، دلیے میں فائبر کی بھاری مقدار پائے جانے کے سبب پہلے سے موجود چربی کو بھی پگھلنے میں مدد ملتی ہے، انسانی جسم کو جب اضافی شوگر اور فیٹ ملنا بند ہو جاتا ہے تو جسم قدرتی طور پر پہلے سے اپنے اندر موجود چربی اور شوگر کا استعمال شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں ورزش کیئے بغیر ہی چربی پگھلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور وزن میں کمی آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی صحت کے لیے اینٹی آکسیڈنٹ غذاؤں کا استعمال نہایت لازمی ہے کیوں کہ ان کی مدد سے ہی جسم اور خون میں موجود مضرِ صحت مادوں کو زائل ہونے میں مدد ملتی ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹ کی کئی اقسام ہیں جن میں سے دلیے میں پولیفینول نام کا اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے، دلیے کے استعمال سے سوجن اور خارش جیسی شکایات میں بھی آرام ملتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق مرغن اور مسالےدار غذاؤں سے اجتناب کرنا چاہیئے خصوصاً 30 سال کی عمر کے بعد، ان غذاؤں کے سبب بلڈ پریشر اور شوگر لیول بڑھتا ہے، بلڈ پریشر براہِ راست دل پر اثر انداز ہو کر دل کے عارضے میں مبتلا کر سکتا ہے۔

ماہرینِ غذائیت اور ماہرینِ جلدی امرض کے مطابق انسانی جلد کی صحت کا براہِ راست تعلق غذا سے ہوتا ہے، اگر مسالے دار مرغن غذاؤں کا استعمال کریں گے تو چہرے پر کیل، مہاسے، جھائیوں کے بننے کا عمل تیز ہو جائے گا جبکہ جلد پر جھریاں بھی وقت سے پہلے آ جائیں گی، دلیے کے روزانہ استعمال سے ایک مہینے کے دوران ہی آپ کے چہرے کی جلد میں نمایاں اور مثبت اثرات آتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی دلیے کا استعمال شروع کروا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں بچے دمے سے بچ سکتے ہیں جبکہ دلیے کے استعمال سے قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے اور یہ موسمی انفیکشن سے بچوں کی حفاظت بھی کرتا ہے۔

بچوں کو دمے کے مرض سے بچانے کے لیے ان کی پہلی ٹھوس غذا میں دلیے کا استعمال ضرور رکھیں۔

صحت سے مزید